حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں مبینہ طور پر پچاس مساجد اور مدارس گرانے کا نوٹس جاری کرنا اور اسلام آباد ہی میں چار ہوٹلوں کو شراب فروخت
حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں مبینہ طور پر پچاس مساجد اور مدارس گرانے کا نوٹس جاری کرنا اور اسلام آباد ہی میں چار ہوٹلوں کو شراب فروخت کرنے کی اجازت دینا یا لائسنس جاری کرنا قابل مذمت ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
اگر واقعی حکومت یہ دونوں مذموم فیصلے کرچکی ہے تو حکومت سے مطالبہ ہے کہ دونوں فیصلے واپس لیں کیونکہ یہ فیصلے مملکت خداداد اسلامی فلاحی ریاست کے چہرے پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔جو کہ قوم کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کریگی۔
کیا آئین شراب کے لائسنس جاری کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
کیا آئین مساجد مدارس گرانے کی اجازت دیتا ہے ؟
کیا اسلام قرآن سنت نبوی اجازت دیتا ہے؟
حکومت مساجداور مدارس گرانے پہ اتر آئی ہے پھر سوال یہ کہ آپ اور بھارت میں کیا فرق ہے؟ انہوں بھی بابری مسجد جیسے درجنوں مساجد گرائیے۔
حکومت آئینی اسلامی قرآن اور سنت نبوی کے حدود سے نکل رہی ہے۔ دین اور اسلام سے محبت رکھنے والی قوم شعائر اسلام کی حفاظت کےلئے ہر قسم قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔
حکومت اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے ظالمانہ اور ناجائز فیصلے واپس لیں۔ورنہ حکومت نہیں رہیگی۔