November 2, 2026

ہارون آباد(نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر)شہر بھر میں ریڑھی بانوں کی اکثریت مزدور طبقہ سے تعلق رکھتی ہے جنکا گزر بسر روزانہ کی امدن سے ہی ممکن ہوتاہے جبکہ دوسری جانب خریدار شہریوں کو بازاروں میں رش کا سامنا کرنا پڑتا تھا

IMG-20240809-WA0138

ہارون آباد(نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر)شہر بھر میں ریڑھی بانوں کی اکثریت مزدور طبقہ سے تعلق رکھتی ہے جنکا گزر بسر روزانہ کی امدن سے ہی ممکن ہوتاہے جبکہ دوسری جانب خریدار شہریوں کو بازاروں میں رش کا سامنا کرنا پڑتا تھا جسکی بنیاد پر جہاں ذہنی کوفت محسوس ہوتی تھی وہیں رش کے باعث موبائل سنیچنگ اور جیب تراشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا تھا۔انہی امور کو مدنظر رکھے ہوئے انتظامیہ نے انجمن تاجران ریہڑی بانوں اور مارکیٹ کمیٹی کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد ایسا لائحہ عمل تیار کیا کہ جس کے تحت انکے چولہے بھی جلتے رہیں اور عام خریدار کی مشکلات کا بھی ازالہ ہوسکے۔ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ کمشنر ہارون اباد محمد کفایت اللہ چوہان نےمین بازار ہارون آباد میں انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ ایک منظم ریڑھی بازار کے افتتاح کے موقع پر میڈیا نمائیندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ الحمدللہ اج شہر کے ایک انتہائی اہم مسئلے کا انتظامیہ نے حل پیش کر دیا ہے جس کی مدد سے صاف ستھرے بازار ہونے کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو سرکاری ریٹس پر اشیائے خورد ونوش صاف ستھرے ماحول میں دستیاب ہو سکیں گی۔واضع رہے کہ غیر قانونی تجاوزات اور بے ترتیب ریڑھیوں کی وجہ سے شہر کے مختلف بازاروں میں عوام کو بازار آنے جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس امر کو مد نظر رکھتے ہوۓ جناب ذوالفقار احمد بھون ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کی ہدایت پر محمد کفایت اللہ چوہان اسسٹنٹ کمشنر ہارون آباد کی زیر نگرانی مین بازار ہارون آباد میں ریڑھی بازار کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ تمام ریڑھی والوں کو ایک منظم طریقے سے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ضروریات زندگی کی اشیاء کو گورنمنٹ کے نوٹیفائڈ ریٹس پر فراہمی کو یقینی بنایاجاسکے

You may have missed