عنوان: “کل کے مجرم، آج کے محب وطن؟”
دعا آن لائن نیوز کے لیے خصوصی کالم
تحریر: محمد حنیف شاہد ارائیں
(بیورو چیف – دعا آن لائن نیوز)
عنوان: “کل کے مجرم، آج کے محب وطن؟”
وطن کی سیاست ایک ایسا دریا بن چکی ہے جس میں ہر موج اپنے رخ کے مطابق بدلتی ہے، اور ہر ساحل مفادات کے کنارے پر آباد ہے۔ یہاں سچ کا رنگ وقت کے پینٹ سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے، اور وفاداری کا معیار اقتدار کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔
جو کل ایوانوں کے لیے خطرہ تھے، آج انہی کی محفلوں میں چراغاں ہے۔ جو کل غدار کہلائے، آج وفا کے عنوان میں لپٹے بیٹھے ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ لوگ بدل گئے، بلکہ یہ ہے کہ بیانیے کی زبان، مفادات کی بولی میں بولنے لگی ہے۔
کل جن کے نام پر عدالتیں حرکت میں آئیں، آج وہ قانون کے محافظ بن بیٹھے ہیں۔ جن کے چہروں پر کل کے اخبارات نے سیاہی پھینکی، آج انہیں قومی دھارے کا رہنما قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر وہ واقعی ملک دشمن تھے، تو پھر اُن کی واپسی پر سلامی کیوں؟ اور اگر وہ بے گناہ تھے، تو الزام لگانے والے کہاں ہیں؟ کیا ان سے بازپرس نہیں ہونی چاہیے؟
یہ سب کچھ محض حادثہ نہیں، بلکہ ایک منظم تماشا ہے جس میں کردار بدلتے ہیں، مگر اسٹیج وہی رہتا ہے۔ حب الوطنی کو یہاں جذبات نہیں، ضرورت طے کرتی ہے۔ یہاں بیانیہ وہی سچا ہوتا ہے جو وقت کے بادشاہ کو راس آ جائے۔
اگر یہی روایت برقرار رہی تو یہ قوم نہ کسی نظریے پر جم سکے گی، نہ کسی منزل تک پہنچ سکے گی۔ اسے اصولوں کی نہیں، اصلوں کی ضرورت ہے — وہ اصل کردار، جو مٹی سے جُڑے ہوں، اور جن کی وفاداری وقت کی قید سے آزاد ہو۔
غزل
(حالاتِ وطن کی ترجمانی)
غدار وہی کہلائے جو سچ کی بات کرے
تاریخ اسے زنداں دے جو حق کی بات کرے
ہر دور میں سچائی کو تہمت پہنائی
اب کون ہے جو جرات سے وضاحت کی بات کرے؟
جن ہاتھوں نے پرچم تھاما، وہی مجرم بنے
جو بک گئے درباروں میں، وہ عزّت کی بات کرے
خاموش ہے آئینہ بھی ان چہروں کے روبرو
جو چہروں کی تبدیلی کو فطرت کی بات کرے
ہر شخص یہاں مفہوم بدلتا رہتا ہے
جو کل تک غداری تھی، آج وحدت کی بات کرے
ادارے کے لیے نوٹ:
یہ کالم دعا آن لائن نیوز کے قارئین کے لیے پیش کیا گیا ہے تاکہ وہ سیاسی حقیقتوں کی گہرائی کو ادبی آنکھ سے دیکھ سکیں۔