✍️ راہی رنگ ٹیکس نظام میں پھنسا ہوا عوامی اعتماد ۔۔
✍️ راہی رنگ
ٹیکس نظام میں پھنسا ہوا عوامی اعتماد ۔۔
پاکستان کا ٹیکس نظام بھی عجب بھید بھری داستان ہے۔ اوپر سے نعرہ ہے “ڈیجیٹل پاکستان” اور نیچے حال یہ کہ ایک چھوٹا سا فارم بھرنے کے لیے ٹیکس دہندہ ایسے چکر کاٹ رہا ہے جیسے کوئی درویش کسی درگاہ پر چلہ کاٹتا ہے۔ حیدرآباد کے چھوٹے تاجروں کی آواز سنو تو لگتا ہے وہ حکومت سے بھیک نہیں مانگ رہے بلکہ صرف یہ کہہ رہے ہیں: حضور! 48 دن اور دے دیجیے تاکہ ہم اپنی سانسیں سیدھی کر سکیں۔ لیکن یہاں ڈیڈ لائن ایسی مقدس لکیر ہے جسے توڑنا گویا کفر ہے، چاہے عوام سیلاب میں بہہ جائیں یا بجلی اور انٹرنیٹ کے اندھیرے میں ٹٹولتے رہ جائیں۔
کہا جاتا ہے کہ ایف بی آر نے آئی رس پورٹل میں بڑے انقلابی کام کیے ہیں۔ خودکار اپ لوڈنگ، انٹرایکٹو فارم، نیا ویریفیکیشن۔ واہ! سننے میں تو ایسے لگتا ہے جیسے کوئی روحانی کشف ہو گیا ہو۔ لیکن اصل حال یہ ہے کہ لوگ لاگ اِن کرتے ہیں تو دروازہ ہی نہیں کھلتا۔ جو کھل جائے تو اندر سے پیغام آتا ہے: “رسیپٹ ویلیو ایرر”۔ اب بندہ پوچھے، یہ ایرر ہے یا کوئی غیبی اشارہ؟ یوں لگتا ہے جیسے صوفیاء کی زبان میں کہا جائے تو “پردہ ابھی نہیں اٹھا”!
ادھر سیلاب نے پنجاب، سندھ اور کے پی کے کو لہو لہان کر دیا۔ بجلی گئی، انٹرنیٹ گیا، بینک بند۔ کسان اپنے کھیت کے ساتھ بہہ گیا اور چھوٹا تاجر اپنی دکان کے ساتھ۔ اب ان حالات میں حکومت کا مطالبہ سنو: “ٹیکس ریٹرن وقت پر جمع کراؤ!” گویا سیلاب زدہ کو کہا جا رہا ہو کہ کشتی چھوڑو، پہلے رسید اپ لوڈ کرو۔ یہ کیسا نظام ہے جو آفت زدہ انسان سے بھی کاغذ کا حساب مانگ رہا ہے؟
دنیا کے ملکوں میں ٹیکس نظام عوام کی سہولت کے لیے ہے۔ کہیں SMS پر تصدیق ہوتی ہے، کہیں فارم پہلے سے بھرے مل جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں سسٹم یوں ہے جیسے کسی خانقاہ کے دروازے پر پہرے دار کھڑا ہو، جو کہے: “پہلے امتحان پاس کرو، پھر اندر آؤ۔” یہاں عوام کو سہولت نہیں ملتی، صرف وعید ملتی ہے: جرمانہ ہوگا، سزا ملے گی، نوٹس آئے گا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹیکس دہندہ انسان ہے یا صرف خزانے کو بھرنے کا اوزار؟ اس کا سیلاب سے مرنا، بجلی سے محروم ہونا، انٹرنیٹ کے بغیر جینا کیا کوئی معنی نہیں رکھتا؟ شاید ہماری ریاست کے نزدیک ٹیکس دہندہ ایک ایسی مشین ہے جو چلتی رہے، رکے نہیں۔ لیکن بھول یہ ہے کہ مشین کے پیچھے ایک دل ہے، ایک سانس ہے، ایک زندگی ہے۔
صوفیا نے کہا تھا: “محبت بے غرض ہونی چاہیے، ورنہ وہ محبت نہیں، سودا ہے۔” ہمارا ٹیکس نظام بھی اگر بے غرض ہوتا تو شاید عوام اسے دل سے قبول کرتے۔ لیکن یہاں سب کچھ سودے کی بنیاد پر ہے۔ عوام کا پسینہ اور خون بھی خرید و فروخت کی میز پر رکھا ہے۔
وقت ہے کہ حکمران اس سچ کو مان لیں کہ عوام کے اعتماد کے بغیر کوئی نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ بصورت دیگر یہ ٹیکس کا بھنور سب کچھ کھا جائے گا۔ اور یاد رکھو، جب عوام کی سانسیں اٹک جاتی ہیں تو خزانے بھی خالی ہو جاتے ہیں۔ یہ کھیل زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔
یہ کالم اس دعا پر ختم کرتا ہوں:
یا رب! ہمارے حکمرانوں کے دلوں پر سے “رسیپٹ ویلیو ایرر” کا پردہ ہٹا دے تاکہ وہ انسان کو مشین نہ سمجھیں، اور ٹیکس کو صرف بوجھ نہیں بلکہ اعتماد کا عہد بنائیں۔
@@@@@@@@@@@