October 5, 2026

بہاولنگر: تھانہ مدرسہ پولیس پر سنگین الزامات، مدعیہ کا انصاف کے لیے پنجاب سٹی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس

IMG-20250424-WA0220

بہاولنگر: تھانہ مدرسہ پولیس پر سنگین الزامات، مدعیہ کا انصاف کے لیے پنجاب سٹی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس

بہاولنگر() کی رہائشی صغریٰ بی بی نے پنجاب سٹی پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے تھانہ مدرسہ پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمہ نمبر 452 کے تحت نامزد اور گرفتار ملزمان کو ایس ایچ او سیف اللہ حنیف اور ایس آئی کامران زیب نے رات کی تاریکی میں رہا کر دیا پریس کانفرنس میں صغریٰ بی بی اور سویرا بی بی کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کی موجودگی میں ملزمان کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کیا، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر انہیں رات کے وقت خفیہ طور پر رہا کر دیا گیا۔ صغریٰ بی بی کا مزید کہنا تھا کہ رہائی کے فوراً بعد یہی ملزمان ان کے گھر میں دوبارہ گھس آئے اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایاملزمان میں رفاقت علی ولد محمد اشرف، محمد شفیق ولد محمد الیاس، محمد یار ولد محمد الیاس، محمد آصف ولد محمد یار، اور مظہر ولد محمد زکاء شامل ہیں، جن پر خاتون کے مطابق، پستول دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور مکان خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیاصغریٰ بی بی نے الزام عائد کیا کہ تھانہ مدرسہ کے اہلکار، بالخصوص ایس ایچ او سیف اللہ حنیف اور ایس آئی کامران زیب، ملزمان سے ملے ہوئے ہیں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈی پی او بہاولنگر سے بھی ان کی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی متاثرہ خاتون نے چیف جسٹس پاکستان، آئی جی پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب، آرمی چیف اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ اعلیٰ حکام کے دفاتر کے سامنے احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گی۔