October 28, 2026

بدھ کو جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں

IMG-20250620-WA0259

بدھ کو جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں؟، تو انہوں نےجواب دیا کہ امریکا ایران کی جوہری تنصیبات پرحملہ کرے گا یا نہیں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا، ہم دیکھیں گے کہ کیا ہو رہا ہے، ابھی کچھ ختم نہیں ہوا، ہم ایران پر حملہ کر بھی سکتے ہیں یا نہیں بھی کر سکتے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کو 60 دن دیے تھے، ایران کو کئی بار جوہری معاہدے کا کہا گیا، پہلے دورمیں بھی کہا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیارنہیں ہونے چاہئیں۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات کے بعد گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل اب بھی ہوسکتی ہے، ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔

ٹرمپ نے کہا کہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ میں کیا کرنے جارہا ہوں، اگلا ہفتہ اہم ہے، اَن کنڈیشنل سرنڈر کا مطلب ہے کہ ایران یہ کہے بس بہت ہوگیا ، ہم ہار مانتے ہیں ، اس کے بعد ہم وہاں جاکر تمام جوہری سامان کو تباہ کردیں گے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا اور خبردار کیا کہ امریکی فوجی مداخلت کے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہوں گے۔