*_نو مارچ ۲۰۰۷ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جب آرمی ہاؤس میں نظر بند کر دیا گیا تو میرے ساتھی جسٹس یحیی آفریدی کے مشورے پر ہم نے حبسِ بیجا کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا اور ہمارے وکیل جسٹس منصور علی شاہ تھے، رجسٹرار نے ۱۲ اعتراضات لگائے اور پھر وہ درخواست کبھی نہیں لگی، تمام ججز کو معلوم گھا کہ اُنکے چیف جسٹس گھر میں نظر بند ہیں مگر کسی نے وہ درخواست نہیں سنی۔ جسٹس اطہر من اللہ کا نیویارک بار سے خطاب_*
76









