221

آپ بھی بائیکاٹ کیجئے اکیلی عوام ہی کیوں ازقلم غنی محمود قصوری

آپ بھی بائیکاٹ کیجئے اکیلی عوام ہی کیوں

ازقلم غنی محمود قصوری

پاکستان کا غربت میں دنیا میں 52 واں نمبر ہے جبکہ بنگلہ دیش 62 ویں اور بھارت 63 ویں نمبر پر ہیں
پاکستان میں فی کس سالانہ آمدن تقریباً 5 لاکھ روپیہ کے قریب ہے
اور کل شرح خواندگی 62.2 فیصد اور اس میں سے مردوں میں شرح خواندگی 73.4 اور عورتوں میں 51.9 فیصد ہے
یعنی کہ ہر اعتبار سے پاکستان ایک ترقی پذیر اور درمیانے درجے کا ملک ہے نا تو اس کا شمار غریب ممالک میں ہوتا ہے نا ہی امیر ممالک میں
مگر ہم مغربی اور عرب ممالک کو دیکھیں تو ہم بہت پیچھے ہیں
مگر اس کے باوجود جب بھی امت مسلمہ پر کوئی آفت آتی ہیں تو یہ مڈل کلاس قوم اپنی بساط کے لحاظ سے سب سے پہلے امت کیساتھ کھڑی ہوتی ہے
میں حکومت کی بات نہیں کر رہا میں عام عوام کی بات کر رہا ہوں
آپ موجودہ دور کو ہی لے لیجئے اسرائیل اور فلسطینی حماس کے مابین 7 اکتوبر 2023 سے جنگ جاری ہے جس پر پاکستانی قوم نے احتجاج کیا اور بطور احتجاج اسرائیلی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کیا
شروع میں بائیکاٹ کچھ خاص نا ہوا تو علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں نے عوام میں کمپین شروع کی جس کے باعث لوگوں نے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ تیز کیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ گردن میں سریا لئے ملٹی نیشنل خاص کر اسرائیلی کمپنیوں کی چیزوں کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی تو اپنی گرتی ساکھ اور خسارا دیکھ کر اسرائیلی و ملٹی نیشنل کمپنیوں نے عوام کو لالچ دینے کے لئے چیزوں کیساتھ مختلف چیزیں دینا شروع کیں اور کچھ قیمتیں بھی کم کیں

دوسری جانب اس بائیکاٹ سے پاکستانی کمپنیوں کی چیزوں کی فروخت میں واضع اضافہ دیکھنے کو ملا
یہاں میں ایک چیز وضع کر دوں کہ دنیا بھر میں تین قسم کی اشیا بنتی ہیں
اول لوکل برینڈ دیسی ساختہ اشیا جو کہ گھریلوں و بہت چھوٹی سطح پر بنتی ہیں اور اکثر ناقص کوالٹی کی ہوتی ہیں مگر ان چیزوں میں سے کچھ بہتر بھی ہوتی ہیں
دوم نیشنل لیول برینڈ کی وہ چیزیں جیسے کہ ہمارے ملک پاکستان میں ہمارے ملک کے ہی باشندوں کی انڈسٹری سے بنی پراڈکٹس ہیں جو باآسانی پورے ملک سے مل جاتی ہیں اور ان کا معیار بھی قدرے بہتر ہوتا ہے سوئم ملٹی نیشنل کمپنیاں جو کہ پوری دنیا میں دستیاب ہوتی ہیں اور اپنی کوالٹی اور معیار و مقدار کا لوہا منوا کر لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں مگر وہ الگ بات ہے کہ اس کی آڑ میں مسلمانوں میں کیا کیا زہر گھولا جاتا ہے
جب ملٹی نیشنل کمپنیوں کو چھوڑ کر عوام نیشنل کمپنیوں پر آئی تو نیشنل برینڈز کی چاندی ہو گئی ان کی پراڈکٹس کی فروخت میں بہت اضافہ ہوا اور نفع بھی زیادہ ہو گیا
اب چائیے تو یہ تھا یہ نیشنل کمپنیاں لوگوں کو ریلیف دیتیں اور اپنی پراڈکٹس کا معیار بہتر کرتیں تاکہ ان کو ملٹی نیشنل کمپنیاں بننے کا موقع ملتا مگر ان کمپنیوں نے لوگوں کو مجبور جان کر محض چند ہی ماہ میں اپنی پراڈکٹس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا اور معیار بھی کچھ کم کر دیا کیونکہ ان کو پتہ تھا اب مذہب کے نام پر لوگ ملٹی نیشنل و اسرائیلی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کر چکے ہیں اور اب مارکیٹ میں انہی کا راج ہو گا سو انہیں نے مجبور عوام پر ایسے وار کرنے شروع کر دیئے جیسے اس مجبور قوم پر ہر گورنمنٹ کرتی آئی ہے

