*اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ میں ٹی ٹی پی کو عالمی خطرہ قرار*
جولائی 2024ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی افغانستان میں سب سے بڑا دہشت گرد گروہ بن چکا ہےاورافغان طالبان اسے دہشت گرد خطرہ نہیں سمجھتے ۔
افغان طالبان ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود کو مالی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے ماہانہ 3.5 ملین افغانی دے رہی ہےاور ٹی ٹی پی کو جدید نیٹو ہتھیار بھی فراہم کیے ہیں۔
افغان انٹیلی جنس نے ٹی ٹی پی رہنماؤں کے لیے کابل میں تین نئے گیسٹ ہاؤسز کی سہولت فراہم کی اور گرفتاری سے استثنیٰ کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کے اجازت نامے بھی جاری کیے گئے۔
ٹی ٹی پی کے ساتھ زیادہ مثبت تعلقات کا مقصد طالبان کے ساتھ مسلسل اتحاد کو یقینی بنانا اور داعش میں شمولیت کو روکنا ہے۔ مگر یہ عام تاثر ہے کہ نور ولی محسود، داعش کے ساتھ خفیہ رابطے برقرار رکھ رہا ہے تا کہ آپشنز کھلے رہیں۔
یہ سمجھا جا رہاہے کہ نور ولی محسود ، داعش کے ساتھ خفیہ رابطے برقرار رکھ رہا ہے تاکہ آپشنز کھلے رہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق ٹی ٹی پی افغانستان میں القاعدہ کے ساتھ مل کر علاقائی خطرہ بن سکتا ہے۔
القاعدہ برصغیر پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں میں ٹی ٹی پی کی مدد کرتی ہےاورتحریک جہاد، افغان طالبان پر دباؤ کم کرنے کے لیے ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) پاکستان اور چین کے مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ پاکستان کے اس دعوے کی حمایت کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی ایک عالمی دہشت گرد خطرہ بن رہا ہے۔
پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی دہشت گردانہ کارروائیاں دوحہ معاہدے کی مکمل خلاف ورزی ہے۔
افغان طالبان اپنےسپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخندزادہ کے اس فتوے کی کھلے عام خلاف ورزی کر رہے ہیں، جس میں واضح طور پر افغانوں کے افغانستان سے باہر جہاد میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