September 2, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

ہاں وہی عورت ہوں میں کمرا کسی مذبح خانے کا سا منظر پیش کر رہا تھا

Screenshot_2026-09-01_203205.291
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

ہاں وہی عورت ہوں میں
کمرا کسی مذبح خانے کا سا منظر پیش کر رہا تھا. بستر کی چادر آدھی بیڈ کے اوپر تھی اور آدھی سلوٹوں کی آڑ میں آڑی ترچھی فرش پہ، سائیڈ ٹیبل ایک تو اوندھے منہ الٹا پڑا تھا اور دوسرا ترچھے رخ پہ شیشے کے گلا س بھی کرچی کرچی ہو کے جا بجا ماربل کے فرش پہ بکھرے پڑے تھے خون کے بے شمار چھینٹے تھے جنہوں نے فرش، دیواروں، ٹیوب لایٹس، اےسی، چھت کے پنکھے، دیوار گیر الماری پہ ایبسٹریکٹ آرٹ کے کءی شاہکار تخلیق کر دیے تھے ایک خوبرو اور نوجوان خاتون کا بے حس و حرکت وجود لال ملبوس میں دائیں کروٹ آڑا ترچھا پڑا ہوا تھا اس کا لبادہ جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا اور خون کی چھوٹی چھوٹی ندیاں ابھی بھی سرخ لبادے سے رواں دواں تھیں اس مذبح خانے میں چند ساعت پہلے تک دو جیتے جاگتے انسان سانسوں کی روانی، دل کی دھڑکن اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ زندگی زندگی کھیل رہے تھے اچانک ہی خاتون کے موبائل کی بیل بجی خاتون نے کال کاٹ دی شوہر نے پوچھا کس کا فون تھا عورت آئیں بائیں شاءیں کرنے لگی تکرار بڑھ گءی گھتم گتھا ہوے مرد زور آور تھا اور مرد اپنی جسمانی ہییت کی بنا پہ شروع سے ہی زور آور رہا ہے عورت کی بدقسمتی کہ مرد کے ہاتھ میں ایک چھوٹی قینچی آ گءی مرد نے قینچی لہراتے ہوے کون تھا?
کون تھا کی تکرار میں عورت پہ ایک ننھی منھی قینچی سے چند منٹوں میں اتنے وار کیے کہ عورت جان سے بھی گءی اور اس کا مردہ پوری عورت جاتی کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا ذرا غور فرمائیے گا.
ہاے ری میری قسمت
نرم و نازک پھولوں سی
شاخ کوئی لچکیلی سی
بابا کی شہزادی میں
بھائیوں کی میں راج دلاری
اپنی ماں کی آنکھ کا تارہ
دنیا کے ہاتھوں میں تو پھر
ہو گءی میں لیرو لیر
مالک کیا میری تقدیر
تو کہانی وہی عام سی تھی مرد کا شک اس کی سوی ہوی غیرت پہ یکدم اتنا ظالم وار کرتا ہے کہ غیرت پھولوں جیسی ایک سندر نار کو چند منٹوں میں لہو اور زخمی تن کی ایک لاش کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کر دیتی ہے. غور فرمائیے گا غیرت کے نام پہ پوری دنیا میں صرف عورت ہی کی بلی چڑھای جاتی ہے. غیرت کا مطلب ہے عزت اور مرد کی عزت اس وقت خراب ہو جاتی ہے جب اس کی عورت کسی غلط قسم کی کارروائی میں ملوث ہو کے موقع پہ رنگے ہاتھوں پکڑی بھی جاے. اور کچھ مرد لوگ تو اتنے باغیرت ہوتے ہیں کہ اپنی عورتوں کو مار کے خود بھی موت سے نہیں ڈرتے. جیسے افغان نژاد محمدشفیعہ کے یہ الفاظ جو انھوں نے2012 میں اپنی تین بیٹیوں اور پہلی بیوی کے قتل کےمقدمے کے دوران ادا کیے
اگر وہ مجھے سولی پہ بھی
لٹکا دیں تو مجھے میری عزت سے پیاری کوئی چیز نہیں. انھوں نے کہا کہ وہ دھوکے باز تھیں.
