عظیمی انسٹیٹیوٹ آف کلر تھراپی کا پہلا کانوکیشن ٭٭٭
درحقیقت
خالد نجیب خان
khalednajeebkhan@gmail.com
عظیمی انسٹیٹیوٹ آف کلر تھراپی کا پہلا کانوکیشن
٭٭٭
رنگ و نور سے علاج اب باشعور لوگوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے اور اِس مفت برابر علاج کو اب اتنی پذیرائی مل چکی ہے کہ جسے کبھی محض ٹوٹکا خیال کیا جاتا تھا، اب نہ صرف جدید سائنسی بنیادوں پر اِسے ایک علم کا درجہ حاصل ہو چکا ہے بلکہ ِاس کے فروغ کے لیے عملی کوششوں میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس گورنمنٹ کالج برائے خواتین سمن آباد میں پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ عامر عظیمی نے سیمینار ریڈیشن فزکس برائے صحت منعقد کرایا تو دورانِ تقریر حاضرین کو بتایا تھا کہ مراقبہ ہال لاہور نزدکاہنہ میں انسٹیٹیوٹ آف کلر تھراپی قائم کردیاگیا ہے اور ٹیوٹا کے تعاون سے ایک سالہ ڈپلومہ کورس کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
تعلیمی مرکز اگر شہر کے مرکز میں ہو تو وہاں پڑھائے جانے والے علوم خواہ کیسے بھی ہوں،طلبہ وہاں پہنچ ہی جاتے ہیں اور جب طلبہ مضافات میں واقع کسی تعلیمی ادارے میں شوق سے پہنچتے ہیں تو یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علم نافع ہے۔گزشتہ دنوں ڈاکٹر ثمینہ عامر عظیمی نے فون پر اطلاع دی کہ مراقبہ ہال کاہنا میں قائم انسٹیٹیوٹ آف کلر تھراپی کا پہلا کانوکیشن منعقد ہورہا ہے جس میں آپ نے ضرور شرکت کرنی ہے۔ مراقبہ ہال لاہور کے بانی میاں مشتاق احمد عظیمی مرحوم کے ساتھ ایک طویل رفاقت اور تعلق رہا ہے،اِس لیے انکار کی تو کوئی گنجائش نہیں تھی۔ مراقبہ ہال لاہور سے قصور جاتے ہوئے کاہنا کے پاس مین سڑک سے خاصا پیچھے واقع ہے۔ خیال تھا کہ قبرستان کے قرب و جوار میں کسی کمرے کو مراقبہ ہال کا نام دیا ہوگا۔ مگر ٹوٹی پھوٹی سڑک پر سفر کر کے جب وہاں پہنچا تو توقعات کے برعکس سب کچھ ملا۔ کئی کنال پر مشتمل کمپلیکس میں بچوں کا سکول، ڈسپنسری، مسجد، دستکاری سکول اور مراقبہ ہال شہر کے کسی بھی معیاری سکول، ڈسپنسری اور دستکاری سکول کے معیار کے عین مطابق تھا۔ ڈسپنسری میں مریض بلا امتیاز آجا رہے تھے۔ گاڑی سے اُتر کر سہواًمیں ڈسپنسری میں داخل ہو گیاتو وہاں موجود عملے نے مجھے ایک مریض کے طور پر ہی ویلکم کیا۔ حالانکہ حلیے اور بظاہر صحت سے میں فری ڈسپنسری سے دوائی لینے والا ہرگز نہیں لگ رہا تھا۔ ڈسپنسری کے استقبالیہ پر میں نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو سٹاف کے ایک رکن نے میری رہنمائی کرتے ہوئے مجھے مراقبہ ہال میں پہنچا دیا۔ ڈاکٹر ثمینہ عامر عظیمی اور اُن کے رفقاء تقریب کے شرکا کے استقبال کے لیے مین گیٹ پر موجود تھے اور آنے والے مہمانوں کو جائے تقریب تک پہنچا رہے تھے۔مراقبہ ہال میں کم و بیش 300 افراد کے کرسیوں پر بیٹھنے کی گنجائش محسوس کی جا سکتی تھی۔ اگست کے دنوں میں ایئر کنڈیشنر کے بغیر چند لمحے گزارنا خاصہ دشوار ہوتا ہے مگر ہال میں ایئر کنڈیشنر کی کمی کا بالکل بھی احساس نہیں ہوا کیونکہ اِس کا ڈیزائن ہی ایسا بنایا گیا ہے کہ خواہ کوئی ایک پنکھا بھی نہ چلے تو اندر بیٹھے کسی فرد کو گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ ہال میں عظیمیہ روحانی لائبریری پنجاب سوسائٹی کی انچارج اسماء عظیمی نے اِستقبال کیا۔ دوران گفتگو معلوم ہوا کہ یہاں کے سکول میں مقامی آبادی کے بچے زیرِ تعلیم ہیں جو علم سے زیادہ زر حاصل کرنے کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ محنت کش طبقہ کے بچے جب بارہ تیرہ سال کے ہو جاتے ہیں تو اُنہیں کماؤ پوت تصور کیا جاتا ہے، اِس لیے وہ سکول چھوڑ جاتے ہیں۔ اِسی عمر میں لڑکیاں بھی پیادیس سدھار جاتی ہیں۔ لہذا کئی سال گزرنے کے باوجود سکول ساتویں جماعت سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ دوسرے علاقوں سے پڑھنے کے لیے بچے نہیں آتے مگر علاج کے لیے ڈسپنسری میں اور دستکاری سکول میں ہنر سیکھنے کے لیے لوگ دوسرے علاقوں سے بھی آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر ماہ کی27 تاریخ کو لنگر ہوتا ہے تو خوب رونق ہوتی ہے۔
غیر رسمی گفتگو کے دوران ہی اطلاع ملی کہ مہمان خصوصی ڈائریکٹر جنرل ٹیوٹا ریٹائرڈ کرنل راشد راؤ تشریف لے آئے ہیں تو تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اِس کے بعد مسز ودود نے پیر مہر علی شاہ کی خوبصورت نعت کے چند اشعار پڑھے۔ ازاں بعد عظیمی انسٹیٹیوٹ آف کلر تھراپی کی پرنسپل ڈاکٹر ثمینہ عامر عظیمی نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا کہ اُن کے خصوصی تعاون کی وجہ سے نہ صرف عظیمی انسٹیٹیوٹ آف کلر تھراپی کا قیام عمل میں آیا بلکہ آج پہلا بیچ فارغ التحصیل بھی ہو گیا ہے۔ یہ سب کام بہت آسان نہیں تھا مگر اللہ تعالی کی مدد اور خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کی خصوصی دعائیں اِس میں شامل حال رہی ہیں اوراِس مفت برابر علاج کے فروغ سے مخلوق خدا کو فائدہ ملنا شروع ہو چکا ہے۔
کلر تھراپی کا تعارف کراتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اِس وقت بہت سے عوامل ایسے ہیں کہ جس میں ہم مریضوں کا روایتی طریقے سے علاج نہیں کر پاتے۔اِس میں مہنگا علاج بھی ایک بڑی وجہ ہے یا پھر کوئی علاج ہر جگہ پر دستیاب نہیں ہوتا یا وہ طریقہ علاج اُس خاص مرض میں موثر ہی نہیں ہوتا یوں بہت ہی کم خرچ میں مہنگے علاج کا متبادل کلر تھراپی کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ حتی کہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں اِس سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔
سپیکٹرم سے حاصل ہونے والے رنگ دراصل الیکٹریکل امپلس بناتے ہیں جو انسانی جسم کو تندرست یا بیمار کرتے ہیں۔ کسی بھی جسم میں بیماری کی وجہ سے کسی خاص قسم کے رنگ کی کمی یا زیادتی ہوجاتی ہے، جس کو بیلنس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان رنگوں کو بیلنس کرنے کے لیے باہر سے رنگ داخل کیے جاتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی طرح دھوپ کی روشنی میں سے کچھ خاص رنگ مریض کے جسم میں داخل کر دیتے ہیں۔ یہ خاص رنگ جسم میں تین طریقوں سے داخل کیے جا سکتے ہیں۔اول یہ کہ مریض کو براہ راست وہ روشنی یا رنگ فراہم کر دیا جائے جس کی اُسے ضرورت ہے۔اِس غرض سے مریض کو کسی ایسے کمرے میں خاص مدت کے لیے بٹھایا یا لِٹا دیا جاتا ہے جہاں وہ مطلوبہ روشنی یا رنگ دستیاب ہوتا ہے۔اِس دوران میں وہ اپنے امورِ زندگی معمول کے مطابق نپٹا سکتا ہے۔ ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر مریض کواُس مخصوص رنگ کا پانی پینے کے لیے دیا جاتا ہے۔اِس کے علاوہ مخصوص رنگوں کی گولیاں بھی ویسا ہی کام کرتی ہیں یا پھر مخصوص رنگ کے تیل سے جسم پر مساج کیا جاتا ہے۔ کسی بھی مخصوص رنگ کا پانی تیل یا گولی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اُس کا رنگ ویسا ہوتا ہے بلکہ وہ بظاہر عام پانی یا تیل ہی ہوتا ہے مگر اُس کے آئینز اُس مخصوص رنگ کے بنے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہمیں سرخ رنگ کا پانی تیار کرنا ہے تو شیشے کی ایک صاف شفاف بوتل لے کراُس پر سرخ رنگ کی سیلفین شیٹ لپیٹ دیتے ہیں۔اُس بوتل میں ابال کر ٹھنڈا کیا ہو پانی یا پھر منرل واٹر ڈال کر چند گھنٹوں کے لیے لکڑی کی چوکی کے اوپر دھوپ میں رکھ دیتے ہیں،دھوپ کی روشنی اِس دوران فلٹر ہو کر جب اُس پانی پر پڑتی ہے تواُس کے آئنز سرخ رنگ کے مطابق بن جاتے ہیں۔اِسی طرح ہر رنگ کا پانی تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ پانی دن بھر میں مریض کو بطور دوائی پلایا جاتا ہے۔ اِسی طرح تیل تیار کیا جاتا ہے مگر اُس میں وقت زیادہ لگتا ہے۔ کیلشیم یا چینی سے بنی ہوئی گولیاں بھی اِس طریقے سے تیار کی جاتی ہیں۔ رنگوں کو مریض کے جسم میں داخل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مریض کو اُس مخصوص رنگ کے ماحول میں لے جا کر بٹھا دیا جاتا ہے اور اِس کے علاوہ اُسے مخصوص رنگ کا مراقبہ کرنے کا کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ بہت ہی پُراثر ثابت ہوا ہے۔
عظیمی انسٹیٹوٹ آف کل تھراپی میں داخلے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی میٹرک (سائنس) پاس فرد داخلہ لے سکتا ہے۔طالبعلم کا بیک گراؤنڈاگرمیڈیکل سے ہو یعنی وہ کوالیفائیڈ
ڈاکٹر،طبیب،ڈسپنسر،نرس وغیرہ کا ہو تو یہ کورس بہت آسان ثابت ہوتا ہے۔
بعد ازاں مہمان خصوصی ریٹائرڈ کرنل راشد راؤ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں بچپن میں عظیمی صاحب کا کالم اخبار میں بڑے شوق سے پڑھتا تھا،اِس لئے اُن کے کاز سے ایک لگأو تھاجس کی وجہ سے شاید میں نے اِس میں خصوصی دلچسپی لے کر کام کیا۔ عظیمی انسٹیٹیوٹ آف کلر تھراپی کے لیے میں مزید بھی جو ممکن ہوا کرتا رہوں گا۔ بعد میں کورس مکمل کرنے والے طلبہ کو اسناد اور پوزیشن ہولڈرز کو شیلڈز عطا کی گئیں۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکا کے لیے پُرتکلف لنگر کا اہتمام کیا گیا۔