*پرویزیاں*
یہ 1968 کے اوائل کی بات ہے جب جناح کالج کراچی اسٹوڈنٹس یونین کےالیکشن میں این ایس ایف جیت گئی تھی یہ کالج غنڈوں کی آماجگاہ بھی کہلاتا تھا مگر این ایس ایف نے ایک دبلے پتلے سے لڑکے ضیا اللہ کو صدارتی امیدوار کھڑا کرکے غنڈوں کو بہت واضح پیغام دیا تھا کہ یہ کالج اب این ایس ایف کا گڑھ بن گیا ہے۔ جماعت اسلامی ہمیشہ ان غنڈوں کے زور پر کامیاب رہتی تھی۔ بعد ازیں اسی کالج میں جماعتوں نے مجھ پر چاقو سے حملہ کرکے زخمی کردیا تھا۔ دوسرے الیکشن کا وقت آیا تو این ایس ایف نے پھر ایک ایسے کمزور لڑکے مبشر اسلم کو کھڑا کرکے کامیاب کرایا جو کہ غنڈوں اور جماعتیوں کیلئے بڑا چیلنج بن گیا تھا۔ اس دوران ایک چھوٹے سے قد کا نوجوان ابھر کر سامنے ایا جو کسی غنڈے یا جماعتوں سے قطعی ڈرتا نہیں تھا اسکی کالج میں این ایس ایف کے حوالے سے سب سے پہلے مجھ سے دوستی ہوئی اور وہ ہمیشہ ساتھ ہی رہنے لگا دوئم یہ کہ وہ ملتان کا رہنے والا تھا اس لئے دوستی اور گاڑھی ہوتی گئی۔ این ایس ایف کی مرکزی قیادت کبھی کرامت علی کی بغیر کسی دعوت یا کسی بڑے لیڈر سے شناسائی کے بغیر این ایس ایف میں شمولیت کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتی تھی۔ اور ہم سب پر زور دیا جاتا تھا کہ اس سے دور رہو۔
جنرل ایوب خان کی حکومت کے دس سال مکمل ہونے پر حکومت نے دس سالہ ترقی کا سال منانے کا اعلان کیا جسکا آغاز انہوں نے بورڈ آف سیکنڈری اسکولز کے دفتر پر ایک عالیشان قسم کا جلسہ کرنے کا اعلان کیا، یہ عمارت جناح کالج کے سامنے تھی۔ جلسہ کو بگاڑنے کیلئے ہم نے منصوبہ بندی شروع کی۔ میں نے سب سے پہلے کرامت علی کو اعتماد میں لیا کیونکہ وہ بہت نڈر قسم کا طالب علم تھا، بڑے سے بڑا غنڈہ بھی اگر چاقو لیکر سامنے آ جائے تو کرامت دو چار جملوں میں ہی اسے چاقو واپس کھیسے میں ڈالنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ اس میں یہ قدرتی اہلیت تھی کہ وہ اپنی گفتگو یا دلیل سے سامنے والے کو با آسانی قائل کر دیتا تھا میں نے اٹھاون سالہ دوستی میں اسے کبھی کسی سے لڑتے یا گتھم گتھا ہوتے ہوئےنہیں دیکھا۔مگر میں نے کسی اور میں سخت سے مخالف کو قائل کرنے جیسی صلاحیت نہیں دیکھی۔ کرامت کو میں نے جلسہ بگاڑنے کا پورا منصوبہ بتایا اور اس سے مشورہ بھی لیا۔ اس جلسے کی صدارت وزیر تعلیم احمد سعید کرمانی کررہے تھے اور مہمان خصوصی ڈائریکٹ ایجوکیشن مسٹر بی کے شیخ تھے جنکے نام کا مخفف ہٹادیا جائے تو وہ ایک انتہائی بری گالی بن جاتا ہے۔ جلسہ شروع ہوگیا، ہم سب بورڈ آفس میں داخل ہونے والی خواتین کی آڑ لیکر داخل ہوگئے مگر معلوم نہیں کرامت علی کس طرح بالکل اسٹیج کے پیچھے پہنچ کر پوزیشن لے چکا تھا۔ بی کے شیخ کی تقریر پر میں نے ان کے نام کے مخفف کو بلند آواز سے کھولا تو پورا پنڈال قہقہوں سے گونج اٹھا اسی اثنا میں لڑکوں نے جیب سے پتھر نکالے اور اسٹیج کی طرف پھینکے مگر کرامت علی پنڈال کی رسیاں تیز رفتاری سے کھولتے رہے۔ ایک بھگڈر مچ گئی۔ ہم لوگ بھاگے اور ہمارے پیچھے سینکڑوں لوگ بھاگے جنہوں نے ہمیں کندھوں پر اٹھا لیا اور کراچی کے اسکولوں و کالجوں پر لیجا کر نعرے لگائے یوں کراچی سے سب سے پہلے ایوب خان کیخلاف تحریک شروع ہوگئی۔ اسی شام گورنمنٹ کالج میں بھی جلسہ تھا وہاں وزیر قانون ایس ایم ظفر مہمان خصوصی تھے لڑکوں نے اس جلسے کو بگاڑنے کیلئے ہم سے کہا، یہاں بھی کرامت علی نے اپنی خدمات پیش کردی اس طرح ایوب خان کے خلاف بھرپور تحریک شروع ہوگئی۔