میں نام نہیں لینا چاہتا تاہم آپ سب جانتے ہیں اس وقت پاکستان میں کولڈ ڈرنکس کے ریٹ میں نیشنل اور ملٹی نیشنل برینڈز کا فرق اور کوالٹی کا فرق کتنا رہ گیا ہے بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں آسانی سے دستیاب ہیں جبکہ نیشنل کمپنیاں نا تو آسانی سے دستیاب ہیں الٹا ان کے ریٹس کچھ جگہوں پر ملٹی نینشل کمپنیوں سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں
اسی طرح ایک ہڈ بیٹی بتاتا ہوں
میں ایک اسرائیلی ملٹی نیشنل ٹوٹھ پیسٹ خریدتا تھا جس مگر اس بائیکاٹ کے باعث میں نے ایک پاکستانی برینڈ کی ٹوٹھ پیسٹ کو ترجیح دی جس کی قیمت شروع میں 70 روپیہ تھی مگر دو ماہ کے اندر ہی اس کی قیمت 90 روپیہ ہو گئی اور اس میں وزن پورا کرنے کے لئے ہوا زیادہ بھر دی جانے لگی اب مجبور مجھے ایک اور پاکستانی برینڈ منتخب کرنا پڑا مگر بے سود تھوڑے عرصے بعد بات وہیں آ چکی ہیں
بات کریں ایمانداری کی تو قصور اس میں اپنی ملکی ساختہ پراڈکٹس کو خریدنے والی عوام کا ہے کہ اس ملکی ساختہ پراڈکٹس کو بنانے والے لوگوں کا؟
عوام تو امت مسلمہ سے اظہار یکجہتی کی خاطر اعلی ملٹی نینشل برینڈز کو چھوڑ چکی مگر اب نینشل ساختہ برینڈز نے اپنی ہی عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر قیمتیں زیادہ اور معیار و مقدار کو ناقص کر دیا جس کا نتیجہ آہستہ آہستہ یہ نکل رہا کہ عوام پھر سے انہی ملٹی نیشنل برینڈز کی جانب واپس پلٹنے لگی ہے
بات کریں ان نیشنل برینڈز کے مالکان کی تو وہ لوگ کوئی عام عوام نہیں وہ تو خاص لوگ بلکہ بیشتر تو حکمران لوگ ہیں چاہے وہ موجودہ گورنمنٹ کے ہیں یا سابقہ گورنمنٹس کے
عوام کے بس میں تو جو تھا عوام نے کیا اب سوچنے کی بات ہے امت سے اظہار یکجہتی کی خاطر ساری قربانی کیا عوام نے ہی دینی ہے ہمارے جاگیردار اور ایلیٹ کلاس طبقے کو صرف موقع سے فائدہ اٹھانا ہی آتا ہے یعنی انہوں نے امت کی خاطر کوئی قربانی نہیں دینی؟
یہ ان نیشنل برینڈز پراڈکٹس کے مالکان سے سوال ہے کہ کیا آپ ایمانداری سے ترقی کرکے ملٹی نیشنل برینڈز نہیں بننا چاہتے مطلب آپ مرغی کھانا پسند کرتے ہیں انڈہ نہیں؟
اللہ کے بندو سوچو کچھ سوچو اس امت کا بھی اور عام عوام کا بھی
کاروبار ضرور کرو مگر طریقہ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ہی سیکھ لو حالانکہ ان بے دینوں نے سارا طریقہ اسلام کا بتایا ہوا اپنایا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں