آئینہ وقت عنوان: فاطمہ جناح سے علیمہ خان تک — ایک نظریاتی سفر کی تنقیدی کہانی تحریر: محمد حنیف شاہد ارائیں
آئینہ وقت
عنوان: فاطمہ جناح سے علیمہ خان تک — ایک نظریاتی سفر کی تنقیدی کہانی
تحریر: محمد حنیف شاہد ارائیں
قومیں جب عظمت کی طرف بڑھتی ہیں تو ان کے راستے میں روشنی کے مینار بنتے ہیں، اور جب ان کے کردار پر زوال آتا ہے تو یہی مینار نشانے پر آجاتے ہیں۔
برصغیر کی آزادی کی تحریک ہو یا پاکستان کی نظریاتی سیاست — ہر دور میں عورت کا کردار کسی نہ کسی شکل میں نمایاں رہا۔
آج ہم قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح سے لے کر عمران خان کی بہن علیمہ خان تک کے اس سفر کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جسے سیاست، کردار کشی، اور سازشوں نے ایک مشترکہ ربط میں باندھ دیا ہے۔
فاطمہ جناح — قوم کی ماں، سازش کا نشانہ
فاطمہ جناح بظاہر ایک بہن تھیں، مگر حقیقت میں وہ قائداعظم کی تحریکِ پاکستان کا خاموش سہارا تھیں۔ جب برصغیر میں خواتین کا سیاسی عمل دخل نہ ہونے کے برابر تھا، تب فاطمہ جناح نے نہ صرف تحریکِ پاکستان میں متحرک کردار ادا کیا بلکہ بعد ازاں ایوب خان جیسے آمر کے مقابل صدارتی الیکشن بھی لڑا۔
لیکن قوم کو یاد رکھنا چاہیے کہ:
اُن پر غداری، بھارتی ایجنٹ اور مغربی ایجنڈے کی پیروکار ہونے کے الزامات لگے۔
ایوب خان نے سرکاری مشینری استعمال کر کے اُن کی کردار کشی کی۔
ریاستی اداروں نے اُن کے جلسوں کو زبردستی ناکام بنایا۔
فاطمہ جناح کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ سچ اور اصول کے ساتھ کھڑی ہوئیں — اور یہی ان کا جرم بن گیا۔
علیمہ خان — خاموش خدمت، نشانہ پھر وہی
اب آئیے 2020 کی دہائی کی طرف، جب پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک اور غیر معمولی لیڈر عمران خان کے گرد گِھم رہی ہے۔ ان کی ہمشیرہ علیمہ خان — جنہوں نے نہ کبھی کوئی سیاسی عہدہ لیا، نہ کسی وزارت پر قبضہ کیا، نہ قومی خزانے کو نقصان پہنچایا — آج ایک بار پھر فاطمہ جناح کی طرح تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔
سوال یہ ہے:
وہ کس بنیاد پر نشانے پر ہیں؟
صرف اس لیے کہ وہ عمران خان کی بہن ہیں؟
یا اس لیے کہ وہ اُس بیانیے سے جڑی ہیں جو پاکستان کو آزاد خارجہ پالیسی، کرپشن سے پاک سیاست اور عوامی خودداری کا خواب دیتا ہے؟
l
ایک جیسی حکمتِ عملی، بدلتے چہرے
فاطمہ جناح اور علیمہ خان میں بہت فرق ہے — وقت کا، انداز کا، اور سیاسی کردار کا —
لیکن ایک قدر مشترک ہے: کردار کشی کی حکمتِ عملی۔
1. فاطمہ جناح پر الزام لگے کہ وہ قوم کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔
2. علیمہ خان پر الزام لگے کہ وہ پوشیدہ جائیدادیں چھپاتی ہیں، حالانکہ اُن کے خلاف کوئی کرپشن کیس، کوئی عدالت کا فیصلہ یا سرکاری عہدے کا ریکارڈ موجود نہیں۔
فرق صرف زمانے کا ہے، نیتوں کا نہیں۔
جب ریاست، میڈیا، اور طاقتور طبقات کو کسی شخصیت کا بیانیہ ہضم نہ ہو، تو وہ اس کے اہلِ خانہ پر حملہ کرتے ہیں — اور عورت تو ویسے بھی کمزور سمجھی جاتی ہے، آسان نشانہ۔
اصل ہدف: نظریہ
یہ کبھی علیمہ خان کی ذات کا معاملہ نہیں رہا۔
اصل ہدف وہ نظریہ ہے جس کی نمائندگی عمران خان کرتے ہیں — اور جس کی علامت علیمہ خان جیسے کردار ہیں۔
اگر وہ واقعی کرپٹ ہوتیں، تو آج کابینہ کا حصہ ہوتیں۔
اگر وہ واقعی کسی اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی ہوتیں، تو ہر چینل پر اُن کے حق میں پروگرام چلتے۔
لیکن چونکہ وہ غیر سیاسی ہو کر بھی ایک نظریے سے وابستہ ہیں، اس لیے انہیں فاطمہ جناح کی طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کالم کی آخری بات
قومیں اگر ماضی سے سبق نہ سیکھیں، تو حال اُن کے مقدر پر ظلم بن کر ٹوٹتا ہے۔
فاطمہ جناح کو غدار کہنے والی زبان آج علیمہ خان کو بھی نہیں بخش رہی۔
کیا ہم دوبارہ وہی غلطی دہرا رہے ہیں؟
یاد رکھیں!
خواتین کا وقار صرف اُس وقت تک محفوظ نہیں رہ سکتا جب تک ہم اسے بیانیے، رشتے اور نظریے سے ماورا دیکھنے کا ہنر نہ سیکھ لیں۔
آج اگر ہم علیمہ خان کو بدنام کرنے والوں کے ساتھ خاموشی سے کھڑے رہے تو کل کوئی ہماری بیٹی، بہن یا ماں بھی اس بے رحم چکی میں پیس دی جائے گی۔
سوچیے… فیصلہ کیجیے… سچ کے ساتھ کھڑے ہوں…
کیونکہ یہ محض علیمہ خان کا معاملہ نہیں، یہ پاکستان کے سیاسی اخلاقیات کا آئینہ ہے۔
محمد حنیف شاہد ارائیں
آئینہ وقت