152

جسٹس اطہر من اللہ کا امریکہ میں بار سے خطاب: ہائبرڈ نظام حکومت اور جمہوری نظامِ حکومت میں عدلیہ کی آزادی کا الگ الگ تصور ہے، جسٹس اطہر من اللہ

جسٹس اطہر من اللہ کا امریکہ میں بار سے خطاب:

ہائبرڈ نظام حکومت اور جمہوری نظامِ حکومت میں عدلیہ کی آزادی کا الگ الگ تصور ہے، جسٹس اطہر من اللہ

ججوں کی تعیناتی میں مجھے ایک جج کو منانے میں تین اور دوسرے جج کو منانے میں دو سال لگے، جسٹس اطہر من اللہ

ان ججوں پر کسی کو اعتراض نہ تھا مگر پورا نظام اِن سے خوفزدہ تھا اور حتی کہ وزیر اعظم بھی ان ججوں کی تعیناتی کی مزاحمت کرنے والوں میں شامل ہو گئے، جسٹس اطہر من اللہ

جنہیں میری عدالت کے علاوہ کہیں سے بھی ریلیف نہیں ملتا تھا آج وہ بھی میرے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ

2022ء میں جو میرے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے تھے اب وہ دوسری طرف کھڑے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ

‏صدر (آصف زرداری) کیخلاف (سوئس حکام کو) خط نہ لکھنے پر وزیر اعظم (یوسف رضا گیلانی) کو عہدے سے ہٹانا غلط تھا کیونکہ صدر کو آئینی استثنی حاصل تھا، جسٹس اطہر من اللہ

9 مارچ 2007 کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جب آرمی ہاؤس میں نظر بند کر دیا گیا تو میرے ساتھی جسٹس یحیی آفریدی کے مشورے پر ہم نے حبسِ بیجا کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا، جسٹس اطہر من اللہ

اور ہمارے وکیل جسٹس منصور علی شاہ تھے، رجسٹرار نے 12 اعتراضات لگائے اور پھر وہ درخواست کبھی نہیں لگی، جسٹس اطہر من اللہ

تمام ججز کو معلوم تھا کہ اُنکے چیف جسٹس گھر میں نظر بند ہیں مگر کسی نے وہ درخواست نہیں سنی، جسٹس اطہر من اللہ

18ویں ترمیم پاکستان کے لئیے بہترین تھی مگر اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اِسے عدلیہ کی آزادی مخالف قرار دیا، جسٹس اطہر من اللہ

اور پارلیمنٹ سے زبردستی 19ویں ترمیم کروائی اور یہ سب وکلا تحریک کے اصولوں کے منافی تھا، جسٹس اطہر من اللہ

وکلا تحریک کے بحال ہونے والے ججوں نے نوجوان نسل کو بہت مایوس کیا، جسٹس اطہر من اللہ

یہ ججوں کی بحالی کی نہیں آئین کی بحالی کی تحریک تھی، جسٹس اطہر من اللہ

میمو گیٹ کیس اِس قابل نہیں تھا کہ سپریم کورٹ اس پر سماعت کرتی، وزرا اعظم کو تاحیات نا اہل کیا گیا اور عہدے سے برطرف کیا گیا، وکلا تحریک اس مقصد کے لئیے نہیں تھی، جسٹس اطہر من اللہ

چڑیا گھر کے ہاتھی، ایک ریچھ اور آوارہ کتوں سے متعلق کیس بھی سنے، جسٹس اطہر من اللہ

جنرل ضیا الحق کی خصوصی صلاحیتوں کی حامل بیٹی کی خواہش پر سری لنکا کی ریاست نے ایک ہتھنی سے اُسکا ایک سال کا بچہ چھین کر ریاست پاکستان کے حوالے کر دیا، جسٹس اطہر من اللہ

اور اُسے ایوان صدر کے عقبی صحن میں چھوڑ دیا گیا اور بعد میں اُسکے لئیے اسلام آباد میں چڑیا گھر کی بنیاد رکھی گئی، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ کے پاس غیر آئینی اقدامات یا آئین کی پامالی کو تحفظ دینے کا کوئی اختیار کبھی نہیں رہا اور اگر ججز ایسا کرتے ہیں تو یہ اُنکے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے، جسٹس اطہر من اللہ

بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ 9 اپریل کی رات کو عدالت کھولنے کی وجہ یہ تھی کی ARY نیوز پر مارشل لأ لگانے کی باتیں کی جا رہی تھی، جسٹس اطہر من اللہ

اور جب ایسی صورت حال ہو تو تمام عدالتوں کو رات کو کھل جانا چاہئیے، جسٹس اطہر من اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں