October 31, 2026

ماحولیاتی تبدیلی کے کسانوں پر تباہ کن اثرات

20240810_213131

ماحولیاتی تبدیلی کے کسانوں پر تباہ کن اثرات
——————————————————-
پنجاب کے مختلف علاقوں سے چاول کی فصل کی بابت انتہائی پریشان کن خبریں آ رہی ہیں کہ چاول کی فصل گرمی کی شدت سے تباہ ہو چکی ہے۔ کم و بیش یہی حال کپاس کی فصل کا ہے۔
اس سال درجہ حرارت انتہائی غیر معمولی رہا۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں actual درجہ حرارت 48 سے 50 ڈگری تک جا پہنچا جبکہ اصل نقصان feel-like درجہ حرارت نے کیا جوکہ میدانی علاقوں میں 58 ڈگری سے بھی تجاوز کر گیا۔

جن کاشتکاروں نے ماہ اپریل یا مئی کے پہلے ہفتے تک چاول کاشت کر لیا تھا ان کی فصلات کو کم نقصان ہو ا ہے۔ لیکن اگیتی کاشت پانچ فیصد سے زیادہ نہیں۔ جن کاشتکاروں نے چاول کی فصل مئی کے آخر ی پندھرواڑے یا جون میں کاشت کی ان کی فصل 80 فیصد تک تباہ ہو گئی ہے۔ گرمی کے شدید سپیل کی وجہ سے چاول کی فصل کی pollination ہی نہیں ہو سکی۔ قبل ازیں گندم اور مکئی کی فصلات میں کسانوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

چاول کی فصل کی تباہی کی بنیادی وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں آنے والے سالوں میں موسم گرما میں کوئی فصل کاشت نہیں ہو سکے گی۔ اس صورتحال کی ذمہ داری بیج بنانے والی کمپنیوں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ جنہوں نے heat-resistant varieties تیار نہیں کیں۔ حالانکہ ان کے R&D کے ونگ موجود ہیں۔ اور وہ ہائبرڈ بیج کی بہت زیادہ قیمت اس دعوای پر وصول کرتے ہیں کہ انُکی چاول کی اقسام گرمی برداشت کر سکتی ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی اور گرمی کی شدت کے پیش نظر اب کسانوں کو وسیع پیمانے پر شجرکاری کرنا پڑے گی۔ ساتھ ساتھ حکومت کو seed certification اداروں کی گوشمالی بھی کرنی چاہیے۔ اور پہلی فرصت میں Punjab Seed Act متعارف کروانا چاہئیے۔ وفاقی حکومت کا seed certification کا ادارہ اپنے فرائض میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ مزید براں بیج کا subject آئین پاکستان کے تحت صوبائی ہے۔ اس لیے بھی صوبائی قانون ہونا چاہیے۔

پئے در پئے فصلات کی ناکامی کی وجہ سے اس سال ملک کی مجموعی ترقی شدید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ پچھلے سال زرعی ترقی کی وجہ سے ہی ملک کی مجموعی ترقی کی شرح مثبت رہی -مجھے خدشہ ہے کہ اس مالی سال میں زراعت کی زبوں حالی کی وجہ سی مجموعی ملکی ترقی کی شرح کہیں negative نہ ہو جائے۔ اندریں حالات زراعت کو فوری سہارے کی ضرورت ہے۔