November 1, 2026

پختونخوا حکومت کے خلاف آج کل ایک بہت بڑا پراپیگنڈا چل رہا ہے کہ۔۔ وہ یونیورسٹیوں کی زمین فروخت کر رہے ہیں۔۔ اور اس سلسلے میں طرح طرح کے مصالحے لگا کر ان خبروں کو بیچ رہے ہیں۔۔

20240730_170303

پختونخوا حکومت کے خلاف آج کل ایک بہت بڑا پراپیگنڈا چل رہا ہے کہ۔۔
وہ یونیورسٹیوں کی زمین فروخت کر رہے ہیں۔۔ اور اس سلسلے میں طرح طرح کے مصالحے لگا کر ان خبروں کو بیچ رہے ہیں۔۔

لیکن زیادہ تر لوگوں کو اس کا اصل بیک گراؤنڈ ہی معلوم نہیں۔۔

اے این پی نے اپنے دور حکومت میں ہزاروں کنال کی زمینیں یونیورسٹیاں بنانے کے نام پر منظور کیں۔۔ لیکن اس کا اصل مقصد ان زمینوں پر اپنا، اپنے باپ دادا کا نام لکھوانا تھا۔۔
ایک مثال ہے باچا خان یونیورسٹی۔۔
لیکن اس یونیورسٹی کی ٹوٹل قیمت کی سوا دو فیصد سے زیادہ قیمت ادا نہیں کی گئی۔۔
اب عدالت نے حکم دیا ہے کہ۔۔ ان زمینوں کے جو مالکان ہیں۔۔ ان کو موجودہ حکومت پیسہ ادا کرے۔۔ جو کہ اربوں میں بنتا ہے۔۔

اسی لیے علی امین گنڈاپور نے اضافی زمینوں کو بیچ کر وہ ادائیگیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔

پہلی بات۔۔ صرف اضافی زمینوں کو بیچا جائیگا۔۔ جن کا ٹیکنیکلی کوئی خاص فائدہ نہیں۔۔
دوسرا۔۔ اگر یہ پیسہ ان اضافی زمینوں کو بیچ کر ادا نہیں کیا گیا۔۔ تو حکومت کو اپنے خزانے سے ادا کرنا پڑے گا۔۔ جس کا بوجھ عوام پر آئیگا۔۔
یا تو عوام وہ پیسے ادا کرے گی۔۔ یا پھر حکومت ادا کرے گی۔۔ لیکن اس سے جو ریلیف عوام کو ملنا ہے۔۔ وہ نہیں ملے گا۔۔

تو یہ بات کلیئر ہے۔۔ کہ اس فیصلے کا اصل فائدہ عوام کو ہی ہے۔۔!!!