October 28, 2026

کل رات 10 بجے کے بعد شہباز نامی شخص نے محمد یاسین ولد سعید اللہ جان پر اس وجہ سے پہلے تھپڑ مارا اور پھر سیدھا اے کے 47 سے سینے میں گولی چلا دی کے وہ موٹر سائیکل تیز کیوں چلا رہا تھا۔

FB_IMG_1754320989796

کل رات 10 بجے کے بعد شہباز نامی شخص نے محمد یاسین ولد سعید اللہ جان پر اس وجہ سے پہلے تھپڑ مارا اور پھر سیدھا اے کے 47 سے سینے میں گولی چلا دی کے وہ موٹر سائیکل تیز کیوں چلا رہا تھا۔ حلانکے نا وہ نا گھر سے بھی نہیں نکلا تھا- اسکا گوا پورا محلہ ہیں- اب یاسین زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔

پھر جب یاسین کو اسپتال لے جایا جا رہا تھا، تو شہباز نے دوبارہ اے کے 47 سے فائرنگ کی، اور بعد میں پشاور لیڈی ریڈنگ اسپتال میں بھی پستول کے ساتھ دوبارہ آیا۔

ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود شہباز آزاد گھوم رہا ہے، اور پولیس نے اب تک گرفتار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شہباز، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا رشتہ دار ہے۔