September 3, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سالانہ تاریخی میلہ بابا سیدن شاہ ، علاقائی ثقافت کا آئینہ دار خصوصی تحریر: راجہ نورالہیٰ عاطف

IMG-20250912-WA0214(10)
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سالانہ تاریخی میلہ بابا سیدن شاہ ، علاقائی ثقافت کا آئینہ دار

خصوصی تحریر: راجہ نورالہیٰ عاطف

پنجاب کی دھرتی اپنی زرخیزی، رنگا رنگ روایات اور دلکش ثقافت کے باعث دنیا بھر میں منفرد پہچان رکھتی ہے۔ یہاں کے میلوں کو ہمیشہ سے ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ یہ میلوں ٹھیلوں کی سرزمین نہ صرف لوگوں کو تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ صدیوں پرانی ثقافتی اقدار اور سماجی تعلقات کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔
پنجاب کے دیہی میلوں کو اگر “ثقافت کے آئینہ دار” کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہیں جہاں لوگ اپنی خوشیاں بانٹتے ہیں، کھیلوں اور مقابلوں کا انعقاد ہوتا ہے، دستکاری اور ہنر مندی کے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں اور صوفیانہ شاعری و موسیقی دلوں کو سکون عطا کرتی ہے۔ گھوڑا دوڑ، کشتی، نیزہ بازی، گھوڑا ناچ ،اونٹ ناچ ،کبڈی اور بیل گاڑی کی دوڑ جیسے مقابلے ان میلوں کی جان ہوا کرتے ہیں، جو محض کھیل نہیں بلکہ پنجابی سماج کی جرات اور توانائی کی علامت ہیں۔
یہ میلے صدیوں پرانی لوک روایت کو زندہ رکھتے ہیں۔ ان میں وہ رنگ، خوشبو اور محبت جھلکتی ہے جو پنجاب کی دھرتی کی پہچان ہے۔ لوک گیت، جھومر اور دھمال بھی پنجاب کے ان میلوں کا حصہ ہیں اور یہ نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ دستکار اپنی محنت سے تیار کردہ مٹی کے برتن، چوڑیاں، کپڑے اور کھلونوں کی نمائش کرتے ہیں، جو نہ صرف گاؤں کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں بلکہ ثقافت کو دوام بھی بخشتے ہیں۔
پنجاب کے میلوں کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ محض تفریحی میل جول نہیں بلکہ اتحاد و یگانگت کی علامت بھی ہیں۔ لوگ دور دراز علاقوں سے سفر طے کرکے میلوں میں شریک ہوتے ہیں، جس سے بھائی چارہ اور قربت پروان چڑھتی ہے۔ یہ اجتماعات اس بات کا اظہار ہیں کہ پنجابی عوام اپنی ثقافت اور روایت سے کس قدر محبت رکھتے ہیں۔
جدید دور میں اگرچہ شہری زندگی کی مصروفیات اور ٹیکنالوجی نے میلوں کی چمک دمک کو کچھ کم کیا ہے، مگر آج بھی پنجاب کے دیہی علاقے اپنی روایات کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ میلے ہمیں اپنی جڑوں سے جوڑے رکھتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ اصل خوشی سادگی، محبت اور اجتماعی تہذیبی اقدار میں پنہاں ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے میلے اس خطے کی روح ہیں۔ یہ نہ صرف ماضی کی جھلک دکھاتے ہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک پیغام بھی دیتے ہیں کہ اپنی ثقافت کو زندہ رکھنا ہی حقیقی خوشحالی اور اجتماعی شناخت کی ضمانت ہے۔ سالانہ تاریخی میلہ حضرت بابا سیدن شاہ بخاری 20 سالہ سال سے نورپور تھل میں منعقد ہوتا چلا آرہا ہے ۔ اس تاریخی میلے کے متعلق مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں جو سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں ۔ ایک روایت کے مطابق حضرت بابا سخی سیدن شاہ بخاری کو درا دین پناہ سے ان کے مرشد کی جانب سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اسلام کی تبلیغ کے لیے علاقہ تھل کو اپنا مسکن بنائیں ۔ یہاں ا کر اپ نے موجودہ گورنمنٹ ہائی سکول فار بوائز نورپرسال کے نزدیک (جہاں آپ کا مزارہے) تبلیغ اسلام کا کام شروع کیا دیکھتی دیکھتے اپ یقینا مندوں کی تعداد میں اضافہ ہونےلگا ۔ ایک اور روایت کے مطابق ایک مرتبہ برصغیر میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی جس کے نتیجے میں ہر گھر میں اموات واقع ہونے لگیں ان دنوں دربار کے نزدیک سکھوں کا ایک مکھن خاندان اباد تھا انہوں نے طاعون کی وبا سے بچنے کے لیے دربار بابا شاید ان شاہ بخاری میں پناہ لی اور پورا سخان بیماری سے محفوظ رہا جو ہی تو ان کی وبا ختم ہوئی مکھڑ خاندان دربار کے ہاتھوں سے باہر ایا اور خوشی کے اظہار کے لیے دربار کے سامنے کھلے میدان میں یکم دو ساون کو اونٹ دوڑائے اور یوں اس تاریخی میلہ کی ابتدا ہوئی ۔ مکر خاندان کے ایک شخص نے اسلام قبول کر لیا جس کا نام غلام رسول رکھا گیا اور اس کی اولاد آج بھی نورپور تھل میں موجود ہے ۔ اگرچہ یہ تاریخی میلہ اوائل میں ماز اونٹوں کی دوڑ تک محدود تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے پروگراموں میں جدت آتی گئی اور ان میں مختلف علاقائ کھیلوں کے مقابلے اور دیگر رنگا رنگ پروگرامز شامل ہو گئے ۔ یہ سالانہ تاریخی میلہ امسال بھی کنوینیر میلہ اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ہارون احمد شیراز کی طرف سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق منعقد کیا جائے گا ۔ سالانہ تاریخ میلہ بابا سائدن شاہ کی تین روزہ تقریبات مورخہ چار پانچ اور چھ اکتوبر کو نور پور تھل میں منعقد ہوں گی ۔ ان تقریبات میں وفاقی پارلمانی سیکرٹری برائے وزارت مواصلات و ایم این اے انجینیئر ملک گل اصغر خان بگھور، ایم پی اے سردار علی خان بلوچ ، ڈپٹی کمشنر خوشاب فروا عامر ڈی پی او خوشاب ڈاکٹر عمارہ شیرازی اور ڈی ایس پی نورپورتل عدیل شکور بطور مہمانان خصوصی شرکت کریں گے جب کہ میلہ تقریبات کی نگرانی ایس ایچ او تھانہ نورپور تھال مہر محمد توقیر ، ایس ایچ او تھا جوڑا کلا اجمل فاروق اورچیف افیسر ایم سی مہر نعیم منظور کریں گے ۔ میلہ تقریبات کے معاونین میں ملک گل ایاز خان بگھور ، انجینیئر ملک طاہر ندیم بگور ملک وقاص احمد بگھور
سردار حاجی ظفر عباس خان بلوچ محمد اقبال خان سنبل اور ملک ممتاز حسین چوہان کے نام شامل ہیں ۔ عوامی تفریح کے لیے نیز عباسی پر کوڈی گھوڑا ڈانس اونٹ منڈی میوزیکل نائٹ اتش بازی اور لکی ایرانی سرکس سمیت دیگر رنگا رنگ پروگرامز شامل ہیں۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0