October 9, 2026

پاکستان کا نیا تزویراتی موڑ

IMG-20250923-WA0272(9)

پاکستان کا نیا تزویراتی موڑ

دنیا بدل رہی ہے، طاقت کے توازن پلٹ رہے ہیں، اور پاکستان ایک نئے جیو اسٹریٹیجک موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں نہ صرف ہمارے فیصلے بلکہ ہماری سمت بھی آنے والے کئی عشروں کی تقدیر طے کرے گی۔

گزشتہ برسوں میں پاکستان ہمیشہ عالمی طاقتوں کے بیچ کِھلاوا رہا۔ کبھی امریکہ کے ساتھ تعلقات “ڈو مور” کے مطالبوں میں الجھے رہے، کبھی بھارت کے ساتھ دشمنی نے ہمیں عسکری اور سفارتی محاذ پر مصروف رکھا، اور کبھی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ہم توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن حالیہ چند مہینوں کی پیش رفت نے بازی پلٹ دی ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف کا چین کا دورہ اور سی پیک 2.0 کی بحالی دراصل پاکستان کی معیشت کے لیے نئی ہوا کا جھونکا ہے۔ اب یہ منصوبہ محض سڑکوں اور پلوں تک محدود نہیں بلکہ برآمدات، توانائی، ماحولیات، ڈیجیٹل پاکستان اور عوامی بااختیاری جیسے پہلوؤں پر مرکوز ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو پاکستان کو صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ خطے کا اقتصادی مرکز بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی دوران سعودی عرب کے ساتھ “اسٹریٹیجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ” (SMDA) نے دنیا کو حیران کر دیا۔ کئی دہائیوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب نے اپنے دفاع کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اگر پاکستان پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو سعودی عرب اسے اپنے اوپر حملہ سمجھے گا، اور اگر سعودی عرب پر کوئی وار ہوتا ہے تو پاکستان کو بھی میدان میں اترنا ہوگا۔ یہ معاہدہ صرف ایک دفاعی ڈیل نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک نیا “اجتماعی سلامتی ماڈل” ہے۔

اسی تناظر میں صدر ٹرمپ، وزیرِاعظم شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس ملاقات نے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ برسوں بعد واشنگٹن نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان محض ایک “کرائے کا اتحادی” نہیں بلکہ خطے کی اصل ضرورت ہے۔ امریکہ کو افغانستان سے خطرات روکنے ہیں، اسے مشرقِ وسطیٰ میں توازن قائم رکھنا ہے اور اسے معدنی وسائل کی تلاش بھی ہے۔ یہ سب کچھ پاکستان کے بغیر ممکن نہیں۔

دوسری طرف بھارت کی پوزیشن دن بہ دن کمزور ہو رہی ہے۔ مئی کی جنگ میں بھارتی فوج کی شکست نے اس کی “عالمی طاقت” بننے کی خواہش پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ امریکہ بھی اب اس حقیقت کو مان رہا ہے کہ بھارت صرف فائدہ اٹھانا جانتا ہے، ذمہ داری اٹھانا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کی نظریں اب دوبارہ اسلام آباد کی طرف اٹھ رہی ہیں۔

ایران کے رویے میں بھی حیران کن تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ برسوں تک سعودی عرب اور ایران دشمنی کی لکیر پر کھڑے رہے۔ لیکن اسرائیل کے ساتھ جنگ اور بھارت کی دوغلی پالیسی نے ایران کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب تہران بھی اس نئے اسلامی سلامتی ماڈل کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے جس میں عسکری قیادت پاکستان کے ہاتھ میں اور معاشی طاقت سعودی عرب کے پاس ہوگی۔

ان تمام تبدیلیوں کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی جیو اسٹریٹیجک اہمیت بڑھ رہی ہے۔ خطے میں بھارت کا تاثر کمزور ہو رہا ہے، امریکہ پاکستان کی طرف واپس آ رہا ہے، چین پہلے ہی ہمارے ساتھ کھڑا ہے، سعودی عرب اور ایران قریب آ رہے ہیں اور مسلم دنیا میں پاکستان کو ایک نئی قیادت کا موقع مل رہا ہے۔

یہ لمحہ پاکستان کے لیے غیر معمولی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع سے فائدہ اٹھا پائیں گے؟ یا ہمیشہ کی طرح وقتی کامیابی پر خوش ہو کر پھر ہاتھ سے سب کچھ نکلنے دیں گے؟ ہمارے سیاستدانوں، عسکری قیادت اور بیوروکریسی کو ایک ہی صفحے پر آ کر یہ سمجھنا ہوگا کہ اب یہ صرف “خارجہ پالیسی” نہیں بلکہ “بقا کی پالیسی” ہے۔

پاکستان کے عوام بھی اس منظرنامے میں کلیدی کردار رکھتے ہیں۔ ایک مضبوط معیشت، مستحکم سیاسی نظام اور داخلی اتحاد کے بغیر کوئی بھی بڑا معاہدہ یا عالمی حمایت زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس نئے جیو اسٹریٹیجک موقع کو تاریخ کا موڑ بناتے ہیں یا ایک اور ضائع شدہ موقع کی فہرست میں شامل کر دیتے ہیں۔@@@@@@@@@@@@@