سکھر سندھ سید نصیر حسین زیدی کیا بھارت ہمیں پیاسا مار دے گا؟
سکھر سندھ
سید نصیر حسین زیدی
کیا بھارت ہمیں پیاسا مار دے گا؟ | #مسافرِشَب
بھارتی کنٹرولڈ گریٹر کشمیر کے علاقے لداخ میں زیزے تھنگ کے مقام پر جہاں سے دریاۓ سندھ بھارت سے گلگت-بلتستان پاکستان میں داخل ہوتا ہے وہاں ظاہر ہے اونچے اونچے پہاڑ ہیں اور دریا کی چوڑائی لگ بھگ 67 میٹر ہے اور گہرائی بھی کچھ زیادہ نہیں۔ جتنا فی کیوسک فٹ پانی یہاں سے گزرتا ہے اس سے کئی کئی گنا زیادہ پانی تو پاکستانی سرزمین کے اپنے پانی دریاۓ سندھ میں شامل کر دیتے ہیں۔ یعنی اس بارڈر مقام سے آگے بحرِ ہند تک پورے سفر میں پاکستان کے اپنے ذیلی دریا، ندیاں، نالے، چشمے موجود ہیں جن کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں اور وہ تمام دریا ندی نالے چشمے دریائے سندھ میں اپنے پانی انڈیل دیتے ہیں۔ پاکستان کے اپنے مجموعی پانی دریاۓ سندھ میں 95٪ سے کہیں زیادہ ہیں۔
تو پھر اگر بھارت دریاۓ سندھ کے پانی روک بھی لے تو زیادہ سے زیادہ کتنا پانی روک لے گا؟ اور اتنے بلند پہاڑوں میں وہ پانی کدھر ڈائیورٹ کرے گا؟ اگر کرنا بھی ہو تو کئی دہائیاں لگ جائیں گی کیونکہ دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کی عظیم دیواریں کھڑی ہیں۔ اور بالفرض جو پانی ڈائیورٹ کرے گا اس سے کہیں زیادہ پانی تو زیزے تھنگ کے مقام سے تھوڑا سا آگے دریاۓ شنگو اور دریاۓ شگرتھنگ سندھ میں انڈیل دیتے ہیں۔ اور یہ ابھی محض چند کلومیٹر ڈاؤن سٹریم کی بات ہے۔
ابھی تو آگے 2900 کلومیٹر پڑے ہیں۔ اس دوران شنگو، دیوسائی کا شگرتھنگ اور سیکڑوں گلیشیئرز کی ندیوں کے علاوہ دریاۓ شیوک، دریاۓ بالتورو، دریاۓ خنجراب، دریاۓ گلگت، دریاۓ ہنزہ، دریاۓ اشکومن، دریاۓ یاسین، دریاۓ نلتر، دریاۓ کابل، دریاۓ سوات، دریاۓ کمراٹ پنجکوڑہ، دریاۓ سواں، دریاۓ کورنگ، اور دیگر ہزاروں ندی نالے چشمے شامل ہوتے ہیں۔
چلیں شمال میں زیزے تھنگ کے مقام پر تو دریاۓ سندھ چھوٹا سا ہے، پنجاب میں دریاۓ چناب، جہلم، راوی، بیاس، اور ستلج کو بھی روکنا پڑے گا تب دریاۓ سندھ کے پانی 40٪ کم ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ بھارت اپنے ہی دیش سے آتے اتنے اتنے بڑے دریا روک پاۓ گا؟ جب نہیں روک پاۓ گا تو پورے دریاۓ سندھ کو کیسے روک پاۓ گا؟ بھارت کوئی چائنہ نہیں ہے کہ چند برسوں میں یہ کام کر لے۔ زیادہ سے زیادہ چند مزید ڈیمز بنا لے گا اور چند مزید نہریں نکال لے گا۔ 100٪ پانی کیسے روکے گا؟!!
