عمرکوٹ (رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف) ضلع عمرکوٹ میں بااثر افراد نے سرکاری اراضی پر قبضہ جما کر درختوں کی کٹائی کر رہے ہیں اور
عمرکوٹ (رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف)
ضلع عمرکوٹ میں بااثر افراد نے سرکاری اراضی پر قبضہ جما کر درختوں کی کٹائی کر رہے ہیں اور سرکاری گزرگاہیں بند کر دی ہیں۔ دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود پولیس کارروائی کرنے کے بجائے خاموش ہے۔ دیہاتیوں کا احتجاج، حکام سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل۔ نیوز کے مطابق تھر کے گاؤں میندھرو جو پار کے رہائشی ارباب علی سمیجو نے عمرکوٹ پریس کلب پہنچ کر احتجاج کیا اور کہا کہ دودھر بگوڑی سمیت تھر کے مختلف دیہاتوں کی سرکاری چراگاہوں پر بااثر افراد نے قبضہ جما رکھا ہے اور سرکاری گزرگاہوں کو بھی بند کر رکھا ہے۔ وہ درخت کاٹ رہے ہیں۔ درختوں کی کٹائی پر دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ارباب علی سمیجو نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم کنگھڑ کے دھنی گاؤں ہورنگو کے رہائشی ہمارے گائوں تھر کی زمین پر سرعام درخت کاٹ رہے ہیں۔ بااثر لوگ میرے مویشی بھی لے گئے ہیں۔ انہوں نے درخت لگائے ہیں جس سے ہمارے مویشیوں اور چراگاہوں کی نقل و حرکت بند ہو گئی ہے۔ بااثر افراد نے سرکاری اراضی پر روہیرو، کنبھٹ، کنڈی اور کباڑ جیسے نایاب درختوں کو کاٹ دیا ہے۔ میرپورخاص کے کمشنر نے حکومت کو نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ زمینوں، چراگاہوں اور سرکاری سڑکوں پر کاشت کاری پر مکمل پابندی ہے اور دفعہ 144 نافذ ہے لیکن بااثر افراد نے جرائم کیے ہیں، نوٹس لیا جائے اور انہیں خالی کرایا جائے۔ میں نے ان کے خلاف محکمہ روہنی اور پولیس میں شکایت درج کروائی ہے لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ میں حکام بالا سے نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