انڈیا سے ہونے والی پچھلی دونوں مڈبھیڑوں میں انڈین پائلٹ پاکستان کے ہتھے چڑھے ہیں
انڈیا سے ہونے والی پچھلی دونوں مڈبھیڑوں میں انڈین پائلٹ پاکستان کے ہتھے چڑھے ہیں
یوں مودی جی ایک نفسیاتی دباؤ بھی محسوس کر رہے ہیں
کہ ان سالوں کو لڑنے بھیجتے ہیں
یہ پاکستان آرمی کے چائے خانے پہنچ جاتے ہیں
کارگل جنگ والے ابھینندن کا نام فلائٹ لیفٹیننٹ نچیکیتا تھا
اور اس کا طیارہ مگ 27 تھا
واقعے کو 25 برس سے زائد ہوگئے
سو اب شاید اس سے جڑی ان کہی کہانی کو تھوڑا کھولا جاسکتا ہے
جنیوا کنونشن کے مطابق جنگی قیدی کے ساتھ تشدد وغیرہ بھی نہیں ہوسکتا
اور اگر وہ افسر ہو تو پھر اسے باقاعدہ عزت اور افسرانہ شان سے بھی رکھا جاتا ہے
لیکن اس سے معلومات بھی تو اگلوانی ہوتی ہیں
سو نچیکیتا کو تفتیش کے لئے ایم آئی کے جس افسر کے سپرد کیا گیا
اس نے اس کے ساتھ ایک عجیب نفسیاتی گیم کھیلی
ہم اس کا فرضی نام غوری رکھ لیتے ہیں
سو غوری صاحب نے پوچھا
“تمہاری نیند کیسی ہے ؟تم گہری نیند سوتے ہو یا نیند ٹوٹتی ہے ؟”
نچیکیتا نے بتایا کہ وہ اچھی نیند سوتا ہے تو غوری نے پوچھا
“ہم دونوں کے ممالک حالت جنگ میں ہیں، کیوں نہ ہم دونوں یہاں اپنی چھوٹی سی جنگ لڑ لیں ؟”
نچیکیتاتھوڑا گھبرا گیا
“کیا مطلب ہے آپ کا ؟ آپ میرے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرسکتے، میں جنگی قیدی ہوں”
“مجھے زیادتی کرنی ہوتی تو آپ سے اجازت مانگتا ؟”
“تو پھر ؟”
“میں بس یہ کہہ رہا ہوں آؤ دونوں مقابلہ کرتے ہیں کہ کون زیادہ دیر جاگ سکتا ہے”
نچیکیتا اس جھانسے میں آگیا اور شروع ہوگیا مسلسل جاگنے کا مقابلہ
کوئی ساٹھ گھنٹے بعد نچیکیتا کی بس ہوگئی، مگر ایم آئی افیسر نے اسے بارہ گھنٹے مزید جگائے رکھا
یوں کھیل ہی کھیل میں جب اس کے اعصاب چٹخا دیئے تو شروع کردی باز پرس
اس نے ایک بار پھر جنگی قیدی ہونے کا سہارا لے کر انکار کیا کہ وہ کوئی کوئی معلومات نہیں دے گا
غوری نے سنتری سے کہا
“تمہیں جو اخبار دیا تھا وہ لے کر آؤ”
پائلٹ کی گرفتاری سے اگلے روز کا روزنامہ جنگ لایا گیا
اس کے صفحہ اول پر جلی سرخی میں اس کی گرفتاری کی خبر اور فائل پکچر تھی
غوری نے وہ اخبار اس کے سپرد کرتے ہوئے کہا
“ذرا پڑھو یہ کیا لکھا ہے ؟”
نچیکیتا نے کہا
“میں اردو نہیں پڑھ سکتا”
غوری جانتا تھا کہ یہ نہیں پڑھ سکتا اردو مگر وہ تو ایک بڑا نفسیاتی وار کرنے جا رہا تھا
سو اس نے پوچھا
“تصویر تمہاری ہے ناں ؟”
“جی ہاں میری ہے، انڈین اخبارات میں چھپی ہوگی، وہاں سے آپ کے اخبار نے بھی لے لی ہوگی”
اس کی شہ سرخی یہ کہہ رہی ہے
“پاکستان آرمی نے انڈین مگ 27 گرادیا۔ پائلٹ ہلاک”
“مگر میں تو زندہ ہوں”
“یہ صرف ہم جانتے ہیں یا تم۔ آفیشلی ہم نے تمہاری موت ڈیکلیئر کر رکھی ہے۔ اور تمہاری حکومت ہم سے تمہاری لاش کے حصول کے لئے بات چیت کر رہی ہے۔ اب یا تو زبان کھولو اور اپنے وطن زندہ جاؤ، یا پھر ہم تمہاری لاش ہی واپس کریں گے۔ تم جنگی قیدی نہیں ہو،۔ آفیشلی تم ایک لاش ہو”
آئے ! ہائے ! ہائے ! اس کے بعد فلائٹ لیفٹیننٹ نچیکیتا نے لتا منگیشکر، آشابھوسلے اور کمار سانو کے سارے سپر ہٹ گیت فرفر سنا دئیے۔