آئینہ وقت کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں فتنۂ بلوچستان کا پردہ چاک (تسلسل)
آئینہ وقت
کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں
فتنۂ بلوچستان کا پردہ چاک (تسلسل)
…وہی شواہد بھی برآمد ہوئے جو ایران میں موساد نیٹ ورک سے حاصل ہوئے تھے۔ اس تعاون نے نہ صرف دونوں ہمسایہ ممالک کے سیکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کو گہرا کیا بلکہ دہشتگردی کے اس نیٹ ورک کی کمر بھی توڑ دی جو برسوں سے بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے درپے تھا۔
پاکستان کی انسداد دہشتگردی فورسز نے نہایت سرعت سے کارروائیاں کیں۔ پنجگور میں اسلحے کے ایک خفیہ گودام کو سیل کیا گیا، تربت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک میڈیا سیل پر چھاپہ مارا گیا، اور کوئٹہ میں ان پمپ مالکان کی فہرست مرتب کی گئی جو ایرانی تیل کی آڑ میں دہشتگردی کی مالی معاونت کر رہے تھے۔
ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ ان کارروائیوں کے بعد بی ایل اے کی سوشل میڈیا مہمات اچانک بند ہو گئیں۔ وہی ہیش ٹیگز جو انسانی حقوق کی آڑ میں ریاست کو بدنام کرنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے، وہ اچانک خاموش ہو گئے۔ ان جعلی بیانیوں کا تانا بانا بھارتی فنڈنگ سے جڑا تھا، اور جب اس کا راستہ بند ہوا، تو ساری مہم خود بخود زمین بوس ہو گئی۔
مزید یہ کہ ایرانی چھاپے کے دوران گرفتار ہونے والا شخص، راجیش سنگھ، محض ایک ایجنٹ نہیں بلکہ مالیاتی گیم کا اصل مہرہ نکلا۔ دبئی کی شیل کمپنیوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر بلوچستان میں جھوٹ اور اشتعال کے بیج بونے پر خرچ کیے گئے۔ یہ حقیقت ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ دشمن کس باریکی سے پاکستان کے اندر اختلاف، فساد اور نفرت کو ہوا دے رہا تھا۔
لیکن یہ سب صرف دشمن کی چالیں نہیں، ہماری آنکھیں کھولنے کا موقع بھی ہیں۔ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم اپنی وحدت، اپنے قومی بیانیے اور اپنی سرزمین کے لیے کتنا سنجیدہ رویہ اپناتے ہیں۔ دشمن نے صرف اسلحے سے نہیں، الفاظ اور نظریات سے حملہ کیا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم صرف بندوق سے نہیں، سچائی سے، اتحاد سے، اور دانش سے اس کا جواب دیں۔
بلوچستان کا دکھ، پاکستان کا دکھ ہے۔ جو نوجوان دشمن کے فریب میں آ گئے، ان تک سچ پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں ان سے نفرت نہیں، محبت سے ان کا دل جیتنے کی ضرورت ہے۔ مگر جو لوگ بیرونی ایجنڈوں پر ریاست سے جنگ چھیڑتے ہیں، انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستان اب بیدار ہو چکا ہے۔ اور بیدار قومیں نہ بکتی ہیں، نہ جھکتی ہیں۔