غزہ میں خدمات انجام دینے والے امریکی سرجن نے دہلا دینے والی گواہی دیتے ہوئے کہا
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0
غزہ میں خدمات انجام دینے والے امریکی سرجن نے دہلا دینے والی گواہی دیتے ہوئے کہا کہ میرے زیادہ تر مریض چھوٹے بچے تھے جن کے جسم دھماکوں سے کٹے ہوئے تھے، وہ پوچھتے تھے میں اپنی بہن، ماں یا والد کے ساتھ کیوں نہیں مرا؟
اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی سگرید کاگ نے کہا کہ ہمیں لوگوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تعداد کے عادی نہیں ہونا چاہیے، یہ سب بیٹیاں، مائیں اور چھوٹے بچے ہیں جن کی زندگی برباد ہو چکی ہے، ہر ایک کا ایک نام تھا، ہر ایک کا مستقبل تھا، ہر ایک کے خواب اور آرمان تھے، اب جو امداد آ رہی ہے وہ جہاز ڈوبنے کے بعد دی گئی لائف بوٹ جیسی ہے