دس اگست 1947 کا سورج ایک نئے عہد کی امید لیے طلوع ہوا، مگر فضا میں بے یقینی کی ایک ہلکی سی نمی اب بھی باقی تھی۔ دہلی کے چوکوں، لاہور کے
دس اگست 1947 کا سورج ایک نئے عہد کی امید لیے طلوع ہوا، مگر فضا میں بے یقینی کی ایک ہلکی سی نمی اب بھی باقی تھی۔ دہلی کے چوکوں، لاہور کے کوچوں، بمبئی کے ساحلوں، ڈھاکہ کے بازاروں میں ایک بے قراری سی تھی۔ دن بہ دن آزادی قریب آ رہی تھی، مگر بٹوارے کی چُبھن بھی گہری ہوتی جا رہی تھی۔
دس اگست کو دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں ایک سنجیدہ خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ محمد علی جناح، جو اب برصغیر کی تاریخ کا محور بن چکے تھے، نہایت متانت سے بیٹھے تھے، مگر ان کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو ایک ایسے مستقبل کو دیکھ رہی تھی جو ابھی صفحۂ تقدیر پر اُبھرا ہی تھا۔ دوسری جانب، جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل کی موجودگی میں کانگریس کی اندرونی کشمکش کا اثر بھی محسوس ہوتا تھا۔ دن کی سب سے اہم پیش رفت یہ تھی کہ گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے دونوں قیادتوں کو باضابطہ پیغام بھیجا کہ برطانوی حکومت اختیارات کی منتقلی کے مکمل انتظامات کو 15 اگست تک ہر قیمت پر مکمل کرنا چاہتی ہے۔
اسی دن ریڈیو پاکستان (جو اس وقت آل انڈیا ریڈیو کا حصہ تھا) کی عمارت میں ایک نیا شعبہ خاموشی سے متحرک ہو چکا تھا— “پاکستان براڈکاسٹنگ سروس” کی بنیاد رکھنے کی تیاریاں۔ لال رنگ کے بوسیدہ بکسوں میں مائکروفون، تاریں، اور پرانے ریکارڈ پڑے تھے جنہیں چمکا کر نئے پاکستان کی آواز بنانا تھا۔
دہلی کی گلیوں میں مسلمان، ہندو، سکھ سبھی میں ایک اضطراب تھا۔ کچھ لوگ اپنا گھربار سمیٹنے لگے تھے۔ پرانی حویلیوں کے دروازے بند ہونے لگے، اور کچھ بازار جنہوں نے صدیوں سے رونق دیکھی تھی، ویران ہوتے جا رہے تھے۔ ریلوے اسٹیشن پر مہاجرین کی آمدورفت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی قبریں بھی اسی زمین میں چھوڑی تھیں، اب نہ چاہتے ہوئے بھی نقل مکانی پر مجبور ہو رہے تھے۔
لاہور کے اندرون شہر میں ایک محلے میں بوڑھی اماں ایک ہاتھ میں قران تھامے، دوسرا ہاتھ اپنے پوتے کے سر پر رکھے دعا کر رہی تھی، “بیٹا، نیا ملک بن رہا ہے، ہمارے نبی کا وعدہ پورا ہو رہا ہے، لیکن یہ درد بھی قربانی مانگتا ہے۔”
اخبارات میں شہ سرخی تھی: “پاکستان کا یوم آزادی قریب، مگر فسادات کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔”
مگر اس دن بھی، جیسے ہر دن، ایک نوید تھی۔ ایک نوجوان لڑکا، جو مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا رضاکار تھا، اپنے سینے پر بیج لگائے، لاہور کی شاہراہوں پر لوگوں کو سمجھا رہا تھا: “مت ڈریں، مت بھاگیں، پاکستان بننے جا رہا ہے، ہمارا اپنا ملک!”
دس اگست 1947 کا دن تاریخ کی گرد میں شاید کہیں دب گیا ہو، لیکن جو آنکھیں اُس دن آنسوؤں سے بھیگی تھیں اور دل جو اُمید و خوف کے درمیان جھول رہے تھے، اُن کے لیے یہ دن ایک دھڑکتے ہوئے لمحے کی مانند تھا—جیسے آزادی کی سانس لینے سے ذرا پہلے کی آخری ہچکی۔
@@@@@@@@