ہماچل پردیش کا چندرا بھاگا
ہماچل پردیش کا چندرا بھاگا
میرا دوست اور میں دریائے چناب کی طرف جا رہے تھے ۔ ہم سیالکوٹ سے موٹرسائیکل پرسوارتھے کیونکہ کچے پکے، ٹیڑے میڑے راستوں پر گاڑی کی بجائے موٹرسائیکل ہی ساتھ نبھاتی نظرآ رہی تھی جسے میرا دوست مہر مومن چلا رہا تھا۔ ہمارے راستہ میں گوندل قصبہ آتا ہے جو دریائی بند کے پاس ہے ۔ ہم وہاں سے کچے راستے پر ہوتے ہوئے دریائے توی تک پہنچے تھے ۔ اِس کے بعد ہمارا دریائی سفر شروع ہوتا ہے۔ ہم موٹر سائیکل سمیت کشتی پر سوار ہوئے اوردریا کو پار کیا۔ کچا پکا ،اونچا نیچا، ٹیڑا میڑا،ریتلا علاقہ پیچھے چھوڑتے ہم میلوں سفرکرکے یہاں پہنچے تھے۔ جس جگہ پر میں کھڑا تھا یہ تاریخ کا وہ مقام ہے جہاں سے دریائے چناب پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ یہ پنجابی لفظ ،،چن،، سے چاند اورفارسی لفظ ،، آب،،(پانی) سےمل کربنا ہے یہ دریا ،، چندر،، اور ،، بھاگ،، کے اتصال سے وجود میں آتا ہے۔ بھارت میں یہ دریا ،، چندر بھاگ ،، کہلاتا ہے ۔ یہ دریا پاکستان میں ایسی ہی دیومالائی حثیت رکھتا ہے جیسی،، رائسن،، جرمن یا ،، ڈینوب،، آسٹروی، ہنگری کیلئے ہے، ہیررانجھا، سوہنی مہینوال کی لوک داستانوں میں چناب کا بڑا اہم کردار ہے۔ یہ سیالکوٹ کے گاوۤں،کھنڈ بھانی ،خانہ بھاو،موضع کلیال، جوگ، دیاورہ،پاپین،گنگوال،ڈیرہ منہاساں،صدر پورہ،غازی پور،علاقہ بجوات ہے ۔اِس جگہ سے دریا انڈیا کے سرحدی علاقہ سے وسیع پاٹ میں ضلع سیالکوٹ پاکستان میں داخل ہوتا ہے جس کے ایک کنارے پر پاکستان کی سرحدی پوسٹ ہے جبکہ دوسری طرف مقبوضہ جموں کشمیر کے دیہات ہیں یہاں سے بارڈر سکیورٹی فورس کا ٹاور واضح نظر آ رہا ہے ۔ یہ دریائے چناب ریاست جموں کشمیر کے شہر اکھنور کے درمیان میں سے ہوکر گزرتا ہے ۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابیں،رگ وید اورمہا بھارت کے بیان کے مطابق یہ دریا کالے مٹیالے، گدلے،میٹھے پانیوں کا دیوتا بولتے ہیں ۔ یہ کشمیر کی وادیوں سے اوپر اَپرہمالیہ لہل ریجن، ہماچل پردیش کی چھوٹی چھوٹی ندیوں سے بنے دو نالے چندرا اور بھاگا سے مل کر دریا سا بن جاتا ہے۔ جو کشمیر کی خوبصورت وادیوں کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں اور شہروں کشتواڑ اور ڈھوڈا سے ہوتے ہوئے آپس میں ملکر ایک دریا بن جاتا ہے ۔ جو جموں کے خوبصورت شہر اکھنورکے درمیان بہتے ہوئے انڈیا،پاکستان بارڈرکراس کرتے ہوئے سیالکوٹ شہر سے چند کلومیٹر شمال میں ہیڈ مرالہ سے پہلےعلاقہ بجوات سے پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ پانچ دریاوں کی سر زمین پنجاب کا سب سے بڑا دیوتا دریا ہے ۔ ہندوؤں کی دیو ملائی داستانیں، قصے ، کہانیانیوں کے مطابق یہ ندیاں، یہ نالے، یہ دریا دیوی دیوتا ہیں جو اپنے بچوں کو روٹی،روزی،پھل،پھول، فصلیں، زندگی، دیتے ہیں ۔ یہ میٹھے پانیوں کا دیوتا دریائے چناب انڈیا کی طرف سے ایک پاٹ میں بہتا ہوا آتا ہے اور پاکستان سیالکوٹ بارڈر پر داخل ہوتے ہی دو شاخوں میں بٹ جاتا ہے ۔ اس کے بعد تین چار کلومیٹر کا جزیرہ بناتے ہوے پھر یہ دو شاخیں ایک ہو جاتی ہیں ۔ اِس مقام سے آگے دریائے توی بھی چناب میں مل جاتا ہے۔ جو کشمیر کے ضلع ڈھوڈا کی وادیوں کے اوپر ایک مقام کیلاش کنڈ یا کالی کنڈ گلیشیر سے نکلتا ہے ۔ جو قریب ایک سو اکتالیس کلومیٹرسفر کرتے ہوئے شاخوں میں بٹتے، ملتے خوبصورت شہر جموں تک پہنچتا ہے۔ جو دریا کے کنارے صدیوں سے آباد ہے ۔ یہاں پر ہندووں کا ایک قدیم مندر بھی ہے۔ اِس کو کراس کرتے ہوئے ایک شاخ سیالکوٹ بجوات کے چپراڑ سیکٹر کے جنگل میں بہتے ہوئے اور دوسری شاخ سرحدی گاوۤں جھومیاں کے مقام پر پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے ۔ یہ قصبہ سید پور پل سے پہلے پھر اکھٹے ہو جاتے ہیں جوآگے اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے غازی پور گاوۤں کے جنگلات کے ساتھ ہوتے ہوئے چناب میں گر جاتا ہے ۔ ایک تیسرا چھوٹا دریا مناورا توی جموں کشمیر اکھنور سے اوپر شمال کی طرف سے بہتے ہوئے آتا ہے اور ضلع بھمبر، کشمیر کے گاوۤں مناورا سے پہلے آزاد کشمیر،پھر گجرات کے گاوۤں سرخ پور کے پاس سے ہوتے ہوئے ہیڈ مرالہ کے مقام پر چناب سے آملتا ہے ۔ اس کے بعد ہیڈ مرالہ سے دریائے چناب مغرب میں اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ اس طرح کئی چھوٹے بڑے ندی نالے کشمیر سے سیالکوٹ میں داخل ہوتے ہیں ۔ جن میں دو بڑے نالے پلکھواورنالہ ایک جو سیالکوٹ شہر کے اندر سے ہو کر گزرتے ہین جو سمبڑیال سے اگے وزیر آباد کے قریب دونوں نالے چناب میں گرجاتے ہیں۔ اس طرح مٹیالے میٹھے پانیوں کا پنجاب کا سب سے بڑا دریا ہیڈ خانکی،ہید قادرآباد سے نکلتی نہروں میں اپنا پانی تقسیم کرتے ہوئے اگے چنیوٹ اور جھنگ کو سیراب کرتے ہوئے ہیڈ تریموں پر جا پہنچتا ہے۔ اِس مقام پرمزید نہروں میں پانی تقسیم کرتے ہوئے دریائے جہلم کو ساتھ لیکر پنجند کے مقام پرراوی، بیاس،ستلج سے گلے ملتا ہے۔ یہ ہیڈ پجند ہے جہاں یہ دریا ایک دوسرے سے ملتے ہیں ۔ یہ ایک دوسرے سےملتے ، اٹھکھیلیاں کرتے پندرہ سو کلو میٹر کا سفر طے کرتے راجن پور، شکار پور سے ہوتے کوٹ مٹھن کے مقام پر سندھ ساگر سے ہم آغوش ہو جاتا ہے ۔ یہ موہنجوداڑو کی وادی سندھ کو اپنے خزانے لٹاتے ہوئے ٹھٹھہ بدین کے مقام پر سمندر میں جاملتے ہیں ۔ ہند کی تقسیم سے قبل ایک خوبصورت ریلوے ٹریک اورسڑک سیالکوٹ شہر سے جموں شہر تک جاتی تھی۔ یہ دونوں راستے سرحدی لکیر کھنچ جانے پراجڑ کر ویران ہو چکے ہیں۔ میرا آبائی ضلع سیالکوٹ ہے ۔ میں نے نارنگ منڈی،بدوملہی،رعیہ خاص،بارہ منگا، نیناں کوٹ،اخلاص پور، بڑابھائی مسرور،سکھو چک چھمال، چک اَمرو،ڈیلرہ،چتر،ظفروال،کنگرہ،سچیت گڑھ سے ہوتے ہوئے چپراڑ، پھو کلیان کے بعد کشمیر میں بارڈر کے ساتھ ساتھ لمبا سفر کیا ہے ۔ یہ نہایت سرسبزاور شاداب علاقہ ہے ۔ انسان نے دھرتی ماتا پر لکیریں کھینچ کر اپنے راستے بند کر لیئے ہیں یہاں بہتے ہوئے پانیوں، چلتی ہوئی ہواؤں،اڑتے ہوئے پنچیوں نے کسی قسم کی پابندیوں کو نہیں مانا وہ آج بھی اپنی مرضی سے اپنے راستوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ، پنچھی اڑتے چلے جاتے ہیں ، ہوائیں چلتی جاتی ہیں نہ کوئی ان کو روک سکا یے نہ کوئی انہیں روک سکے گا۔ یہ صدیوں سے بہتے ہوئے میرے بھاگا، چندرا، مٹیالے کالے پانیوں والے چناب کا سفر ہے جو وہ ہمیشہ جاری رکھے گا اور اپنے بچوں ، باسیوں کی پرورش کرتا رہے گا
شاہد محمود سیالکوٹ
05/10/2025