October 12, 2026

اگست 1947 کا سورج، ایک بار پھر ایک زخم خوردہ، مگر پرامید قوم پر طلوع ہوا۔ کراچی کی فضا میں اب بھی وہ ہلچل باقی تھی جو آزادی کے بعد کی بے یقینی سے پیدا ہوئی تھی

IMG-20250719-WA0158(13)

24 اگست 1947 کا سورج، ایک بار پھر ایک زخم خوردہ، مگر پرامید قوم پر طلوع ہوا۔ کراچی کی فضا میں اب بھی وہ ہلچل باقی تھی جو آزادی کے بعد کی بے یقینی سے پیدا ہوئی تھی۔ گلیوں میں خستہ حال لوگوں کی آنکھوں میں تھکن تو تھی، مگر امید کی روشنی بھی جھلک رہی تھی۔ کل کے فسادات کے بعد شہر میں قدرے سکون تھا، مگر یہ خاموشی طوفان سے پہلے والی محسوس ہوتی تھی۔
‎
‎ریڈیو پاکستان پر صبح سویرے “پاکستان زندہ باد” کے نعرے کے ساتھ قومی ترانہ بجایا گیا، جو ابھی تک عبوری تھا، مگر ہر دل کی دھڑکن بن چکا تھا۔ نوجوان لڑکے گلیوں میں جھنڈیاں لگا رہے تھے، اور چھوٹے بچے ہاتھوں میں سبز رنگ کی کاغذی پتنگیں لیے، نئے ملک کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں جذب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
‎
‎مہاجرین کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری تھا۔ ریلوے اسٹیشن پر ایک اور ریل گاڑی پہنچی، جس میں لاہور، امرتسر، اور جالندھر سے آنے والے سینکڑوں مرد، عورتیں اور بچے سوار تھے۔ ان کی حالت بدترین تھی۔ کئی عورتیں اپنے سہاگ گنوا چکی تھیں، کئی مرد اپنے بچوں کو دفن کر کے آئے تھے، اور بہت سے بچے ماں باپ سے بچھڑ چکے تھے۔ ریل گاڑی میں ہر طرف خون، خاک، اور آنسوؤں کی بو تھی۔ مگر جیسے ہی ان کی نگاہوں نے پلیٹ فارم پر سبز ہلالی پرچم کو دیکھا، ان کی آنکھوں میں ایک روشنی لوٹ آئی۔
‎
‎ریلیف کیمپوں میں آج بھی لنگر جاری تھا۔ اہلِ کراچی، جو خود بھی محدود وسائل میں جی رہے تھے، مگر مہاجرین کے لیے کھانے، کپڑے، اور دواؤں کا بندوبست کر رہے تھے۔ کچھ ڈاکٹروں نے اپنی تنخواہیں چھوڑ کر رضاکارانہ خدمات انجام دینا شروع کر دی تھیں۔ بچے رضاکار بن کر پانی بانٹ رہے تھے۔ ایک دردمند لڑکی، جو خود ابھی یتیم ہوئی تھی، ایک عمر رسیدہ مہاجر عورت کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہی تھی۔ وہ منظر ایسا تھا کہ پتھر دل بھی پگھل جائے۔
‎
‎وزیر اعظم لیاقت علی خان آج دن بھر مصروف رہے۔ انہوں نے گورنر جنرل محمد علی جناح سے ملاقات کی، اور نئے ملک میں قانون و انصاف کے قیام سے متعلق اہم مشاورت کی۔ آج کے دن ایک اور بڑا قدم یہ تھا کہ سول بیوروکریسی کے لیے عبوری نظم و نسق کا خاکہ تیار کیا گیا، تاکہ بکھرے ہوئے نظام کو جلد سے جلد مستحکم کیا جا سکے۔
‎
‎دوسری جانب، سرحدی علاقوں میں آج بھی چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہوئیں۔ ہندوستان سے آنے والی کچھ خبریں ہولناک تھیں، جنہوں نے دل دہلا دیے۔ مگر پاکستان کے عوام اب اس قدر زخم خوردہ تھے کہ ان کا درد چیخنے کے بجائے خاموشی میں ڈھل چکا تھا۔
‎
‎کراچی کی ایک گلی میں شام کے وقت بچے کھیل رہے تھے، اور ایک بزرگ انہیں کہانی سنا رہا تھا — ایک ایسے ملک کی کہانی، جو خوابوں میں بسا، خون میں نہایا، اور آخرکار حقیقت بن گیا۔ وہ بزرگ اچانک رک گیا، آسمان کی طرف دیکھا، اور آہستہ سے بولا، “یہ صرف سرحدیں نہیں بدلی ہیں، ہم نے اپنی تاریخ کی دھارا موڑ دی ہے…”
‎
‎یہ 24 اگست 1947 کا دن تھا — ماضی کے زخم، حال کی جدوجہد، اور مستقبل کی امید کے درمیان جھولتا ہوا ایک دن، جو اپنے دامن میں ان گنت کہانیاں لیے، آہستہ آہستہ شام کے سائے میں ڈھلتا جا رہا تھا۔
‎
‎@@@@@@@@
‎