کل رات 10 بجے کے بعد شہباز نامی شخص نے محمد یاسین ولد سعید اللہ جان پر اس وجہ سے پہلے تھپڑ مارا اور پھر سیدھا اے کے 47 سے سینے میں گولی چلا دی کے وہ موٹر سائیکل تیز کیوں چلا رہا تھا۔
کل رات 10 بجے کے بعد شہباز نامی شخص نے محمد یاسین ولد سعید اللہ جان پر اس وجہ سے پہلے تھپڑ مارا اور پھر سیدھا اے کے 47 سے سینے میں گولی چلا دی کے وہ موٹر سائیکل تیز کیوں چلا رہا تھا۔ حلانکے نا وہ نا گھر سے بھی نہیں نکلا تھا- اسکا گوا پورا محلہ ہیں- اب یاسین زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
پھر جب یاسین کو اسپتال لے جایا جا رہا تھا، تو شہباز نے دوبارہ اے کے 47 سے فائرنگ کی، اور بعد میں پشاور لیڈی ریڈنگ اسپتال میں بھی پستول کے ساتھ دوبارہ آیا۔
ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود شہباز آزاد گھوم رہا ہے، اور پولیس نے اب تک گرفتار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شہباز، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا رشتہ دار ہے۔