October 23, 2026

بچیوں کی تعلیم اور خواتین یونیورسٹی لازم و ملزوم۔*

IMG-20240730-WA0201

*بچیوں کی تعلیم اور خواتین یونیورسٹی لازم و ملزوم۔*

قوموں کی ترقی کا راز اس ملک میں شرح خواندگی سے وابستہ ہے، کوئی بھی ملک تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمارا پیارا پاکستان جس میں ایک بڑا طبقہ خصوصا بچیوں کی کثیر تعداد اعلی تعلیم کے اس زیور سے صرف اسی وجہ سے محروم رہ جاتی ہے کہ انکو مخلوط نظام تعلیم میں علم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچیوں کی تعلیم بھی اسی قدر ضروری ہے کیوں کہ ایک بچے کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے جبکہ ایک بچی کی تعلیم پورے خاندان بلکہ میں سمجھتی ہوں کہ پورے معاشرے کی تعلیم ہوتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی ماں ہی ایک پڑھا لکھا معاشرہ قائم کرنے میں اہم رول ادا کر سکتی ہے لیکن کچھ نامساعد حالات کی وجہ سے بچیاں اپنے تعلیمی کیریئر پر توجہ نہیں دے سکتی اور خصوصا اعلی تعلیم کے حصول کے لیے چھوٹے شہروں میں بچیوں کی تعلیم کے لیے خواتین یونیورسٹیز کو نہ ہونا ہے۔ میانوالی بھکر اور اس طرح کے علاقوں میں جہاں پر وہاں کے اپنے علاقائی اقدار، رسوم و رواجات ہیں گو کہ یہاں پر یونیورسٹیز ہیں لیکن مخلوط تعلیمی نظام ہونے کی وجہ سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور انہی مسائل کی وجہ سے لوگ اپنی بچیوں کو یونیورسٹیز میں بھیجنے سے کتراتے ہیں اور نتیجہتا وہ اعلی تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔ میں نے بھی بطور سٹوڈنٹ اور پروفیشنل لیڈی کے طور پر کافی سارے مسائل کا سامنا کیا ہے اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ میانوالی کی بیٹی ہونے کے ناطے سے اس مٹی کا مجھ پر قرض ہے کہ میں اس شہر میں مقیم وہ بچیاں جو اعلی تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں ان کے لیے الگ خواتین یونیورسٹی کا مطالبہ بار بار دہراوں۔ صرف میانوالی شہر میں خواتین میں شرح خواندگی 50 فیصد سے زائد ہے لیکن مخلوط نظام تعلیم کی وجہ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں کی تعداد بہت کم رہ جاتی ہے۔ میانوالی یونیورسٹی جہاں مخلوط تعلیم نظام ہونے کے باوجود وہاں پر زیادہ تعداد تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں کی ہے جو اس بات کی تائید کرتا ہے کہ اگر خواتین کے لیے علیحدہ یونیورسٹی کا قیام عمل میں ا جائے تو اس تعداد میں کئی گنا اور اضافہ ہو سکتا ہے جو اس علاقے کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ میانوالی اور بھکر کے سنگم ایم ایم روڈ پر وسیع تعداد میں گورنمنٹ کا رقبہ جات پڑے ہیں جہاں پر ایک ایسا یونٹ جس کو خواتین یونیورسٹی کے نام سے منسوب کیا جائے، قائم ہونا چاہیے تاکہ وہاں پر تعلیم حاصل کرنے والی بچیاں بغیر کسی رکاوٹ کے اور مشکلات کے اعلی تعلیم حاصل کر کے اس معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