تم لوگ کس منہ سے عمران خان سے سوال کرتے ہو عمران خان کی حکومت کے خلاف مہنگائی مکاؤ مارچ کرکے امریکی سازش کا حصہ بن کر اسکی حکومت گرانے کے بعد تم لوگوں نے مہنگائی ختم کرنی تو پھر کیا ہوا کہ 14 فیصد والی مہنگائی 43 فیصد پر چلی گئی تم لوگ عمران خان کو IMF کے پاس جانے پر خودکشی کے مشورے دینے والے تم خود کہتے رہے ہو کہ عمران خان نے IMF کے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اب خود IMF کے ساتھ ڈیل کررہے ہو ہمت ہے ویسے تم لوگوں کی کہ کس قدر ڈھٹائی سے اس پر بحث کرنے آجاتے ہو
تمہارے لیڈرز نے ہی کہا تھا نہ کہ عمران خان کو ہٹادیا جائے تو ہم 6 ماہ میں ملکی معیشت کو ٹھیک کر دیں گے ٹھیک تو کیا کرنا تھا الٹا معیشت کا بیڑہ غرق کردیا اب امپورٹڈ اعظم کہتا ہے کہ سمجھ نہیں آرہی کہ پیسے کہاں سے آئیں گے، اسحاق ڈار کہتا ہے مفتاح نے معیشت بگاڑ دی مفتاح کہتا ہے 2013 سے 2018 تک اسحاق ڈار نے معیشت تباہ کی اور معیشت کے لئے بارودی سرنگیں بچھائیں، شاہد خاقان عباسی کہتا ہے معیشت کی خرابی پر عمران خان کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں
تم لوگ کس منہ سے IMF اور معیشت پر بات کرتے ہو، عمران خان حکومت میں آیا تو ن لیگ بالخصوص احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کہتے رہے کہ عمران خان کو IMF سے ڈیل کرنی چاہیے اگر ڈیل نہ کی تو پاکستانی معیشت آگے نہیں بڑھ سکے گی، اگر یہ افلاطون معیشت ٹھیک چھوڑ کر گئے تھے تو عمران خان کو IMF سے ڈیل کے مشورے کیوں دیتے تھے، عمران خان IMF پروگرام میں جانا نہیں چاہتا تھا تو روز میڈیا پر آکر نونی کارٹون بھاشن دیتے تھے کہ عمران خان کو IMF سے قرض لینا چاہیے جب اس نے قرض لیا تو اسے خود کشی کے مشورے دیتے رہے
تم لوگ کس منہ سے عمران خان پر سوال اٹھاتے ہو جب 2018 میں عمران خان کی حکومت آتے ہی تم لوگوں نے کہنا شروع کردیا تھا ملکی معیشت خراب ہے پاکستان کے پاس خزانے میں پیسے نہیں شاہد خاقان عباسی تو یہ تک کہتا رہا کہ عمران خان کو 3 سال لگ جائیں گے یہ تباہ حال معیشت سنبھالنے میں،
تمہاری ڈھٹائی کو داد دینا بنتا ہے ویسے جو 14 فیصد مہنگائی پر تو شور کرتے تھے اس وقت تمہیں کورونا کی وجہ سے ہونے والی عالمی مہنگائی نہیں دکھائی دیتی تھی اور اب 43 فیصد مہنگائی پر تم لوگ خاموش ہو ویسے اتنی ڈھٹائی تم ذہنی غلاموں میں پیدائشی یا وہ مریم اورنگزیب والی بات درست ہے کہ نوازشریف ایک نشہ ہے
تم لوگوں کو عالمی منڈی میں 129 ڈالر فی بیرل میں خریدا گیا تیل پاکستان میں 150 روپے کا مہنگا لگتا تھا، اور آج امپورٹڈ سرکار کے دور میں عالمی منڈی سے 70 سے 80 ڈالر میں خریدا گیا تیل پاکستان میں 275 کا سستا لگتا ہے
اوئے کون لوگ او تسی
منتہا کی چیخیں اور ہمارا مردہ ضمیر
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)ضلع انتظامیہ کی خصوصی ہدایت پر سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)ضلع انتظامیہ کی خصوصی ہدایت پر سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس
جیکب آباد: (نامه نگار) پاکستان محافظ فورم کا واپڈا کی نااہلی اور کرپشن
سرگودھا(راجہ نورالہی عاطف سے) پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں کاروباری سرگرمیوں اور