چناچہ پانڈے جی!!! آپ 1960ء میں دستخط شدہ بین الاقوامی گارنٹڈ سندھ طاس کے ابدی (Perpetual) معاہدہ کی پاسداری کرو یا نہ کرو، کئی صدیوں تک تو دریاۓ سندھ کا کچھ بھی نہیں کر سکو گے۔ سیاست ایک سائیڈ پر، فطرت سے کون لڑے گا؟ تسی پانڈے جی؟؟؟ اپنی 80٪ غربت پر قابو پا نہیں سکتے، اپنے چند شر پسندوں کو دنیا کی ایک بڑی فوج استعمال کر کے بھی کنٹرول کر نہیں سکتے، چند بے گناہ سیاحوں کو حفاظت دے نہیں سکتے، اور چلے ہیں دریاؤں کو قابو کرنے۔ چکو اپنے پانڈے اور کہیں اور رکھو۔ پاکستانی تجزیہ نگاروں سے گزارش ہے کہ بسنتی ان کتوں کے سامنے مت ناچنا بلاوجہ۔ یہ سب ڈرامہ بھارت نے خود رچایا ہے اور اب ہم ڈرامے ڈیٹیکٹ کر لیتے ہیں، ہماری گولیاں اب کچی نہیں رہیں۔
ستم ظریفی چیک کریں کہ پاکستان کی ایک مشہور سیاسی جماعت دریاۓ سندھ پر بننے والی نہروں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے، جبکہ ان کی اپنی جماعت کے سربراہ نے نہروں کی اجازت دی ہے۔ ابے، اپنے بندے سنبھالو پہلے۔ نوٹ کریں کہ نہروں کے معاملے میں ابھی میرا کوئی مؤقف نہیں۔ اس پر تفصیل پھر کبھی سہی۔ لیکن ستم در ستم ظریفی یہ کہ ہم ابھی نہروں میں پھنسے ہوۓ تھے، پانڈے جی نے پورا دریاۓ سندھ روکنے کی بات کر دی۔ مجھے ذاتی طور پر پانڈے جی پر ہنسی آئی ہے لیکن اپنی سرزمین کے سپوتوں سے ڈر لگتا ہے، یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
پہلگام کے شہداء کے لیے دل سے دعائیں ہیں اور دل خون کے انسو روتا ہے۔ مگر پانڈے جی کو بھی تو چاہیے ناں کہ فلسطینیوں کے قتلِ عام پر انسانیت کی خاطر وہ بھی افسوس کا اظہار کریں، وہاں تو پانڈے جی بستنی کی طرح ناچ ناچ کر ہنس رہے ہوتے ہیں!! شدید دوغلہ معیار ہے۔
حرفِ آخر یہ کہ دریاۓ سندھ کے پانی ختم کرنے کے لیے ہمیں بھارت کی ضرورت نہیں ہے، یہ کام عالمی طور پر گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج کے ذریعے ہر لمحہ بہ لمحہ ہو رہا ہے۔ ہمیں اس کی فکر کرنی چاہیے۔
•••
دریاۓ سندھ اور اس کے ماخذ پر میری ایک اور تحریر بھی پڑھیے، پسند آۓ گی:
کوہِ کیلاش دنیا کے بلند ترین سطح مرتفع “تبت” میں موجود ایک خوبصورت پہاڑ کا نام ہے جس کی بلندی 6،338 میٹر یا 21،778 فٹ ہے مگر یہ حیرت انگیز طور پر Unclimbed ہے اور ہمیشہ یونہی رہے گا۔ مگر اِسے سَر نہ کیا جا سکنے کے پیچھے وجوہات اِس کی مشکل کلائمبنگ نہیں ہے۔
اردگرد کئی آٹھ ہزار میٹر سے بلند اور بیسیوں سات ہزار میٹر سے بلند پہاڑ ہیں جو سرد موسموں میں بھی سر کیے جا چکے ہیں، پھر کیلاش کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟
اور ہاں، کیلاش کا وادئ کالاش سے کوئی تعلق نہیں…
کوہِ کیلاش ہندوستان کے کئی قدیم مذاہب میں ایک دیوتا کی حیثیت رکھتا ہے۔ خصوصاً اِسے دیوتا شیوا کا مسکن سمجھا جاتا ہے، بلوچستان کے چندراگُپ گارفشاں کی طرح۔ بدھ مت اور ہندو مت میں اسے باقاعدہ پوجا جاتا ہے۔ اِس کے گرد دائرے میں کئی پگوڈے اور مندر موجود ہیں۔ ہر برس ہزاروں زائرین کوہِ کیلاش کو سفر کرتے ہیں۔
کوئی سوچ سکتا ہے کہ نیپال اور چین کی سرحد کے قریب واقع دُوردراز کوہِ کیلاش.. جس کی بلندی بھی بس ماٹھی سی ہے.. کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ مزید یہ کہ دوسرے مذاہب میں اگر اِس پہاڑ کی کچھ اہمیت ہے بھی تو پاکستان میں بیٹھے مسلمان ریڈر کو اِس پہاڑ کے متعلق معلومات کیوں دی جا رہی ہے؟ اگر یہ سوالات ذہن میں آ رہے ہیں تو مبارک ہو.. یہ زرخیز ذہن کی نشانی ہے۔
کوہِ کیلاش برِصغیر کے کئی دریاؤں کا ماخذ ہے. اِس پہاڑ کے گلیشیئرز جو دریا جاری کرتے ہیں وہ یہ ہیں: دریائے براہما، دریائے گنگا، دریائے ستلج اور دریائے سندھ.
جی ہاں.. آپ درست پڑھ رہے ہیں. براہما اور گنگا ہندوستان کے مقدس ترین دریا ہیں. دریائے سندھ کا ذکر بھی قدیم مذہبی کتب میں ملتا ہے اور حوالہ جات کے مطابق براہما اور گنگا سے بھی زیادہ مقدس ترین دریا سِندھ ہے. ہندو مذہب کا آغاز ہی دریائے سندھ کے کناروں سے ہوا جس کے تانے بانے دنیا کی قدیم ترین تہذیب “اِنڈس ویلی سولائزیشن” سے جا ملتے ہیں.