Domestic violence اور عورتوں کے پیچھے وہی صدیوں پرانی بزدلی اور خواہش بے جا ہے کہ عورت کو کنٹرول کیا جاے
اکیسویں صدی کے اس انتہائی ٹیکینیکل اور ماڈرن زمانے میں
جہاں عورتیں کل آبادی کا تقریباً پچپن فیصد ہیں اور خواتین تقریباً تمام فیلڈز میں ترقی کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں تو کیا آنے والے وقتوں میں مرد نامی اس عفریت کو اس چھوی موی عورت کو غیرت کے نام پہ قتل کرنا زیب دے گا یا کیا کوئی بھی مہذب معاشرہ اس ظلم و بر بریت کی اجازت دے گا.؟
میرے خیال میں تو اس ذہنی خبط اور پاگل پن کے خاتمے کے لیے ہر سطح پہ اقدامات کی اشد ضرورت ہے.
مایا علی ایک ٹاپ کی ماڈل تھی جس کی شادی ایک جاگیر دار سے طے تھی ولیمے والے دن دولہن کا جنازہ تھا جاگیر دار صاحب دولتمند تو تھے مگر شعور سے کوسوں دور ہزاروں ہاریوں کی کمسن بیٹیوں کے بلاد کار کرنے والے جاہل جاگیر دار کوبھی بیوی باکرہ ہی چاہیے تھی اور جب بیوی اس کے طے کردہ معیار پہ پوری نہ اتر سکی تو اس نے لال جوڑے میں سجی سجای دولہن کے سینے میں گولی اتار کے اس کے گھر والوں پہ اس کے کردار اوردوشیزگی پہ سوالیہ نشان داغ دیا حیف اس ذہنی پس ماندگی پہ. اس موقع پہ مجھے اپنی نظم سزا یاد آ گءی آپ بھی سنییے.
سزا
کیا خوب کہا تھا
عیسٰی نے
زانی کو سزا
تو لازم ہے
پر
پہلا سنگ وہ برسائے
جو پاک ہو
مریم کے جیسا
تو ہمارا معاشرہ اس نہج پہ ہے کہ
جیہڑا لچا اوہی اچا
دنیا Global village کیا بنی مشرقی لوگ بھی مغربی رنگ میں رنگنا شروع ہو گیے. مادر پدر آزاد لوگوں نے گھروں کو چھوڑ کر اپارٹمنٹ میں رہنا شروع کر دیا پہلے لوگ شادی کا جھنجھٹ پالتے تھے پھر دیکھنے اور سننے کو ایک نیی اختراع ملی
Living relationship
جس میں لڑکا لڑکی یا مرد عورت بنا نکاح کے مقدس بولوں کے میاں بیوی کی طرح رہتے سہتے ہیں. نور مقدم کیس اسی loving relationship کے شاخسانے میں خواہ مخواہ اپنے دوست جعفر طیار کے ہاتھوں 20 جولائی 2021 میں آیس کے نشے میں دھت جانور کے ہاتھوں اتنی بے دردی سے قتل ہوی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا تھا. یہ عورت کی کسمپرسی کی ایک دوسری انتہا ہے.
میں بنت حوا
یا میں واری گءی
یا میں ماری گءی
بخت ہارے میرے
میں تو ساری گءی
پسر آدم مجھے آزماتا رہا
میری ارتھی پہ جھنڈے لگاتا رہا
یا میں واری گءی
یا میں ماری گءی
میں تو تھی شاخ گل
ایک سندر کنول
کس طرح تیری خوشیوں پہ واری گءی
یا میں واری گءی.
یا میں ماری گءی
اس طرح کیا تیری بیقراری گءی
تو تمام اہل دنیا یہ بات دھیان سے ذہن نشین کر لیں کہ جب تک وہ عورت کو اس کے عورت ہونے کا مان، زعم، غرور نہیں دیں گے ایسی ہی لولی لنگڑی اقوام اور معاشرے تکمیلِ پاتے رہیں گے یاد رکھیے گا عورت گھر بناتی ہے اور اگر عورت گھر برباد کرنے پہ آ جاے تو دنیا کی کوئی طاقت اس برباد گھر کو بنانا تو درکنار بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتی. لہٰذا دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے عورت کے دل اور اس کی روح کو امن کا گہوارہ بناءیے.
