September 3, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

📰 اوکاڑہ۔جاوید راہی بیورو چیف سندھ ایمپلائز الائنس (SEA) کی کال پر آج صوبہ بھر کی طرح کراچی میں بھی سرکاری افسران، اساتذہ اور

IMG-20250926-WA0247
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

📰 اوکاڑہ۔جاوید راہی بیورو چیف

سندھ ایمپلائز الائنس (SEA) کی کال پر آج صوبہ بھر کی طرح کراچی میں بھی سرکاری افسران، اساتذہ اور ملازمین نے پُرزور احتجاج کیا۔ احتجاج کے باعث متعدد سرکاری دفاتر، محکمہ جات اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے۔ شرکاء نے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی نئی پینشن اصلاحات ملازمین کے ساتھ سنگین ناانصافی ہیں۔ پینشن کی شرح کو 63.5 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد کرنا ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو معاشی بدحالی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح گروپ انشورنس کی بندش، عدم مساوات الاؤنس (Disparity Allowance) کی عدم فراہمی اور تنخواہوں میں کٹوتی جیسے فیصلے کسی صورت قبول نہیں۔

مقررین نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت سندھ نے فوری طور پر پالیسی واپس نہ لی تو آئندہ مرحلے میں 6 اکتوبر کو بلاول ہاؤس کراچی کے سامنے بھرپور دھرنا دیا جائے گا۔

اس احتجاج میں نمایاں طور پر پ-ٹ-الف کے صدر انور بلوچ، گسٹا کے صدر شاہد ساغر، سر فدا حسین، سر ذاکر آرائیں، سر ذوالفقار، سر سعید آفریدی، سر راحیل اللہ جعفری، سر محمد کاشف چوہان، میڈم شازیہ رضوی اور میڈم رافیہ سمیت سیکڑوں اساتذہ کرام نے بھرپور شرکت کی اور نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت سے اپنے حقوق کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔

شرکاء نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات، جن میں پینشن اصلاحات کی واپسی، 30 فیصد disparity allowance کا نفاذ، گروپ انشورنس کی بحالی اور ملازمین کے حقوق کا تحفظ شامل ہیں، پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کو مزید سخت کر دیا جائے گا۔

📌 یہ تمام تفصیلات اور احتجاج کی معلومات خصوصی طور پر سندھ ایمپلائز الائنس کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہنے والے سینئر صحافی جناب کاشی چوہان نے فراہم کیں۔

@@@@@@@@@@@@@

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0