اٹلی میں ملک گیر ہڑتال اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔
اٹلی میں ملک گیر ہڑتال اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔
جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں معمولات زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سیسلی(انٹرنیشنل ڈیسک)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق اٹلی میں اج جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو ملک گیر ہڑتال اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ ہڑتال بنیادی طور پر یونین سنداکالے دی بازے (USB) سمیت مختلف مزدور تنظیموں کی جانب سے کی جا رہی ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، بجلی اور گیس کے بلوں، کرایوں اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پایا جائے اور عوامی خدمات کے لیے زیادہ وسائل مختص کیے جائیں۔ مزدور تنظیموں نے دفاعی اخراجات میں اضافے پر بھی اعتراض اٹھایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صحت، تعلیم اور سماجی سہولتوں کو زیادہ ترجیح دی جائے۔ احتجاجی مظاہرے روم، میلان، تورینو، بولونیا، فلورنس، ناپولی اور دیگر شہروں سمیت ملک کے 50 سے زائد مقامات پر متوقع ہیں، جن میں طلبہ، مزدوروں اور مختلف سماجی تنظیموں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ ہڑتال کے باعث اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں، سرکاری دفاتر اور صحت کی بعض غیر ہنگامی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں، تاہم ہر ادارے میں کام بند ہونا لازمی نہیں اور ہنگامی طبی خدمات جاری رہیں گی۔ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے صورتِ حال قدرے پیچیدہ ہے، کیونکہ وزارتِ ٹرانسپورٹ نے بعض شعبوں میں ہڑتال ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن USB نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران قومی ریلوے گروپ اور ٹرینورڈ نے 29 اور 30 اکتوبر کے لیے معمول کے مطابق ٹرینیں چلانے کی اطلاع دی ہے، تاہم مقامی بسوں، ٹیکسیوں اور فضائی سفر کے لیے متعلقہ کمپنیوں کے اعلانات دیکھنا ضروری ہے۔ حکام نے بڑے شہروں میں مظاہروں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نگرانی بڑھانے کی تیاری بھی کی ہے۔ مجموعی طور پر اس احتجاج کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے مقابلے میں تنخواہوں کی قوتِ خرید کم ہو رہی ہے اور مزدور تنظیمیں حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