14 اگست 1947 — آزادی کے قدموں کی چاپ
14 اگست 1947 — آزادی کے قدموں کی چاپ
سورج آج کچھ دیر سے طلوع ہوا، جیسے آسمان پر بھی ایک بےچینی تھی۔ لاہور کی گلیوں میں نیم روشن صبح تھی، مگر فضا میں ایک عجب سا جوش اور گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ شہر کے اخبار فروشوں نے آج سب سے پہلے “ڈان” اور “پاکستان ٹائمز” کے تازہ شمارے کی صدائیں لگائیں۔ خبروں میں آج وہی تکرار تھی — اقتدار کی منتقلی کی تیاریاں، ریڈکلف کمیشن کی خاموشی، اور گاندھی جی کا دہلی میں روزہ۔
گھروں میں ریڈیو آن تھا، لوگ بی بی سی اور آل انڈیا ریڈیو سے چپکے بیٹھے خبریں سن رہے تھے۔ کچھ بوڑھے چپ چاپ بیٹھے تسبیح گھما رہے تھے، نوجوانوں کی آنکھوں میں چمک تھی، اور عورتیں دروازوں پر بیٹھ کر چھوٹے بچوں کو آزادی کے گیت سکھا رہی تھیں۔ کچھ بچے محلے کی دیواروں پر چاک سے لکھ رہے تھے — “پاکستان زندہ باد”، اور ان کے چہروں پر ایک عجیب سی سنجیدگی تھی، جیسے وہ تاریخ لکھنے میں شریک ہوں۔
آج کی سب سے اہم خبر یہ تھی کہ ہندوستان کی عبوری حکومت میں شامل مسلم وزراء نے یہ واضح کر دیا کہ 15 اگست کے بعد وہ پاکستان کی حکومت کا حصہ بنیں گے۔ یہ بات جب سنی گئی تو لاہور، کراچی، اور پشاور کی گلیوں میں نوجوانوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر مبارکباد دی، جیسے آزادی کا ایک اور زینہ عبور ہو چکا ہو۔
لیکن ہر خوشی کے ساتھ ایک سایہ سا منڈلا رہا تھا — ہجرت کا سایہ۔ آج لاہور کے اسٹیشن پر ایک اور قافلہ امرتسر کی طرف روانہ ہوا، اور ایک قافلہ وہاں سے آیا۔ آنکھوں میں آنسو، ہاتھوں میں صرف ایک صندوق، اور دل میں بس ایک امید — جلد ہی اپنا دیس، اپنا وطن۔
پرانی انارکلی کے ایک کونے میں ایک ضعیف شخص ایک چھوٹا سا جھنڈا بنا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر آنکھوں میں عزم تھا۔ ساتھ بیٹھے بچے نے پوچھا، “چچا یہ جھنڈا کہاں لگاؤ گے؟” تو اُس نے کہا، “اپنے دل پر بیٹا… یہ پاکستان کا جھنڈا ہے۔”
ریڈکلف آج بھی خاموش تھا، لندن سے کوئی تازہ ہدایت نہیں آئی تھی۔ سب جانتے تھے کہ لکیر کھینچی جا رہی ہے، لیکن کہاں؟ کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس بےخبری نے پنجاب کے دیہاتوں میں ایک انجانی دہشت بکھیر دی تھی۔ زمین دار اپنے مزارعوں کو مشورہ دے رہے تھے کہ اگر فساد ہو، تو بچوں کو پہلے نکالنا۔
دلی کی فضا میں آج بھی کچھ گولیوں کی آواز گونجی، اور کچھ مقامات پر ہندو مسلم جھڑپوں کی خبریں آئیں۔ لیکن ان خبروں سے زیادہ اہم تھا وہ خواب، جو لاکھوں آنکھوں میں پل رہا تھا — ایک آزاد وطن کا خواب۔
شام کو مغرب کی اذان کے وقت، لاہور کی فضاؤں میں وہی دعا گونجی جو ہر دل سے نکل رہی تھی:
”یا رب! ہمارا پاکستان سلامت رہے، اور ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔”
یہ 4 اگست کا دن تھا۔ تاریخ کے صفحات پر ایک اور یادگار دن۔ ایک ایسا دن، جب لوگوں نے روتے ہوئے بھی مسکرانا سیکھا۔ جب آزادی صرف نعرہ نہیں، ایک مکمل یقین بن چکی تھی۔