👈 ہم اردو بولنے والوں میں سے کچھ غلط لوگوں نے کوٹہ سسٹم کے نام پر اتنا جھوٹ بولا ہے کہ اگر بات کھلی تو کہنے کو کچھ بھی نہ ہوگا۔
👈 ہم اردو بولنے والوں میں سے کچھ غلط لوگوں نے کوٹہ سسٹم کے نام پر اتنا جھوٹ بولا ہے کہ اگر بات کھلی تو کہنے کو کچھ بھی نہ ہوگا۔
👈 ہم اردو بولنے والوں میں سے کچھ غلط لوگوں نے دنیا کو بتایا کہ کوٹہ سسٹم صرف سندھ یا اس کے شہر کراچی میں نافذ ہے جبکہ کوٹہ سسٹم پاکستان کے ہر صوبے بلکہ پوری دنیا کے کہ ہر ملک اور ادارے میں نافذ ہے۔
👈 ہم اردو بولنے والوں میں سے کچھ غلط لوگوں نے دنیا کو بتایا کہ کوٹہ سسٹم میرٹ کا قتل عام ہے جبکہ کوٹہ سسٹم میرٹ کی تقسیم کا منصفانہ نظام ہے، کوٹہ سسٹم کے تحت کبھی بھی کوئی آؤٹ آف میرٹ شخص نوکری نہیں لے سکتا۔
👈 ہم اردو بولنے والوں میں سے کچھ غلط لوگوں نے دنیا کو بتایا کہ کوٹہ سسٹم ایک سندھی بولنے والے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں نافذ کیا جبکہ کوٹہ سسٹم اردو بولنے والے وزیراعظم لیاقت علی خان نے نومبر کی 15 تاریخ کو 1948 سے شروع کیا، موجودہ کوٹہ سسٹم جنوری کی 16 تاریخ کو 1971 سے نافذ ہے جس کے خالق بھی خود اردو بولنے والے بیوروکریٹس ہیں۔
👈 ہم اردو بولنے والوں میں سے کچھ غلط لوگوں نے دنیا کو بتایا کہ کوٹہ سسٹم کی وجہ سے اردو بولنے والوں کو نوکریوں سے محروم رکھا جارہا ہے جبکہ اسی کوٹہ سسٹم کے تحت ایم کیوایم کے آنے سے پہلے تک اردو بولنے والوں نے بیوروکریسی پر راج کیا ہے تو اب اگر نوکریوں سے محروم ہیں تو کیا یہ سوال نہیں اٹھے گا کہ کہیں مہاجر نسل پرستی اردو بولنے والوں کی قابلیت کو تو نہیں کھاگئی!!
👈ہم اردو بولنے والوں میں سے کچھ غلط لوگوں کے جھوٹ کا پول اب کھل چکا ہے، سب روٹی کھاتے ہیں، کوئی گھاس نہیں کھاتا، سب کو پتہ ہے کہ ہم اردو بولنے والوں میں سے کچھ غلط لوگ کوٹہ سسٹم سے متعلق بڑے بڑے جھوٹ بولتے رہے اور خود ایم کیوایم نے اس کوٹہ سسٹم کو سندھ اسمبلی سے بائیکاٹ کرکے منظور کروایا تھا کیونکہ اندر سے سب کو پتہ تھا کہ میرٹ کی تقسیم کے نظام کوٹہ سسٹم کے بغیر دنیا کا کوئی سسٹم نہیں چل سکتا۔
👈 ہم اردو بولنے والوں کو کوٹہ سسٹم سے متعلق جھوٹ بولنے والے گندے کرداروں کو اپنی صفوں سے نکال کر باہر پھینکنا ہوگا اور اب ایک نئے عزم سے اسی کوٹہ سسٹم کے تحت جس طرح ہمارے بڑوں نے کامیابیاں حاصل کی تھیں، ہمیں بھی پاکستان کی تمام قومیتوں کی طرح اسی طرح کامیابیاں سمیٹنا ہوں گی ورنہ داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔۔