November 1, 2026

*اقراء میڈیکل کمپلیکس کےمالک ڈاکٹر شاہد صدیق کو ان کے اپنے ہی بیٹے نے قتل کردیا انا للّٰہ وانا الیہ راجعون!*

20240810_213131

*اقراء میڈیکل کمپلیکس کےمالک ڈاکٹر شاہد صدیق کو ان کے اپنے ہی بیٹے نے قتل کردیا انا للّٰہ وانا الیہ راجعون!*

*کیا کوئی اولاد اتنی سفاک ہوسکتی ہے کہ اپنے باپ کو قتل کردے؟ وہ باپ جس نے اس کو بڑے ناز نخرے سے پالا ہو اور دنیا کی ہر چیز اس کے قدموں میں نچھاور کر دی۔*
*قاتل بیٹے عبدالقیوم کی عمر صرف 24 سال ہے، باپ اسے ماہانہ پانچ لاکھ دیتا تھا۔ بیٹے نے مطالبہ کیا کہ میرا جیب خرچ دس لاکھ ماہانہ کیا جائے، ماں اور دادی کی سفارش پر بیٹے کی یہ فرمائش بھی پوری ہوئی۔ اب بیٹا تیس لاکھ ماہانہ طلب کر رہا تھا ۔ بیٹے کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔ باپ نے پوچھا کا کہ تمہارے آخر اتنے اخراجات کیوں ہیں؟ اس سے پہلے ماں اور دادی کی پُرزور سفارش پر باپ نے بیٹے کو تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیج دیا تھا۔*
*وہاں اس کی دوستی ایشیائی کمیونٹی کے امیر ترین طبقے کے لوگوں سے ہوئی اور باپ کا پیسہ خوب عیاشیوں پر خرچ کرنے لگا، شراب نوشی شروع کی، پھر آئس کا نشہ پر لگا، باپ پاکستان سے دس لاکھ ماہانہ بھیج رہا تھا مگر بیٹے نے پھر تیس لاکھ کا مطالبہ کردیا*
*اسی دوران اس کے کسی دوست نے اس کی ملاقات پاکستان میں ایک سٹیج اداکارہ سے کروادی۔ اس کے اس اداکارہ سے تعلقات ہوئے اس کی فرمائش پوری کرنے کے لئے اس نے پھر باپ سے ماہانہ تیس لاکھ کا مطالبہ کردیا۔ باپ نے بیٹے سے کہا کہ تمہاری فیس تک میں پاکستان سے بھیجتا ہوں تمہارے اخراجات اتنے کیوں ہیں، تم پاکستان واپس آؤ، بیٹا پاکستان آ گیا۔*
*باپ نے اسے بہت سمجھایا کہ تم جس سوسائٹی میں بیٹھتے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے اسے چھوڑ دو، لیکن یہ بات بیٹے کو سمجھ نہ آئی۔ اس اثناء میں اس کی محبوبہ نے تیرہ کروڑ کی لگژری گاڑی کا مطالبہ کردیا۔ بیٹے نے اپنی محبوبہ سے وعدہ کیا کہ وہ اس کی خواہش پوری کرے گا چاہے اسے باپ کی لاش سے بھی گزرنا پڑے۔ بیٹا باپ سے اس سٹیج اداکارہ سے شادی کا مطالبہ بھی کر رہا تھا لیکن باپ نے لڑکی کے خاندان اور کردار کو دیکھتے ہوئے اپنی بہو بنانے سے انکار کردیا تھا، جس کا اس کو دلی رنج تھا*
*بیٹے نے باپ سے جائیداد میں حق کا مطالبہ بھی کر دیا، باپ نے اسے پیار سے سمجھایا۔ اور اس کو بری صحبت سے بچانے کے لئے اس کے دوستوں سے بھی مدد لی۔*
*بیٹے کو اس کے ایک دوست شہریار نے اسے مشورہ دیا کہ جائیداد کے حصول اور لڑکی سے شادی کے لئے باپ ہی کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔ شہریار نے اس کی ملاقات اجرتی قاتلوں سے کروادی، دو کروڑ میں قتل کا سودا طے ہوا، قاتل کو پچاس لاکھ ایڈوانس دئیے باقی ادائیگی قتل کے بعد دینے کا وعدہ کیا۔ اس اثناء میں سفاک بیٹا شوٹرز کو باپ کی نقل وحرکت کی خبر دیتا رہا جس وقت باپ قتل ہوا، چودہ گولیاں لگائیں۔*

*بیٹا وہاں پر موجود تھا، بیٹے نے رونے دھونے کا بھی ڈرامہ رچایا، اس کی حرکتوں اور CCTV کی مدد سے پولیس نے ملزم کو پکڑ لیا۔ بیٹے نے اس کو سیاسی قتل کا رنگ دینے کی بھی کوشش کی، پولیس کو یہ تاثر دیا کہ والد کو کچھ دنوں سے دھمکی آمیز کالیں* *موصول ہورہی تھی لیکن بلآخر قاتل بیٹا پکڑا گیا۔*

*دوسری طرف مقتول باپ ڈاکٹر شاہد صدیق نے بیٹے کے لئے تیرہ کروڑ کی گاڑی بک کروائی بیوی سے کہا کہ بیٹے کو اس کی سالگرہ پر “سر پرائز” دیں گے وہ گاڑی اُسی ہفتے کو آنی تھی لیکن گاڑی کے ملنے سے پہلے ہی قاتل حوالات میں اور مقتول قبر میں چلا گیا!*

*اقراء میڈیکل کمپلیکس کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ 1996 میں ڈاکٹر صاحب مشترکہ فیملی میں چار مرلے کے مکان میں رہتے تھے آج وہ بے بہا جائیداد کے مالک ہیں۔ تین ہسپتال اور جائیداد پر جائیداد بناتے گئے* *سابقہ حکومت میں ان کا بہت اثر و رسوخ تھا اسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے میڈیکل سنٹر کو بیرون ملک جانے والے افراد کی میڈیکل رپورٹ تیار کرنے کا کنٹریکٹ دلوایا۔ اس میڈیکل رپورٹ میں مریضوں کو ٹی بی، ہیپاٹائٹس وغیرہ کا مریض بتایا جاتا۔* *مریض حیران پریشان کہ مجھے تو یہ بیماری تھی ہی نہیں۔ اس رپورٹ کو پوزیٹو بنانے کے لئے غریب مریضوں سے دو لاکھ سے بیس لاکھ تک رقم وصول کی جاتی یا پھر مریض سے کہا جاتا کہ آپ ہمارے ہسپتال میں پانچ چھ ماہ تک علاج کروائیں پھر آپ کی رپورٹ مثبت آئے گی۔*
*اس طرح ڈاکٹر صاحب کی جائیداد پر جائیداد بنتی چلی گئی، جو ڈاکٹر چار مرلے کے گھر میں رہتا تھا اب وہ دس کنال کی کوٹھی میں رہتا تھا۔۔۔* *جس اولاد کے لئے وہ غریب انسانوں کا خون نچوڑ رہا تھا، حرام مال اکٹھا کررہا تھا، اس ناہنجار نا خلف اولاد نے اپنے باپ کو قتل کر کے انجام تک پہنچادیا۔*سبق حاصل کرو او مسلمانو ۔۔۔