*ستائیسویں اور اٹھائیسویں پارے کا خلاصہ* ہفتہ 28 رمضان المبارک 1446ھ انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*ستائیسویں اور اٹھائیسویں پارے کا خلاصہ*
ہفتہ 28 رمضان المبارک 1446ھ
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*ستائییسویں پارے کا خلاصہ*
ستائیسویں پارے کا آغاز سورت اَلذَّارِیَات سے ہوتا ہے
اَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّیطٰنِ الَّرجِیمِ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی بتایا ہے۔ ارشاد ہوا کہ نہ تو مجھے ان سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھانا مانگا ہے ۔
اس کے بعد *سورت طور* ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ، بیت معمور، بلندو بالا آسمان ،سمندر کی لہروں اور کتاب مقدس کی قسم اٹھا کر کہا ہے کہ قیامت کا دن ضرور
آئے گا اور اس دن پہاڑ چلنے لگیں گے۔ اس دن یوم جزا کو جھٹلانے والوں کو جہنم کی آگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کو کہا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔
پھر فرمایا کہ اہل تقویٰ جنت اور نعمتوں میں پروردگار کی عطاؤں سے بہرہ مند ہو رہے ہوں گے اور ان کارب ان کوعذاب جہنم سے بچالے گا۔
ان سے کہاجائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے جوجی چاہے کھاؤ اورپیو اور وہ ایک دوسرے سے جُڑے قطار میں بچھے تختوں پر ٹیک لگائے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کشادہ آنکھوں والی حوریں ان کی زوجیت میں د ے گا اور اہل ایمان کی اولاد نے بھی اگر ایمان اوراعمالِ صالحہ میں اپنے آبا کی پیروی کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کی اولاد کو ان سے ملادیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو(معاذ اللہ) کاہن تھے اور نہ ہی شاعر۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر کافر اپنے الزامات میں سچے ہیں تو ان کو چاہیئے کہ قرآن مجید جیسی کوئی بات پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو صبر کی تلقین بھی کی اور کہا کہ آپ اپنے پروردگار کے حکم پر صبر کریں بے شک آپ میری آنکھوں کے سامنے ہیں یعنی جو صبر بھی رسول اللہ ﷺ کریں گے اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی آگاہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اورمعیت ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے ۔
سورہ طور کے بعد سورۃ النجم ہے۔ اس سورت میں پروردگار عالم نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تک کوئی کلام نہیں کرتے جب تک مالک کائنات ان پر وحی کا نزول نہیں فرماتے ۔اس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے سفر معراج کا بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ انہوں نے سفر معراج میں اپنے پروردگار کی بہت سی نشانیاں دیکھیں۔ فرمایا کہ کیا جو میرے بندے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تم اس پر شک کرتے ہو؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کفر کے اس باطل عقیدے کابھی ذکر کیا کہ وہ فرشتوں کوعورتیں قرار دیتے تھے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جولوگ آخرت پرایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کوعورتیں قرار دیتے ہیں اوران کے پاس اس حوالے سے کچھ بھی علم نہیں وہ لوگ صرف وہم اورگمان کی پیروی کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ کبیرہ گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے گا ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کابھی ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو اس وقت سے جانتے ہیں جب ان کے خمیروں کو مٹی سے اٹھایا گیا اور جب وہ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی شکل میں موجود تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں اور موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی وحی کے اہم مضامین کا ذکر کیا کہ ان صحیفوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمادیا تھا کہ بے شک انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور وہ اپنی کوشش کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا ۔آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو قرآن مجید پر تعجب کرتے ہیں اور رونے کی بجائے ہنسی مذاق میں اپنا وقت بتا رہے ہیں اور موسیقی سننے میں اور دیگر لغویات میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔
اس کے بعد *سورت القمر* ہے جس کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت قریب آگئی اورچاند پھٹ گیا۔شقِ قمرکا واقعہ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے تقریباً پانچ برس قبل رونما ہوا اور چاند جبل حرا کے دونوں طرف ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی کو دیکھ کر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کافر ایمان لے آتے لیکن وہ سرکشی پرتلے رہے جس پر اللہ تعالی نے اعلان فرمادیا کہ کفار اگر کوئی نشانی دیکھتے ہیںت و منہ پھیرلیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قوم نوح ، قوم لوط کا، قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کیا کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو سمجھنے والوں کے لیے آسان بنا دیا پس ہے کوئی جو نصیحت کو حاصل کرے ۔
