September 1, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

ڈیجیٹل اثاثے اور پاکستان کا نیا سفر

IMG-20250719-WA0158(9)
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

ڈیجیٹل اثاثے اور پاکستان کا نیا سفر

اسلام آباد سے آنے والی خبر نے پاکستان کی معیشت اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بدھ کے روز حکومت نے باضابطہ طور پر ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کا آغاز کیا اور بین الاقوامی کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے درخواستیں دینے کی دعوت دی۔ یہ اقدام محض ایک ریگولیٹری فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کی مالیاتی سمت کے تعین میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی غیر ریگولیٹڈ کرپٹو کرنسی مارکیٹوں میں شمار ہوتا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہاں تقریباً 4 کروڑ کے قریب افراد کرپٹو کرنسی سے منسلک ہیں اور سالانہ تجارتی حجم 300 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ یہ اعداد و شمار حیران کن بھی ہیں اور پریشان کن بھی۔ حیران کن اس لیے کہ ایک ایسی معیشت جسے اکثر زرمبادلہ کے ذخائر اور قرضوں کی تنگی کا سامنا رہتا ہے، وہاں کرپٹو کرنسیوں کی غیر رسمی دنیا میں اربوں ڈالر کا لین دین ہو رہا ہے۔ پریشان کن اس لیے کہ یہ تمام کاروبار کسی ضابطے یا نگرانی کے بغیر جاری ہے، جس کے باعث نہ صرف صارفین کے سرمائے کو خطرات لاحق ہیں بلکہ ریاست کو بھی بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔

پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام اسی تناظر میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے پہلے ہی اس شعبے کو منظم کرنے کے لیے قوانین بنائے ہیں۔ پاکستان اگر اس شعبے کو باضابطہ فریم ورک کے تحت لے آتا ہے تو نہ صرف صارفین کو تحفظ ملے گا بلکہ ریاست کو بھی اس کاروبار سے ٹیکس اور سرمایہ کاری کے فوائد حاصل ہوں گے۔

حکام نے یہ شرط عائد کی ہے کہ جو کمپنیاں پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی خدمات دینا چاہیں گی، انہیں سب سے پہلے بین الاقوامی ریگولیٹرز سے لائسنس یافتہ ہونا ضروری ہے۔ اس شرط کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے صرف سنجیدہ اور معتبر ادارے ہی پاکستان کی منڈی میں داخل ہو سکیں گے۔ مزید یہ کہ درخواست دہندگان کو “اپنے صارف کو جانیں” (KYC) کے عالمی معیار پر بھی عمل کرنا ہوگا، تاکہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور غیر قانونی سرمایہ کاری جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی مالیاتی اور قانونی ڈھانچے کی استعداد اتنی ہے کہ وہ اتنے بڑے اور پیچیدہ شعبے کو سنبھال سکے؟ کرپٹو کرنسی نہ صرف مالیاتی لین دین کا ایک نیا باب ہے بلکہ اس میں ٹیکنالوجی، بلاک چین، سائبر سکیورٹی اور عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔ اگر حکومت نے صرف قانون سازی پر اکتفا کیا اور اداروں کو مضبوط نہ بنایا تو یہ قدم ناکام بھی ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب اس اقدام میں بے پناہ مواقع بھی چھپے ہیں۔ اگر پاکستان اپنی بڑی نوجوان آبادی، آئی ٹی کے شعبے کی بڑھتی ہوئی مہارت اور عالمی کرپٹو سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو یکجا کر لے تو یہ شعبہ پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بیرونی سرمایہ کاری بھی ممکن ہوگی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کرپٹو کرنسی کے بارے میں دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ ایک طرف اسے مستقبل کی معیشت کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اسے خطرناک “ڈیجیٹل قمار” کہا جا رہا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف ریگولیٹری فریم ورک بنائے بلکہ عوام کو بھی اس حوالے سے آگاہی دے۔ کرپٹو کرنسی کے فوائد اور نقصانات سے متعلق عوامی شعور پیدا کیے بغیر یہ شعبہ مزید مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے۔

پاکستان نے بلاشبہ ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ قدم محض ایک کاغذی کاروائی ثابت ہوتا ہے یا واقعی معیشت کو نئی راہ دکھاتا ہے۔ وقت کا امتحان یہی بتائے گا کہ یہ فیصلہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کی دنیا میں صفِ اول کی صف میں لا سکتا ہے یا پھر یہ بھی ایک ادھورا تجربہ بن کر رہ جائے گا۔

@@@@@@@@@@@@@@@@

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0