October 2, 2026

اس قانون کا اطلاق پورے پاکستان پر ہوگا اور یہ نافذ ہوتے ہی موثر ہوگا ۔

20250629_150020

اس قانون کا اطلاق پورے پاکستان پر ہوگا اور یہ نافذ ہوتے ہی موثر ہوگا ۔

بل پانچ حصوں پر مشتمل ہے: تعارفی شقیں، صحافیوں کے حقوق، ٹریننگ و انشورنس، تحقیقات و شکایات کا ازالہ، اور دیگر شقیں ۔

—

🔹 صحافیوں کے اہم حقوق

ہر صحافی کو زندگی، ذاتی سلامت اور تحفظ کا حق ہے (آئین کا آرٹیکل 9) ۔

ذرائع کی رازداری کا مکمل تحفظ؛ کوئی دباؤ یا جبر نہیں کیا جا سکتا ۔

انہیں اپنے پیشے کی ادائیگی میں کسی بھی ادارے یا قانون سے رکاوٹ نہیں ہوگی ۔

مواد کے ضمن میں ذمہ داری: صحافی جان بوجھ کر جھوٹی معلومات نہیں پھیلائے، اگر اسے معلوم ہو ۔

—

🏛️ کمیشن کا قیام

ایک آزاد اور بااختیار کمیشن قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی ریٹائرڈ سول کورٹ کے جج کریں گے ۔

ارکان میں PFUJ، پریس کلب، وزارت اطلاعات، وزارت انسانی حقوق وغیرہ شامل ہوں گے ۔

—

📢 شکایت و ازالہ

اغوا، تشدد، دھمکی اور ہراسانی کی صورت میں صحافی 14 دن کے اندر شکایت کر سکتے ہیں، جبکہ کمیشن 14 دن میں فیصلہ سنائے گا ۔

کمیشن کو تحقیق کے دوران تمام دستاویزات اور معلومات طلب کرنے کا اختیار ہوگا ۔

متاثرین کے لیے معاوضہ اور فوری کارروائی کے انتظامات بل میں شامل ہیں ۔

—

🎓 ٹریننگ اور انشورنس

میڈیا ہاؤسز کو صحافیوں کو تعیناتی کے بعد ایک سال میں سیفٹی ٹریننگ دینے اور زندگی و صحت کا انشورنس فراہم کرنے کی پابندی ہوگی ۔

—

⚠️ دیگر اہم شقیں

سیکشن 6: صحافی پر ذمہ داری ہے کہ وہ جان بوجھ کر منفی یا جھوٹا مواد نہ پھیلائے—صحافی اس شق پر خطرات (مثلاً غیر واضح “نیک نیتی”) کی وجہ سے معاملات کو سیاسی یا ریاستی دباؤ سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کر چکے ہیں ۔

دہشت گردی یا قومی سلامتی کے تحت اس قانون کی خلاف ورزی صحافیوں کے خلاف نہیں کی جا سکتی ۔