اللہ تعالی نے متقیوں کے مقام کا ذکر کیا کہ بے شک پرہیزگار لوگ جنت اور نہروں میں ہوں گے اپنے حقیقی گھروں میں مقتدر بادشاہ کے پاس۔ اس کے بعد *سورہ الرحمن* ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ رحمن نے قرآن مجید سکھلایا، انسان کو بنایا اور اس کو بیان کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اسی نے آسمان بنایا اور ترازو قائم کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسانوں کو چاہیے کہ ترازو کو صحیح طریقے سے قا ئم کیا کریں اور تولنے میں کوتاہی نہ کیا کریں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق کا بھی ذکر کیا اور اس میں مختلف طرح کے پھلوں اور خوشبوؤں کو پیدا فرمایا اور انسانوں اور جنات کو مخاطب ہو کر کہاکہ تم دونوں گروہ پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔ اللہ تعالی نے اس سورت میں جنت کے حسین مناظر کو بیان کیا کہ جو شخص اپنے رب کے مقام سے ڈرتا ہے اس کے لیے دوباغ ہیں وہ دونوں باغ سبز شاخوں والے ہوں گے۔ سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے بابرکت ہونے کا بھی ذکر کیا ہے ۔
سورہ الرحمن کے بعد *سورہ واقعہ* ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تین گروہوں کا ذکر کیا ۔ایک گروہ مقربین کا دوسرا عام جنتیوں کا اورتیسرا گروہ جہنمیوں کا ہے ۔مقربین کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتیں تیار کی ہیں جبکہ عام جنتی بھی اللہ تعالیٰ کی عنایات پر شاداں و فرحاں ہوں گے جبکہ جہنمیوں کو تھوہر کا درخت کھانا پڑے گا ۔اس کے بعد سورۃ الحدید ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا ذکر کیا کہ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی اور وہ ہر چیز کوجاننے والا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓکی دو جماعتوں کا بھی ذکر کیا کہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لانے والے صحابہؓ کا مقام فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن دونوں گروہ جنتی ہیں۔پھر اللہ تعالی نے اہل کتاب کی ایمانی حالت کا بھی ذکر کیا کہ کتاب کے نزول کا ایک عرصہ بعد ان کے دل سخت ہوگئے اور ان کی اکثریت گناہ گار ہوگئی۔ اللہ تعالی اہل ایمان کوتلقین فرماتے ہیں کہ ان کی مانند مت ہو جانا۔
*الدعاء*
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔
آمین یا رب العالمین
*اٹھائیسویں پارے کا خلاصہ*
اَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّیطٰنِ الَّرجِیمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرحیم
قرآن پاک کے اٹھائیسویں پارے کا آغاز سورہ مجادلہ سے ہوتا ہے۔
سورہ مجادلہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللّٰہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ جن کے شوہر نے ناراضگی میں ان کو کہہ دیا تھا کہ تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔ وہ اس معاملے پر رہنمائی حاصل کرنے کے لیے رسول کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے بھی اس مسئلے پر رخصت دینے سے انکار فرما دیا (سیدہ خولہ رضی اللّٰہ عنہا نے اس مسئلے پر آپ ﷺ سے مزید بات کرنا چاہی تو نبی کریمﷺ نے ان سے اعراض کرلیا) اس پر سیدہ خولہ رضی اللّٰہ عنہا نے بارگاہ رب العٰلمین میں دعاء مانگی کہ اے اللہ! اس سلسلے میں میری مدد فرما۔ اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ رضی اللّٰہ عنہا کی فریاد کو سن لیا اور حضرت رسول کریم ﷺ پر وحی کو نازل فرمایا کہ اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو آپ ﷺ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث کر رہی تھی اور اللہ تعالیٰ آپ دونوں کا مکالمہ سن رہا تھا۔ بے شک اللہ خوب سننے اور بڑا دیکھنے والا ہے ۔ اس کے بعد اللہ نے ”ظہار‘‘ کے کفارے کے لیے حکم نازل فرما دیا کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ”ظہار‘‘ کرلیں اورپھر اپنی کی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو انہیں یا تو ایک غلا م آزاد کرنا ہوگا یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے ہوں گے اور ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے محبت اور نفرت کا معیار بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں کہ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دشمن کے بارے میں محبت ہو ۔جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لیے محبت ہے وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے نفرت کرتا ہے چاہے وہ اس کا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔
سورہ مجادلہ کے بعد سورہ حشر ہے۔ سورہ حشر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو رسول اللہ ﷺ عطا کرتے ہیں اس کو لے لیا کرو اور جس سے روکتے ہیں اس سے رک جایا کرو۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے تین طبقوں کا ذکر کیا ہے ۔ایک طبقہ وہ کہ جنہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے ہجرت کی اور اپنے گھر بار اور اموال کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور خوشنودی کے حصول کے لیے خیر باد کہہ دیا اور دوسرا طبقہ انصاری صحابہ کا تھا جو مہاجرین سے محبت کرتے تھے اور ان کو دیئے گئے مال کے بارے میں اپنے دل میں معمولی سی تنگی بھی محسوس نہیں کرتے تھے اور انہیں اپنے آپ پر ترجیح دیتے تھے چاہے انہیں خود تنگی کا سامنا کرنا پڑتا۔اور تیسرا طبقہ مہاجرین اور انصار کے بعد آنے والے اہل ِایمان کا تھا جنہوں نے مہاجرین اور انصار صحابہ کرام کے لیے یا اپنے سے پیشتر دنیا سے چلے جانے والے مومنوں کے لیے دعا مانگی کہ اے ہمارے رب! تُو ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے بارے میں کینہ پیدا نہ فرما بے شک تو بڑی شفقت اور رحم کرنے والا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن مجید کو کسی پہاڑ پر نازل فرماتے تو پہاڑ اللہ تعالیٰ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا اور ان مثالوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ غور و فکر کرنے والوں کے لیے بیان فرماتے ہیں۔
سورہ حشر کے بعد سورہ ممتحنہ ہے۔
*سورت ممتحنہ۔*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اسلام کے دشمنوں سے برأت کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ سلام اور ان کے ساتھیوں کے کردار کو نمونے کے طور پر اہل ایمان کے سامنے رکھا ہے کہ جنہوں نے مشرکوں اور غیر اللہ کے پچاریوں سے کامل برأت کا اظہار کیا۔ اس سورت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ بھی بتلایا ہے کہ وہ کافر جو مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اور ان کے خلاف سازشیں نہیں کرتے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے اور جو کافر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں ان کے ساتھ سختی والا معاملہ کرنا چاہیے۔ اس سورت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمان عورتوں کے نکاح کو کافر مردوں کے ساتھ ناجائز قرار دیا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ اگر کافر عورت ہجرت کر کے اہل ایمان کے پاس آجائے تو اہل ایمان کو حق مہر ادا کرنے کی صورت میں اس عورت کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت ہے ۔
اس کے بعد سورہ صف ہے۔
*سورہ صف*
اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اللہ کے راستے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں ۔اس سورت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو کہا تھا کہ تم مجھے کیوں تکلیف دیتے ہو جب کہ تمہارے علم میں ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ جب وہ سیدھے راستے پر نہ آئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا ۔
اس کے بعد سورہ *جمعہ* ہے۔سورہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے ان علماء کا ذکر کیا ہے جو توریت کو پڑھتے تو ہیں ‘لیکن اس پر عمل نہیں کرتے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے گدھے پر کتابوں کو لاد دیا جائے ۔جو کہ کتابوں کا بوجھ تو اٹھا سکتا ہے لیکن اس کے معنی اور مفہوم کو سمجھ نہیں سکتا۔اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جمعہ کے آداب بتلائے ہیں کہ جب جمعہ کی اذان ہو تو کاروبار چھوڑ کر فوراًجمعہ کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیے اور جب جمعہ کی نماز کو ادا کر لیا جائے تو کاروبار کرنے کی اجازت ہے۔ سورہ جمعہ کے بعد سورہ *منافقون* ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا کہ منافق رسول ﷺ کے پاس آکے زبان سے شہادت دیتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ کو پتا ہے کہ آ پ اس کے رسول ہیں لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹ بولتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر کیا کہ دنیا کا مال دولت اور ان کے جسموں کی کیفیت دیکھ کر انسان متاثر ہو تا ہے لیکن منافقوں کے لیے آخرت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے بعد سورہ *تغابن* ہے۔ سورہ تغابن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے حکم سے آتی ہے اور جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی فرما دیتے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس حد تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کے ڈر کو اختیار کرنا چاہیے ۔
اس کے بعد سورہ *طلاق* ہے۔
*سورہ طلاق*
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
سورہ طلاق میں اللہ تعالیٰ نے طلاق کی مختلف عدتوں کا ذکر کیا ہے کہ بوڑھی عورت کی عدت تین ماہ ہے جبکہ عام عورت کی عدت تین حیض ہے جبکہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے فوائد کا بھی ذکر کیا کہ جو تقویٰ کو اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تنگیوں کو دور فرماتے ہیں اس کے معاملات کو آسان فرماتے ہیں اور اس کو رزق وہاں سے دیتے ہیں جہاں سے انسان گمان بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد سورہ *تحریم* ہے۔
*سورہ تحریم*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کو ایمان و عمل سے مشروط کیا ہے اور ازواج ِ مطہرات اور اہل ایمان کو سیدنا نوح اور سیدنا لوط کی بیویوں کا حوالہ دیا ہے کہ وہ نبیوں کی رفاقت میں رہ کر بھی اپنی بد عملی کی وجہ سے ناکام ہوگئیں اور ان کے
مدمقابل فرعون کی بیوی آسیہ سلام اللّٰہ علیہا اور سیدہ مریم سلام اللّٰہ علیہا کامیاب رہیں کہ جنہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بندگی کو اختیار کیا اور اپنے کردار کو ہر طرح کی آلودگی سے بچالیا۔
*الدعاء*
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
ستائیسویں اور اٹھائیسویں سپارے کا خلاصہ