یہ تو دو انتہا وں کی بات تھی ایک عام عورت کے دکھڑے بھی کچھ کم نہیں پیدائش سے بچپنے، بچپنے سے بلوغت تک اسے جس صنفی امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اسے یہ باور ضرور کروا دیتا ہے کہ وہ اس male dominating society میں کافی حد تک حیثیت اور مرتبے میں کم تر مخلوق ہے اور تو اور پیدا کرنے والی سگی ماں ہی جب یہ الاپ الاپنا شروع کر دیتی ہے کہ تو پرای امانت ہے ذرا من مار کے رہنا سہنا سیکھ اپنے گھر جا کے اپنے سارے شوق پورے کر لینا اور اپنے گھر جانے کی آس اور اپنے خواب پورے کرنے کی آس میں ہماری معصوم اور صابر بچیاں بچپن ہی سے صبر کے کڑوے گھونٹ پینا سیکھ لیتی ہیں شادی کے بعد ایک ساس نامی بھوت ذہنی اذیت کے لیے کافی ہوتا ہے اور پھر بڑھاپے میں یہی عورت اپنے بیٹے کے رحم و کرم پہ آ جاتی ہے اور اگر عورت کی شادی نہ ہو یا شادی ناکام ہو جاے یا پھر شادی کے بعد بچے نہ ہوں تو پھر اس کے بعد کی داستان لمحہ بہ لمحہ موت کے مترادف ہے.
لیکن آج میں ساری دنیا کے انسانوں کو واشگاف بتانا چایتی ہوں کہ میں وہی بنت حوا ہوں جسے جب اس کا باپ اپنی غیرت بچانے کے لیے زندہ درگور کرنے بہانے سے لے جاتا تھا اور گڑھا کھود کر اس گڑھے میں لٹا کر اسکے اوپر مٹی ڈالنا شروع کر تا تھا تو وہ اپنے باپ کی مدد کے خیال سے اپنے اوپر خود ہی مٹی ڈالنا شروع ہو جاتی تھی یہاں تک کہ اس کی سانس خوف، اندھیرے اور وحشت سے بند ہو جاتی تھی میں پیدا ہونے سے بابل کا گھر چھوڑنے تک اپنے والدین کے مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت سرگرم رہی تھی. اور پھر شادی کے بعد سسرالیوں اور شوہر کی خدمت کے لیے کمر بستہ ہو گءی تھی اور جب میرا پہلا بچہ پیدا ہوا تھا تو جو تکلیف میں نے برداشت کی تھی یا جو باقی تمام حاملہ خواتین سہتی ہیں وہ ایسے ہی تھی جیسے کوی بار بار تیز دھار چھری سے مجھے ذبح کر رہا ہو اور جب چوبیس گھنٹوں کی طویل دردزہ کے بعد میں اپنے بیٹے کو دنیا میں لانے میں کامیاب ہوی تھی تو میں اپنا دکھ درداور رنج و الم بھول کے اپنے بچے کی خیر خیریت دریافت کرنے میں لگ گءی تھی بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے دکھ درد سلجھاتے سلجھاتے مجھے پتا ہی نہ چلا کہ کب زندگی کی شام ہو گءی میرے میاں ایک روڈ سائیڈ ایکسیڈنٹ میں چل بسے بیٹیوں کی شادیاں وہ اپنی زندگی میں ہی کر چکے تھے بیٹا الیکٹریکل انجینئر تھا اس نے اپنی پسند کی شادی رچا لی اور ایک دن میری زندگی میں ایسا بھی آیا کہ مجھے میرے ہی گھر سے نکال کے اولڈ ہوم میں بھرتی کروا دیا گیا یہاں میرے جیسی اور بھی بہت سی حرماں نصیب خواتین تھیں لیکن میں آپ سب کو یہی بتانا چاہتی ہوں کہ یہ مغربی کلچر ہمارا رہن سہن نہیں ہے ہمارا مذہب تو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بوڑھے والدین کے سامنے اف بھی نہ کرو اور میں وہی عورت ہوں جس نے پیدائش سے اب تک اپنے پیاروں کے سکھ کے لیے اپنے سکھ تج دیے. اور جنت میرے پیروں تلے میرے اللہ نے رکھ دی
وہی عورت ہوں میں
سدا ہی کام میں آتی رہی ہوں
میرے ہی دم سے ہے یہ دنیا روشن
وہی عورت جو دکھ سہہ کر
پسر آدم کو جہان میں لاے
اور نہ اس کا گھر ہے
نہ ہی در کوی
کوی اتنا بھی نہ بے آسرا ہو
کوی اتنا بھی در بدر نہ ہو
کاروان حیات کی شان بڑھاتی ہوی دکھ درد اور کرب سہہ کے مسکراتی ہوی تمام خواتین کے نام محبت کے ساتھ
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0