این ایس ایف اور اسے چلانے والی پارٹی ہم سب کیخلاف ہوگئی وہ کہتے تھے ایوب خان کی چین سے اچھی دوستی ہوگئی ہے اس لئے ایوب مخالف تحریک سامراج کے حق میں جائے گی مگر ہمیں معلوم تھا کہ جب تحریک زور پکڑے گی تو پھر “پارٹی” اسکا سہرہ اپنے سر سجانے اجائے گی۔
اس کے بعد سے میری اور کرامت علی کی دوستی مضبوط ہوتی گئی۔ اس دوستی کا دائرہ کار اور وسیع ہوا پھر رشید رضوی (سابق جسٹس) عابد علی سید تک پھیلی اور اسے خلفائے راشدین کے نام سے لوگ پکارتے تھے۔ ہم نے طلبہ تحریک سے آگے بڑھ کر کچھ اور کرنے کی ٹھانی۔ سینیٹر تاج حیدر کی سربراہی میں ہم لوگوں نے غریب بستیوں میں تعلیم بالغان پروگرام کرنا، پولیو اور شناس کے خلاف ڈراپس پلانے، لوگوں کو صفائی کی مہم جاری رکھنے کی مہم شروع کی جس میں بہت کامیاب رہے۔
مگر کرامت علی ہمیشہ مزدوروں کے ساتھ کام کرنے کی بات کرتا تھا۔ یہ 1972 کے وسط کی بات ہے میں پی ٹی وی کراچی پر کچھ چھوڑ موٹا کام کرتا تھا جس میں نوجوانوں اور محنت کشوں خاص کر کسانوں سے متعلق پروگرام کرتا تھا۔ ایک دن کرامت علی اسٹیشن آیا اور مجھے مڈل کلاسیہ قرار دیتے ہوئے کہنے لگا سائٹ ایریا میں مزدوروں پر فائرنگ ہورہی ہے ، لوگ مارے جارہے ہیں اور تم یہاں بیٹھے کیریئر بنارہے ہو۔ اس زمانے میں پی ٹی وی کچھ لوگوں کو پروڈیوسر کی ٹریننگ کا سوچ رہی تھی لیکن میں بھی جذباتی ہوکر کرامت علی کے ساتھ چل پڑا۔ سائٹ میں 7 جون کو فیروز سلطان ٹیکسٹائل ملز کے احتجاجی محنت کشوں پر پولیس فائرنگ کی گئی تھی۔ مزدوروں نے لاشوں کو اٹھا کر اپنی بستیوں میں لے گئے اور پھر کراچی کے تمام صنعتی اداروں اور علاقوں کو کئی دنوں تک احتجاجی طور پر بند رکھا۔ مزدور کے رہنما عثمان بلوچ پہاڑی بستیوں میں بیٹھ کر کامیاب تحریک چلائی، کرامت علی ان کے ساتھ محنت کشوں کی بستیوں سے تحریک چلاتے رہے اور مجھے حسب معمول گرفتار کرلیا گیا۔ تحریک کی کامیابی کے بعد مجھے رہا کردیا۔ یوں میں اور کرامت علی مزدور تحریک سے جڑ گئے پھر ہمیں متحدہ مزدور فیڈریشن کے عہدیدار بھی منتخب کرلیا گیا۔ ہم لوگوں کی مزدور تحریک میں شمولیت کا مقصد تھا کہ طلبہ محنت کشوں کی تحریک سے جدا کوئی الگ حیثیت والی کمیونٹی نہیں ہے ۔ اس کے بعد طلبہ ایک بڑی تعداد اور تنظیمیں محنت کشوں کی تحریکوں سے منسلک رہے۔ یہی وجہ تھی کہ جنرل ضیا الحق نے 1984 میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا کر لسانی و مذہبی جماعتوں سے وابستہ طلبہ تنظیموں کو خوب پروان چڑھایا بلکہ دل کھول کر جدید ہتھیاروں سے مسلح بھی کردی۔
۔( جاری ہے )
اگلی قسط لکھنے سے پہلے بتادوں کہ کرامت علی ہم سب کے مقابلے میں ممتاز آرٹسٹ محترم صادقین کے بہت قریب ہوگئے تھے اور خطاطی بھی ان ہی سے سیکھی۔ این ایس ایف کے سرگرم ساتھی سلطان احمد صادقین صاحب کے بھتیجے ہیں اس بنا ہم سب صادقین صاحب کے بھتیجے کہلائے جانے لگے۔ اس پر اگلی قسط میں بات ہوگی