October 5, 2026

سکھر سید نصیر حسین زیدی وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی مفصل

20250423_201331

سکھر سید نصیر حسین زیدی
وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی مفصل تفصیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واہگہ بارڈر، فضائی حدود اور بھارت سے ہر قسم کی تجارت فوری بند، پانی روکا تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائیگا: قومی سلامتی کمیٹی

اسلام آباد: پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی آبی جارحیت اور دیگر اقدامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے اعلان کو مسترد کردیا اور کہا ہےکہ اگر پاکستانی ملکیت کے پانی کا بہاؤ روکا گیا تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سول اور عسکری قیادت ہوئیں، اجلاس میں پہلگام میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی ملکی داخلی و خارجی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا بھارتی یکطرفہ اعلان مسترد کر دیا، پانی پاکستان کا اہم قومی مفاد ہے اور 24کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن ہے، پاکستان اپنی لائف لائن کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا، پاکستان کی ملکیت کے پانی کا بہاؤ روکا گیا یا پانی کا بہاؤ موڑا گیا تو اس کو اس جنگ کا اقدام سمجھا جائے گا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ واہگہ بارڈر کے راستے سے بھارت سے تمام زمینی آمد و رفت معطل ہوگی، بھارتی شہریوں کو دیے گئے سارک ویزا استثنیٰ اسکیم کے ویزے معطل اور منسوخ کیے جارہے ہیں، اس اسکیم کے تحت پاکستان میں موجود سکھ مذہبی یاتریوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سارک ویزا استثنیٰ اسکیم کےتحت تمام بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔

اسلام آباد میں موجود بھارتی دفاعی،بحری اور فضائی مشیر ناپسندیدہ شخصیات قرار دیے گئے ہیں، ناپسندیدہ شخصیات کو 30 اپریل 2025 تک پاکستان چھوڑنےکی ہدایت کردی گئی ہے، بھارتی ہائی کمیشن میں ان پوسٹوں کو منسوخ سمجھا جائے گا اور ان مشیروں کے معاون عملے کو بھی بھارت واپس جانے کا حکمدیا گیا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کے سفارتی عملےکی تعداد 30 تک محدود کردی گئی ہے جس کا اطلاق 30 اپریل سے ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق بھارتی ملکیت یابھارتی آپریٹرز کی تمام پروازوں کےلیے پاکستانی فضائی حدود فوری طور پربندکردی گئی ہیں جبکہ بھارت سے اور بھارت کےلیے ہر قسم کی تجارت، خواہ کسی تیسرے ملک کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، فوری طور پر معطل کردی گئی ہے۔ پاکستان نے واہگہ بارڈر فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے اس اقدام کا قومی طاقت کےساتھ بھرپور طریقے سےجواب دیا جائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ بھارت کےجارحانہ اقدامات نے دو قومی نظریے اور قائدِ اعظم کےخدشات کو درست ثابت کردیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستانی قوم امن کی خواہاں ہے، پاکستانی قوم اپنی خودمختاری، سلامتی، عزت اور ناقابلِ تنسیخ حقوق پرکوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان اور مسلح افواج کسی بھی غلط قدم کے خلاف مکمل طورپر تیار ہے، پاکستان اور مسلح افواج اپنی خود مختاری اور سرحدی سالمیت کے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں، فروری 2019 میں بھارتی سرحدی خلاف ورزی پر محسوس انداز میں مگر پختہ فیصلے کے ساتھ جواب دیا گیا تھا۔

گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی اقدامات کے خاطر خواہ جواب کا فیصلہ کیا جائے گا۔