76

*_‏نو مارچ ۲۰۰۷ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جب آرمی ہاؤس میں نظر بند کر دیا گیا تو میرے ساتھی جسٹس یحیی آفریدی کے مشورے پر ہم نے حبسِ بیجا کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا اور ہمارے وکیل جسٹس منصور علی شاہ تھے، رجسٹرار نے ۱۲ اعتراضات

*_‏نو مارچ ۲۰۰۷ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جب آرمی ہاؤس میں نظر بند کر دیا گیا تو میرے ساتھی جسٹس یحیی آفریدی کے مشورے پر ہم نے حبسِ بیجا کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا اور ہمارے وکیل جسٹس منصور علی شاہ تھے، رجسٹرار نے ۱۲ اعتراضات لگائے اور پھر وہ درخواست کبھی نہیں لگی، تمام ججز کو معلوم گھا کہ اُنکے چیف جسٹس گھر میں نظر بند ہیں مگر کسی نے وہ درخواست نہیں سنی۔ جسٹس اطہر من اللہ کا نیویارک بار سے خطاب‏_*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں