آج پاکپتن میں ” بہشتی دروازہ ” کھولا گیا ہے، جو آئندہ پانچ دنوں تک عشاء سے فجر کے درمیان کھلا رہے گا۔ ہر روز تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد اس دروازے سے گزرتے ہیں،
آج پاکپتن میں ” بہشتی دروازہ ” کھولا گیا ہے، جو آئندہ پانچ دنوں تک عشاء سے فجر کے درمیان کھلا رہے گا۔ ہر روز تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد اس دروازے سے گزرتے ہیں، کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ ایک بار اس دروازے کے نیچے سے گزرنے سے تمام گناہ دھل جاتے ہیں — جیسے کوئی آٹو کلین سروس ہو، بس بغیر نیت و ندامت کے پار ہوجاؤ اور جنت پکی!
دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے تین بڑے مقدسات — مسجد الحرام کے 243، مسجد نبوی کے 110، اور بیت المقدس کے 11 دروازے — ملا کر بھی 364 دروازوں میں ایسا کوئی “پاک صفائی” آلہ دستیاب نہیں جو صرف نیچے سے گزرنے پر مغفرت کی گارنٹی دے۔
میں سوچ رہا تھا کہ تیرہویں صدی سے پہلے والے لوگ کیسے جیتے ہوں گے؟ شائد توبہ، استغفار، عبادات، اور اعمالِ صالحہ جیسے پرانے، غیر منافع بخش طریقوں سے بخشش مانگتے ہوں گے۔
یہ جنت کا واحد دروازہ ہے جس پر پنجاب پولیس تعینات ہے، اور جہاں داخلہ بھیڑ کے باعث جان لیوا ہو چکا ہے۔ 2021 میں رش کی وجہ سے 27 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 2010 میں ایک خودکش بمبار نے چھ افراد کو ساتھ لے کر جنت میں “داخلہ” لے لیا۔
مگر اصل کمال ان حضرات کا ہے جنہوں نے اس عقیدے کو ایک شاندار کاروباری ماڈل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ دروازہ کھلتے ہی گناہ دھونے کے ساتھ ساتھ جیبیں بھی صاف ہو جاتی ہیں — زائرین سے چندہ، نذرانے، عقیدت کے بدلے کرنسی، اور باب جنت کا VIP پاس الگ سے۔ یوں لگتا ہے جیسے جنت کی فرنچائز کسی مافیا کو آؤٹ سورس کر دی گئی ہو۔
اصل میں یہ جنت نہیں، عقیدت کے نام پر اندھی تقلید سے بنائی گئی وہ دکان ہے جہاں ایمان بیچا اور خریدا جاتا ہے — گناہوں سے نہیں، عقل سے توبہ واجب ہے۔
ڈاکٹر سمیع اللہ عارف