*ایس ایچ او نے زیادتی نہیں کی دو صحافیوں اور ایک وکیل کہ کہنے پر الزام لگایا نمرہ نامی خاتون پھر سے منظر عام پر آگئی*سچ جیت گیا قصور پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ملزمان روپوش*
*ایس ایچ او نے زیادتی نہیں کی دو صحافیوں اور ایک وکیل کہ کہنے پر الزام لگایا نمرہ نامی خاتون پھر سے منظر عام پر آگئی*سچ جیت گیا قصور پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ملزمان روپوش*
*قصور)*
ایس ایچ او چونیاں ابرار جمیل پر زیادتی کا الزام لگانی والی عورت نے وڈیو بیان جاری کردیا کہ مجھ سے 2 نیوز فیس بک یوٹیوب چینل کے اینکرپرسن سلیم اللہ باجوہ اور کاظم سندھو نے ورغلا کر پلانٹڈ انٹرویو ریکارڈ کروایا کہ تمہارے منگیتر کو جسے موٹر سائیکل چوری کے الزام میں گرفتار کیا ہے اسے نہ صرف بلیک میل کرکے باعزت رہا کروالینگے بلکہ تمہیں پولیس سے پیسے بھی لیکر دینگے جس پر میں نے بہکاوے میں آ کر اپنی خالہ اور ایک وکیل کے ایماء و مشاورت سے پولیس چوکی نمبر 1 قصور سے دو روز قبل ایس ایچ او چونیاں تعینات ہونے والے پنجاب پولیس کے پڑھے لکھے باصلاحیت نوجوان سب انسپکٹر ابرار جمیل پر اپنے گھر بلا کر جنسی زیادتی کا الزام لگا دیا اس دوران کاظم سندھو نامی نام نہاد صحافی نے سلیم اللہ باجوہ کیساتھ ملکر پولیس افسران کو بلیک میل کیا اور پیسے مانگے نہ ملنے پر لاکھوں روپے رشوت دینے اور زیادتی کرنے کی جھوٹ پر مبنی پلانٹڈ کہانی کو سوشل میڈیا 2 نیوز چینل پر سلیم اللہ باجوہ نامی اینکر پرسن کے ذریعے نشر کروا دیا بلکہ اسے ڈی پی او قصور عیسی خان سکھیرا کو سینڈ بھی کردیا ڈی پی او قصور نے فوری ایس ایچ او چونیاں کو بغیر تصدیق کلوز لائن کرکے انکوائری کروائی تو تمام الزامات جھوٹے نکلے اور نوجوان لڑکی سمیت دیگر عادی ملزمان نکلے اور گزشتہ روز نمرہ نے وڈیو بیان جاری کرکے حق اور سچ کا علم بلند کردیااصل حقائق سامنے آنے پر نام نہاد اینکرپرسن سلیم اللہ باجوہ اور کاظم سندھو روپوش ہیں جبکہ تھانہ اے ڈویثرن قصور نے ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا ہے اور نام نہاد صحافیوں کو جگہ جگہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے شہری اور سول سوسائٹی سمیت ذمہ دار اور عزت دار حلقوں نے ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ سب انسپکٹر ابرار جمیل کو دوبارہ ایس ایچ او چونیاں کے طور پر بحال کیا جائے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو