(پریس۔۔۔۔۔رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما میر شاہد علی خان رند نے اپنے پریس بیان میں کہا ہےکہ بنگلہ دیش اور سری لنکا میں عوام کا مقابلہ چوروں سے تھا، سہولت کار نیوٹرل تھے، اسلیے مقابلہ عوام جیت گئے ہے اور یہاں پاکستان میں عوام کا مقابلہ چوروں اور سہولت
(پریس۔۔۔۔۔رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما میر شاہد علی خان رند نے اپنے پریس بیان میں کہا ہےکہ بنگلہ دیش اور سری لنکا میں عوام کا مقابلہ چوروں سے تھا، سہولت کار نیوٹرل تھے، اسلیے مقابلہ عوام جیت گئے ہے اور یہاں پاکستان میں عوام کا مقابلہ چوروں اور سہولت کاروں کے مشترکہ گینگ سے ہے، اسلئے یہ جنگ برصغیر میں آزادی کی جنگوں میں سب سے بڑی جنگ ہے، بنگلہ دیش اور پاکستان کا موازنہ کرنیوالے اس فرق کو مد نظر رکھیں، حالیہ تاریخ میں عوام اور فوج کے درمیان خلیج کی مثال صرف بیس سال پرانے ترکیہ میں ملتی ہے، پاکستان کا مسلہ نواز شریف یا زرداری جیسے نہیں ہیں، پاکستان کا مسلہ وہ ہیں جو نواز شریف کو لاتے ہیں، پھر نواز کی جگہ مریم نواز اور شہباز شریف کو لے آتے ہیں اور بینظیر کی جگہ آصف زرداری کو لے آتے ہیں اور جو الطاف حسین پیدا کرتے ہیں اور پھر اسکا متبادل لے آتے ہیں، جو نقوی، کاکڑ جیسے نئے ٹاؤٹس اور پیراشوٹرز پیدا کرتے ہیں، جو پاکستان میں ہر کاروبار کے مالک ہیں ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ جو پاکستان کے تمام فیصلے کرتے ہیں، جو مسنگ پرسن کرتے ہیں، جو امریکی جنگیں لڑتے ہیں، جو امریکی مفادات کے محافظ ہیں، جو عوام کو ڈیجیٹل دہشت گرد کہتے ہیں، اور جو نو نمبر سے کال بھی کرتے ہیں جو عوام کو نو مئی جیسے (فاکس فلیگ آپریشن) کے زریعے ظلم کا شکار بھی بناتے ہیں
پاکستان جیسی جنگ یا تو نیلسن منڈیلا نے لڑی یا اردوگان نے لڑی، تیسری مثال نہیں ملتی، اب عمران خان وہی جنگ لڑ رہا ہے، کیا جنوبی افریقی اور ترک عوام کیطرح پاکستانی عوام اس جنگ میں اپنے لیڈر کیساتھ کھڑے رہیں گے؟ یہ سوال ہے، یقین مانیے آج بھی عوام ایسے انقلاب کیلیے تیار ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کی لیڈرشپ تیار نہیں، وہ نہیں چاہتے کہ عمران خان باہر آئے، وہ اسلام آباد سے دور جلسے جلوس کرکے تقریریں کرکے نمبر بناتے ہیں لیکن کوئ ایسا قدم نہیں اٹھاتے جس سے عمران خان کی رہائی ممکن ہو اسلئے ہی چوروں، سہولت کاروں کے بعد تیسری رکاوٹ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ ہے.
ترجمان۔
انصاف ھائوس
لاڑکانہ سندھ ۔