August 30, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

انڈیا سے ہونے والی پچھلی دونوں مڈبھیڑوں میں انڈین پائلٹ پاکستان کے ہتھے چڑھے ہیں

20250429_173011
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

انڈیا سے ہونے والی پچھلی دونوں مڈبھیڑوں میں انڈین پائلٹ پاکستان کے ہتھے چڑھے ہیں

یوں مودی جی ایک نفسیاتی دباؤ بھی محسوس کر رہے ہیں

کہ ان سالوں کو لڑنے بھیجتے ہیں

یہ پاکستان آرمی کے چائے خانے پہنچ جاتے ہیں

کارگل جنگ والے ابھینندن کا نام فلائٹ لیفٹیننٹ نچیکیتا تھا

اور اس کا طیارہ مگ 27 تھا

واقعے کو 25 برس سے زائد ہوگئے

سو اب شاید اس سے جڑی ان کہی کہانی کو تھوڑا کھولا جاسکتا ہے

جنیوا کنونشن کے مطابق جنگی قیدی کے ساتھ تشدد وغیرہ بھی نہیں ہوسکتا

اور اگر وہ افسر ہو تو پھر اسے باقاعدہ عزت اور افسرانہ شان سے بھی رکھا جاتا ہے

لیکن اس سے معلومات بھی تو اگلوانی ہوتی ہیں

سو نچیکیتا کو تفتیش کے لئے ایم آئی کے جس افسر کے سپرد کیا گیا

اس نے اس کے ساتھ ایک عجیب نفسیاتی گیم کھیلی

ہم اس کا فرضی نام غوری رکھ لیتے ہیں

سو غوری صاحب نے پوچھا

“تمہاری نیند کیسی ہے ؟تم گہری نیند سوتے ہو یا نیند ٹوٹتی ہے ؟”

نچیکیتا نے بتایا کہ وہ اچھی نیند سوتا ہے تو غوری نے پوچھا

“ہم دونوں کے ممالک حالت جنگ میں ہیں، کیوں نہ ہم دونوں یہاں اپنی چھوٹی سی جنگ لڑ لیں ؟”

نچیکیتاتھوڑا گھبرا گیا

“کیا مطلب ہے آپ کا ؟ آپ میرے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرسکتے، میں جنگی قیدی ہوں”

“مجھے زیادتی کرنی ہوتی تو آپ سے اجازت مانگتا ؟”

“تو پھر ؟”

“میں بس یہ کہہ رہا ہوں آؤ دونوں مقابلہ کرتے ہیں کہ کون زیادہ دیر جاگ سکتا ہے”

نچیکیتا اس جھانسے میں آگیا اور شروع ہوگیا مسلسل جاگنے کا مقابلہ

کوئی ساٹھ گھنٹے بعد نچیکیتا کی بس ہوگئی، مگر ایم آئی افیسر نے اسے بارہ گھنٹے مزید جگائے رکھا

یوں کھیل ہی کھیل میں جب اس کے اعصاب چٹخا دیئے تو شروع کردی باز پرس

اس نے ایک بار پھر جنگی قیدی ہونے کا سہارا لے کر انکار کیا کہ وہ کوئی کوئی معلومات نہیں دے گا

غوری نے سنتری سے کہا

“تمہیں جو اخبار دیا تھا وہ لے کر آؤ”

پائلٹ کی گرفتاری سے اگلے روز کا روزنامہ جنگ لایا گیا

اس کے صفحہ اول پر جلی سرخی میں اس کی گرفتاری کی خبر اور فائل پکچر تھی

غوری نے وہ اخبار اس کے سپرد کرتے ہوئے کہا

“ذرا پڑھو یہ کیا لکھا ہے ؟”

نچیکیتا نے کہا

“میں اردو نہیں پڑھ سکتا”

غوری جانتا تھا کہ یہ نہیں پڑھ سکتا اردو مگر وہ تو ایک بڑا نفسیاتی وار کرنے جا رہا تھا

سو اس نے پوچھا

“تصویر تمہاری ہے ناں ؟”

“جی ہاں میری ہے، انڈین اخبارات میں چھپی ہوگی، وہاں سے آپ کے اخبار نے بھی لے لی ہوگی”

اس کی شہ سرخی یہ کہہ رہی ہے

“پاکستان آرمی نے انڈین مگ 27 گرادیا۔ پائلٹ ہلاک”

“مگر میں تو زندہ ہوں”

“یہ صرف ہم جانتے ہیں یا تم۔ آفیشلی ہم نے تمہاری موت ڈیکلیئر کر رکھی ہے۔ اور تمہاری حکومت ہم سے تمہاری لاش کے حصول کے لئے بات چیت کر رہی ہے۔ اب یا تو زبان کھولو اور اپنے وطن زندہ جاؤ، یا پھر ہم تمہاری لاش ہی واپس کریں گے۔ تم جنگی قیدی نہیں ہو،۔ آفیشلی تم ایک لاش ہو”

آئے ! ہائے ! ہائے ! اس کے بعد فلائٹ لیفٹیننٹ نچیکیتا نے لتا منگیشکر، آشابھوسلے اور کمار سانو کے سارے سپر ہٹ گیت فرفر سنا دئیے۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0