دریائے سندھ کیلاش کے گلیشیئر سے بطور چشمہ نکل کر مغربی جانب سفر شروع کرتا ہے۔ سینکڑوں میل تبت میں بطور سنگھے زنبو سفر کے بعد بطور انڈس کشمیر میں داخل ہوتا ہے۔ کارگل کے سامنے سے گزر کر بلتستان میں داخل ہو جاتا ہے۔ سکردو کے بعد سسّی کے مقام پر اپنی انتہائے شمال میں ہوتا ہے اور اُس کے بعد بھنبھور کی سسّی کی جانب جنوبی رُخ کر لیتا ہے۔ آگے آپ کو پتا ہی ہے کہ کہاں جاتا ہے۔ جی ہاں، بحرِ ہند کی جانب۔
تبت میں دریائے سندھ کو سنگے زنبو کہتے ہیں جس کا لفظی ترجمہ “شیر دریا” ہے. پاکستان کے تقریباً تمام سفرنامہ نگار دریائے سندھ کو شیر دریا بھی کہنا پسند کرتے ہیں اور وجہ یہی ہے کہ جہاں یہ دریا جاری ہوتا ہے، وہاں کے لوگ اِسے شیر دریا کے نام سے جانتے ہیں. یونانی حملہ آوروں نے ہندوؤں کے دریائے سندھ کو اِنڈس کہا… اور یوں سرزمینِ ہندوستان “اِنڈیا” کہلائی. اِنڈیا کے نام میں دریائے سندھ موجود ہے.. یہ ہندوستان اصل میں دریائے سندھ کی پیداوار ہے.
دریاؤں کے تقدس کے باعث سمجھ آ جانی چاہیے کہ کوہِ کیلاش کو دیوتا کی اہمیت کیوں حاصل ہے.
دریائے سندھ پاکستان کی شہہ رگ ہے… بلکہ آبی پاکستان کہنا چاہیے کیونکہ پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا دریا، چشمہ، نہر، غرضیکہ ہر بہتی شہ بالآخر دریائے سندھ میں شامل ہوتی ہے. بلکہ کیلاش سے نکلا دریائے ستلج بھی بالآخر سینکڑوں کلومیٹر سفر طے کرنے کے بعد پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر سیدھا اپنے ہی بڑے بھائی سندھ میں جا شامل ہوتا ہے.
ایسا دریا جس کے کئی نام ہیں… سنگے زنبو، شیر دریا، سندھ سائیں، انڈس، اباسین، نیلب.. جس کا پاکستان سے بہت گہرا رشتہ ہے، اُس کا ماخذ کوہِ کیلاش ہے… اِسی لیے یہ پہاڑ پاکستانیوں کے لیے شدید قابلِ توجہ ہے.
جیسا کہ عرض کیا کہ اِسے ہندو لورڈ شیوا کے طور پر بھی مانتے ہیں اور ہر برس ہزاروں زائرین کیلاش کی جانب کوچ کرتے ہیں اور اِس کے گرد طواف کرتے ہیں۔ سدھ-گرو جیسے مہاجوگی اس کے سامنے پہروں بیٹھ کر روتے رہتے ہیں۔ چائنہ نے اس پہاڑ کی بیس کیمپ تک جانے کی اجازت دی ہوئی ہے مگر کلائمب کرنے کی اجازت نہیں۔ کلائمب نہ ہونے کی یہ اصل وجہ ہے۔
اگر اجازت دے بھی دی جائے تب بھی دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو خبر ہے کہ کیلاش ابھی تک سر نہیں ہوا مگر وہ دو ایشوز کی وجہ سے اسے سر نہیں کرتے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ کوہِ کیلاش اگر جُوتوں کے نیچے آ گیا تو پھر تقدس برقرار نہیں رہ سکتا۔ کوہ پیمائی کا مطلب ہی یہی ہے کہ کسی پربت کا غرور یا فخر ملیامیٹ کر دینا۔ کوہ پیما ایسی باتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اُن کے لیے کوہِ کیلاش سر کرنا آٹھ ہزاری چوٹی کے مقابلے میں کوئی مشکل کام نہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ کیلاش اگرچہ بہت ٹیکنیکل ہے مگر صرف 6 ہزاری پہاڑ ہے۔ کوہ پیما چاہتے ہیں کہ اگر مریں تو صرف 8 ہزاری پہاڑ سے گر کر مریں تاکہ ہر صورت مشہور ہوں۔ کیلاش کو فتح کرنے سے بھی بدنامی کا طوق گلے میں پڑے گا اور یہاں سے گر کر مرنے سے بھی فاتحہ کی بجائے لعن طعن ملے گی۔
مسافرِشَب (محمد احسن)