سکھر میں سینئر فوٹو جرنلسٹ سید گلزار شاہ پر مبینہ تشدد کے خلاف صحافیوں کا احتجاج، مقدمہ درج نہ ہونے پر تحریک کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان
سکھر میں سینئر فوٹو جرنلسٹ سید گلزار شاہ پر مبینہ تشدد کے خلاف صحافیوں کا احتجاج، مقدمہ درج نہ ہونے پر تحریک کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان
تھانہ اے سیکشن کے باہر تین گھنٹے طویل دھرنا، پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ، ایس ایس پی اور ڈی آئی جی آفس کے سامنے احتجاج کرنے کی بھی دھمکی
سکھر(بیورورپورٹ)نجی سندھی اخبار کے سینئر فوٹو جرنلسٹ سید گلزار شاہ کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنانے اور صحافیوں کو کوریج سے روکنے، بدتمیزی اور مبینہ تشدد کے خلاف سکھر کی صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ صحافیوں نے تھانہ اے سیکشن کے باہر تین گھنٹے طویل احتجاجی دھرنا دیا، جس میں سکھر پریس کلب، روہڑی پریس کلب، کیمرا اینڈ فوٹو جرنلسٹس کی پوری کابینہ، صحافیوں، سیاسی و سماجی شخصیات، وکلا، تاجر برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاجی دھرنے کی قیادت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے مرکزی رہنما لالا اسد پٹھان نے کی۔احتجاجی دھرنے کے دوران صحافیوں نے سینئر کیمرامین سید گلزار شاہ کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے، شفاف تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکنا، ان کے ساتھ بدتمیزی کرنا اور مبینہ تشدد کا نشانہ بنانا ناقابل برداشت ہے، ایسے واقعات آزادیٔ صحافت اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے صحافتی رہنماؤں اور دیگر مقررین نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں، جو عوامی مسائل، ناانصافیوں اور انتظامی کوتاہیوں کو اجاگر کرکے حقائق عوام کے سامنے لاتے ہیں۔ صحافیوں کو کوریج سے روکنے اور انہیں مبینہ تشدد کا نشانہ بنانے سے نہ صرف صحافتی آزادی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کے عمل میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ سید گلزار شاہ ایک سینئر فوٹو جرنلسٹ ہیں، جن کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ اغوا اور تشدد کے واقعے نے صحافی برادری میں شدید تشویش اور غم و غصہ پیدا کردیا ہے۔ صحافی اپنے ساتھی کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور انصاف کی فراہمی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔دوسری جانب فوٹوگرافر سید گلزار شاہ کے ساتھ مبینہ اغوا اور تشدد کے واقعے میں ملوث پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر صحافیوں میں مزید بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ صحافی رہنماؤں نے پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل اور احتجاجی تحریک کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد احتجاج کے آئندہ مرحلے کا اعلان متوقع ہے۔ صحافی رہنماؤں کے مطابق مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور ذمہ دار پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔احتجاجی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ تحریک کے دوسرے مرحلے میں ایس ایس پی آفس سکھر، جبکہ تیسرے مرحلے میں ڈی آئی جی سکھر آفس کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔ اس سے قبل گزشتہ رات سکھر یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے ڈی ایس پی سٹی آفس کے سامنے بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا، جس کی قیادت پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما لالا اسد پٹھان اور دیگر صحافتی رہنماؤں نے کی۔ پولیس کے خلاف جاری اس احتجاج میں صحافیوں نے تین گھنٹے تک دھرنا دے کر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔مظاہرین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سید گلزار شاہ کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ اغوا اور تشدد کے واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔صحافیوں، وکلا، تاجروں اور دیگر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافیوں کے تحفظ، آزادیٔ صحافت اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے لیے متحد ہوکر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سید گلزار شاہ کو انصاف کی فراہمی اور واقعے میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی تک احتجاجی تحریک ختم نہیں کی جائے گی۔صحافی رہنماؤں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر صحافی برادری کے تحفظات دور کیے جائیں، انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور مستقبل میں صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