ورڈ کاونٹ:1615 درحقیقت خالد نجیب خان
Rubar stemp
ورڈ کاونٹ:1615
درحقیقت
خالد نجیب خان
khalednajeebkhan@gmail.com
قوم کوہمیشہ بنیان مرصوص رہنا ہوگا
آرٹیفشل انٹیلجنس اور سوشل میڈیا کے اِس دور میںزندگی کے بہت سے کام جہاں آسان ہوگئے ہیں وہاں بقول علامہ اقبال
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
افسوسناک بات تو یہ ہے کہ مروت نام کی کوئی شے پہلے کسی زمانے میں خصوصاً علامہ اقبال کے زمانے میں شاید ہوتی ہو ورنہ آج اِس نام کی کوئی چیز کم از کم عوامی اور سرکاری سطع پر نہیں پائی جاتی ۔
ایک زمانہ وہ تھاکہ جب کسی حکمران کی جنبش آبرو کو بھی لوگ مروتاً قانون سمجھ لیتے تھے اور وہ حکمران بھی ایسے بامروت ہوتے تھے کہ اپنی رعایا کی امیدوں پر پانی نہیں پڑنے دیتے تھے ۔پھر لوگوں نے اعتراض کیا کہ فرد واحد کے بنائے قانون کی بجائے کوئی قانون ساز ادارہ ہوجو عوام کی منشا اور ضروریات کے مطابق قوانین بنائے ،چنانچہ اس فارمولے کے مطابق قوانین سازی ہونے لگی ۔ ہر ملک میں قانون ساز اداروں کے نام تو مختلف تھے مگر کام کم و بیش ایک جیسا ہی تھا ۔پھر کسی کے ذہن میں خیال آیا کہ اس قانون ساز ادارے میں اُس کی اپنی مرضی کے لوگ ہوں تاکہ کوئی ایسا قانون نہ بن جائے جس پر کل کواُس کی پکڑ ہوجائے ۔یہ خیال جو پہلے کسی ایک فرد کے ذہن میں آیا تھا پھر اور بھی کئی لوگوں کے ذہن میں بھی آگیا تو ہر کسی نے اپنی بساط کے مطابق لوگ اُس قانون ساز ادارے میں بھجوانا شروع کردئیے۔ایسے میں پھر جو قانون سازی ہوتی وہ تکنیکی طور پر درست ہوتی مگر وہ وسیع طرح مفاد کی بجائے چند لوگوں کے مفادات کی ہی نگہبانی کرتی ۔ بعض اوقات ایسےقانون ساز ادارے کے اِن اراکین کو بنے بنائے قوانین دے دئیے جاتے جنہیں تکنیکی طور پر قانون کا درجہ دلانا اُن کا کام ہوتا ۔عام اور سادہ عوام بلکہ بعض اوقات تو قانون ساز ادارے میں ووٹنگ میں حصہ لینے والے افراد بھی اِن پیچیدگیوں سے چونکہ واقف نہیں ہوتے تھے اِس لئے یہ کام بخوبی ہو جاتا ۔تاہم اُس وقت ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کی اصطلاع سامنے آگئی ۔
“ربڑ اسٹمپ پارلیمنٹ” کی اصطلاع اب نئی نہیں ہے کیونکہ ٹی وی ٹاک شوز میں یا پھر عام محافل میں بھی یہ لفظ عموماً استعمال ہوتا رہتا ہے۔ کسی آزاد ملک کی پارلیمنٹ کے حوالے سے اگر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو یقین کر لیں کہ یہ اچھے معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔ اس سے بھی بُری بات یہ ہے کہ اُس پارلیمنٹ میں بھی کچھ اچھا نہیں ہورہاہوتا،اسی لئے یہ بُرا لفظ استعمال میں لایا جاتا ہے۔ “ربڑ اسٹمپ پارلیمینٹ” درحقیقت خود سے کام نہیں کرتی بلکہ باہر بیٹھے چند عناصر اُس سے کام لیتے ہیں۔
اصولاً تو پارلیمنٹ کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہاں بیٹھے عوامی یا غیر عوامی نمائندے اپنے ملک ،قوم اور عوام کے مفاد اور فلاح کے لئے قانون سازی کرتے ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ کئی ممالک میں پارلیمنٹ ایسی ہیں کہ وہ اپنے ملک، قوم اور عوام کی بجائے کسی اور ملک ،قوم اور اُس کے حکمرانوں کے مفاد کے لئے اپنے ملک کے لوگوں کے لئے قانون سازی کرتے ہیں۔مہذب اقوام کے لوگ جب کبھی یہ سنتے ہیں کہ فلاں ملک کی پارلیمنٹ نے اپنے ملک اور قوم کے مفاد کے خلاف کوئی قانون بنایا ہے تو اُنہیں یقین ہی نہیں آتا کہ کوئی پارلیمنٹیرین ایسا بھی کرسکتا ہے۔اُن کے نزدیک کسی ایک آدھ پارلیمنٹیرین نے اگر ایسا کیا بھی ہے تو مانا جاسکتا ہے کہ یہ اُس کا ذاتی فعل ہو مگر کثرت رائے سے ایسا کوئی قانون بن جانا تو ناقابل یقین ہے۔بہرحال دنیا کے کئی ممالک میں ایسا ہوتا ہے ۔ ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے یا نہیں اِس بات کا اندازہ صرف اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کبھی یہاں کی پارلیمنٹ میں تحفظ ناموس رسالت کی آڑ میں قانون میں ایسی ترامیم کر دی جاتی ہیں کہ یہ قانون بے عمل ہو کر رہ جاتا ہے اور کبھی خواجہ سراؤں کو قانونی تحفظ دینے کی آڑ میں ٹرانس جینڈر ایکٹ کے ذریعے ہم جنس شادیوں کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ انتہائی افسوس ناک بات تو یہ ہے ایسے قوانین پر جب عوام احتجاج کرتی ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ بل فلور پر پرائیوٹ طور پر لایا گیا تھا اور عموماًاُس وقت پاس ہوا جب ایوان میں کورم کی نشاندہی کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ایسے ہی ایک بل پاس ہونے کے بعد ایک دینی جماعت کے نمائندے نے بتایاتھا کہ ہمیں تو اپنی پارٹی کی طرف سے ہدایت ملی تھی کہ اِس بل کی حمایت میں ووٹ دینا ہے ،بل کا مسودہ تو چونکہ انگریزی میں تھا اِس لئے اُسے پڑھنے کاتو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور یوں بھی موقع ہی نہیں ملا۔
دوسری طرف وہ معاملات جن کا تعلق براہ راست دین کے ساتھ بلکہ یہ کہا جائے کہ امربالمعروف و نہی عن المنکر سے ہے، اُن کے حوالے سے بل ہر ایوان کے سٹور رومز میں کچھ اِس طرح سے پڑے ہیں کہ ہر آنے والی اسمبلی میں اُنہیں صرف ہوا خوری کے لئے باہر نکالا جاتا ہے اور پھر وہیں بھیج دیا جاتا ہے۔تاہم اس “ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ” کے اراکین اپنی تنخواہیں اورمراعات بڑھانے کے لئے قانون سازی کرنا کبھی نہیں بھولے اور ایسےبل بھی عام طور پر متفقہ طور پر منظور ہو جاتے ہیں۔تاہم گزشتہ دنوں خبر ملی تھی کہ قومی اسمبلی میں ایسے ایک بل پر حزب اختلاف کے ایک رُکن نے اعتراض کیا تو سپیکر صاحب نے کہا کہ آپ لکھ دیں کہ آپ کو بڑھی ہوئی تنخواہ اور مزید مراعات نہیں چاہیٔں تو آپ کو پرانی تنخواہ ہی ملتی رہے گی۔
چند روز پہلے قومی اسمبلی اورسینٹ میں ایک بل منظور کیا گیا جس میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادیوں پر پابندی لگاتے ہوئے دلہا،شادی کے گواہ اور نکاح خواں پر فوجداری مقدمہ قائم کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس میں 18سال سے زائد عمر کے مرد کی کمسن لڑکی سے شادی پر بھی سزا مقررکی گئی ہے۔کمسن لڑکی سے شادی پر کم از کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال قید بامشقت ہو گی،کمسن لڑکی سے شادی پر جرمانہ بھی ہوگا، کم عمر بچوں کی رضامندی یا بغیر رضامندی شادی کے نتیجے میں مباشرت نابالغ فرد سے زیادتی سمجھی جائے گی ۔
دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعدیہ بل اب صدر مملکت کے دستخط کا متقاضی ہے۔صدر مملکت اگر اِس بل پر یہ اعتراض لگا کر واپس ایوان میں بھیج دیں کہ یہ بل اسلامی احکامات کے خلاف ہے تو یقیناً یہ اِس بات کا ثبوت ہو گا کہ دستور پاکستان کے دیباچے میں لکھی ہوئی عبارت کو سمجھنے والے ارباب اختیار پاکستان میں ابھی زندہ ہیں ورنہ جہاں اور بہت سے غیر اسلامی اور غیر منطقی قوانین موجود ہیں،اُن میں ایک اور کا اضافہ ہو جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ کئی دہائیاں پہلے پاکستانی بچوں میں بلوغت 18سال یا اِس کے بعد ہی ہوتی تھی مگر آج یہ صورت حال نہیں ہے ،مختلف وجوہ کی بنا پر اب بچے بارہ تیرہ سال کی عمر میں ہی بالغ ہو جاتے ہیں۔ موجودہ حالات میں اگر اِس طرح کا کوئی قانون بنانا ضروری ہی تھا تو بلوغت کی عمر کی از سر نو وضاحت کر دی جاتی کہ اب سے 13 سال کے بچے کو جسمانی طور پر بالغ تصور کیا جائے گا۔گزشتہ دنوں یورپ سے آنے والی خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ اب اٹلی میں مردوں اور عورتوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر 67 سال کردی گئی ہے کیونکہ وہاں دیکھنے میں آیا کہ 70 سال کی عمر کے لوگ بھی کام کرنے کے قابل ہیں اِس لئے اُنہوں نے بڑھاپے کی عمر 60 سے بڑھا کر67 سال کردی ہے۔ 67 سال کی عمر میں ریٹائرکرنے سے خزانے پر کیا بوجھ پڑے گا یا نئی نسل کو روزگار ملنے میں کیا کیا دشواریاں پیش آئیں گی،ایک الگ موضوع ہے مگر یہاں زیربحث موضوع میں یہ جاننا کافی ہے کہ اپنی عوام کی فلاح کے لئے قوانین میں ترامیم کی جاسکتی ہیں،خصوصاً عمر کے حوالے سے ۔ ہمارے ہاں بھی چندسال پہلے ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 63 سال کی جا چکی ہے اور اِس سے زیادہ تر فائدہ بڑے گریڈ کے افسران نے ہی حاصل کیا۔
اسلام نے تو نابالغ بچوں کی طلاق کے حوالے سے احکامات بھی واضح کئے ہیں جو اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نابالغ بچوں کی شادی بھی ہوسکتی ہے ۔دُکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار معاشرے میں پھیلنے والی اُن خرابیوں کی بیخ کنی کے لئے تو کوئی قانون سازی نہیں کررہے کہ جن کی وجہ سے زنااور اس سے متعلق دیگر کئی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں جبکہ وہ تمام اسباب ضرور پیدا کررہے ہیں کہ جن سے معاشرتی خرابیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
طبی ماہرین بخوبی جانتے ہیں کہ بلوغت کی عمر ہر علاقے اور تہذیب میں مختلف ہوتی ہے۔پاکستان میں جب فاسٹ فوڈ کا کلچر نہیں آیا تھا تو یہاں کے بچے بھی 18 سال کی عمر کے لگ بھگ ہی بالغ ہوتے تھے مگر اب سوشل میڈیا کے آجانے کی وجہ سے بھی یہ اشاریہ 13سال تک پہنچ چکا ہے ۔ لہٰذا صدر مملکت صاحب اپنی قوم کے بچوں پر رحم کرتے ہوئے اس بل کو واپس بھیج دیں۔
پاکستانی قوم سے بھی گزارش ہے کہ ابھی آپریشن بنیان مرصوص کی شاندارکامیابی کے اعلان پر جو جشن منائے جارہے ہیں اِس کے پس منظرمیں یقیناً یہ امر بھی رہا ہے کہ قوم بنیان مرصوص بن کر کھڑی ہوگئی۔پاکستان کی اصل کامیابی کا راز اِس بات میں پوشیدہ ہے کہ اِس کی قوم ہر وقت بنیان مرصوص بن کر رہے، جہاں کہیں بھی دین کے خلاف کوئی عمل ہو قوم کو بنیان مرصوص بننا ہوگا۔