October 15, 2026

خواتین کو با اختیار بنانا اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرانا ہمارے منشور میں شامل یے،خالد ایوب پشاور رسید گوہرشاہ)

IMG-20250404-WA0185

خواتین کو با اختیار بنانا اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرانا ہمارے منشور میں شامل یے،خالد ایوب
پشاور رسید گوہرشاہ)
ناصرہ عبادت خواتین کو تحفظ دینے والے قوانین تو بن چکے ہیں لیکن بد قسمتی سے ان قوانین کے ثمرات خواتین تک نہیں پہنچ پائے ان خیالات کا اظہار پختونخوا قومی جرگہ کی چیئرپرسن ناصرہ عبادت نے گزشتہ روز پختونخوا قومی جرگہ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پختونخوا قومی جرگہ کے مرکزی قائدین اور مقامی مشران کے منعقدہ اجلاس کے بعد ایک اخباری بیان میں کیا،اس موقع پر پختونخواہ قومی جرگہ کے چیئرمین خالد ایوب و دیگر بھی موجود تھے،ناصرہ عبادت نے مزید کہا کہ خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اکثر امن کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتی ہیں،پاکستان پختونخوا قومی جرگہ ان کی ہمت و جرت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں،انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے بن چکے قوانین کا نفاذ کیا جانا بہت ضروری ہے،
خواتین پر ظلم و تشدد میں جسمانی،ذہنی و جنسی تشدد،زیادتی،کاروکاری،جلانے کے واقعات،گھریلو تشدد،اغوا اور جبری شادیوں کے واقعات معاشرے میں آگاہی کے نا ہونے کی وجہ سے ہے،پاکستان میں عورتیں استحصال اور جبر کا شکار بنتی ہیں۔ہر دور حکومت میں خواتین کے حقوق سے متعلق کچھ نہ کچھ قانون سازی کی گئی ہے مگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خواتین پر تشدد کے واقعات کی رپورٹ میں کمی نہیں ہوئی،اسلام نے عورت کو اس قدر اعلی مقام عطا کیا کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت کو قرار دیا لیکن اس فضیلت کے باوجود ہمارے معاشرے میں خواتین پر تشدد کیا جاتا ہے،
اس کے ساتھ زمانہ جاہلیت والا سلوک کیا جاتا ہے حالانکہ عورت ماں،بہن،بیوی اور بیٹی ہر روپ میں معاشرے میں اعلیٰ مقام رکھتی ہے لیکن معاشرے میں کاروکاری، جہیز کے مسائل، قرآن سے شادی کر کے جائیداد ہڑپ کرنا،شوہروں کے مظالم، تیزاب سے چہروں کو مسخ کرنا، زنا بلاجبر نیزہر وہ ظلم جس کا تصور پایا جاتا ہے وہ عورت کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں خواتین پر گھریلو تشدد،ذہنی و جسمانی تشدد، زیادتی، اغوا جیسے بے شمار ایسے مظالم ہیں،جو خواتین پر ڈھائے جاتے ہیں۔عورتوں پر تشدد اور ستم اس معاشرے کا انتہائی دردناک المیہ ہے۔اس سے زیادہ دردناک اور تلخ المیہ یہ ہے کہ اس تشدد اور زیادتی کی ابتدا گھر کے ہی منفی رویوں سے ہوتی ہے۔ عورت جو ماں ہے،بہن ہے، بیوی ہے، بیٹی ہے،اس کے وجود کو پرانے اور بے بنیاد نظریات کی بنا پر ظلم کانشانہ بنایا جاتا ہے۔عورتوں کی مار پیٹ گالی گلوچ،بے جا پابندیاں اور قیود ،جذباتی اور ذہنی دباؤ،بیٹیوں کی زبردستی شادی،گھریلو تشدد کے زمرے میں آتی ہیں۔افسوس کہ ایسا گھریلو تشدد ہمارے معاشرے کا شیوہ بن چکا ہے۔محدود اور جارحیت پسند ذہنیت رکھنے والے انتہا پسند لوگ ایسا تشدد سرعام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔عورتوں پر تشدد کی اور بھی شکلیں ہیں مثلًا خواتین کی تجارت،خواتین کو جلانا ،خواتین کو سر عام برہنہ کرنا غیرت کے نام پر قتل ، زیادتی یا اغوا کرنا وغیرہ۔دیکھا جائے تو ان تمام مظالم کی ابتدا گھریلو تشدد سے ہی جنم لیتی ہے۔عورت کے دم سے ہی قو میں تر قی کر تی ہیں عو رتوں پر ظلم و ستم نا صر ف سماجی و قانونی لحاظ سے غیر اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی ایک غلط کام ہے۔عورت کے بغیر تو ہمارا معاشرہ ہی نامکمل ہے خواتین پر ظلم و ستم صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے مہذب ممالک میں بھی ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان پختونخوا قومی جرگہ میں میں اکیلی آئی تھی اور محنت کرکے خواتین کو آگاہی اور شعور دیا آج درجنوں خواتین کو اس میں رجسٹرڈ ہوگئی ہیں اور مزید بھی ہورہی ہیں جس کی وجہ خواتین نے اپنے حقوق کے لئے لڑنا سیکھا،جسںکا سارا کریڈٹ پختونخوا قومی جرگہ خواتین ونگ کو جاتا ہے،میں نے اکیلے یہ سفر شکر کیا تھا اور قافلہ بن گیا یے،ہمیں خواتین کو مزید آگاہی اور شعور دینا ہوگا تاکہ پختونخوا قومی جرگہ خواتین ونگ مزید مضبوط ہو،ہمارے جیتنے مرد ممبران ہے وہ بھی اپنے گھروں کے خواتین کو اس پختونخوا قومی جرگہ خواتین ونگ میں رجسٹرڈ کریں تاکہ ونگ کے ساتھ وہ بھی شامل بشانہ کھڑی ہو،انہوں نے کہا کہ پشتون معاشرے میں جرگہ ایک ادارے کی حیثیت رکھتا ہے،جہاں باہمی تنازعات کو حل کیا جاتا ہے،تاہم جرگوں میں بیشتر فیصلے مرد کرتے ہیں لیکن پختونخوا قومی جرگہ اپنی نوعیت کا واحد ایسا فورم ہے جہاں خواتین کے مسائل خواتین ہی حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔پختونخوا قومی جرگہ کے فورم سے خواتین کی طلاق،گھریلو تشدد اور دیگر مسائل کے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور انہیں قانونی معاونت فراہم کی جاتی ہے،آخر میں جرگہ کے روشن مستقبل اور عوام کے مسائل و وسائل پر کام کیا جاسکےاور موجودہ چیلنجز کو مد نظر رکھتے عوام کی خدمت کسی بھی مفادات سے بالا تر ہوکر کام کرسکے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاسکے،جرگہ پلیٹ فارم کی رجسٹریشن،خواتین کے ڈیزیگنیشن،مستقبل میں جرگہ کی مضبوطی کے حوالے سے بھی تجاویز دی،اجلاس میں مختلف کونسلز میں مزید توسیع اور کارکردگی کے جائزے سمیت نئے کونسلز جس میں میڈیکل کونسل،پولیس کونسل،ریونیو کونسل، ووکیشنل کونسل،بائیو ڈائورسٹی کونسل،ائمہ کونسل،تعلیمی کونسل کے قیام کی منظوری،سرکردہ ،باثر مشران اور ائمہ مساجد سے رابطہ مہم میں توسیع حوالے سے گفت و شنید ہوئی۔