زاہد اکرام کے قلم سے…
*وزیر تعلیم پنجاب ، رانا سکندر*
صوبائی وزیر تعلیم کا تعلق ایک بہت بڑے سیاسی گھرانے سے ہے۔ آپ ایک بہت بڑے پیڑ کی شاخ ہیں ۔ رانا محمد اقبال جن کو سدا بہار ایم پی اے کہا جاتا تھا دو بار مسلسل صوبائی اسمبلی کے سپیکر رہے ہیں ۔ جو آپ کے چچا ہیں ۔ آپ کے والد رانا حیات صاحب رکن قومی اسمبلی خدمت اہل علاقہ کی وجہ سے اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔
محکمہ تعلیم پنجاب تقریباً پنجاب کا سب سے بڑا محکمہ ہے جس کو کامیابی سے چلانا مشکل ہی نہیں بعض اوقات ناممکن بھی نظر آتا ہے ۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پنجاب کے سکولز میں رجسٹر طلبہ کی تعداد 11،430،819 ہے ۔ جس میں حالیہ میٹرک کے نتائج کے بعد یقیناً اضافہ ہوگا۔
مگر مسکراتے چہرے ، لگاتار مشاورت ، ذاتی دانش، قائدانہ صلاحیت اور مسلسل کار ہاۓ شعبہ سر انجام دیتے ہمارے وزیر تعلیم “مقدر کے سکندر کی بجاۓ اساتذہ پنجاب کے مقدر کے سکندر” بنتے نظر آ رہے ہیں ۔
رانا صاحب نے ایسا کیا کام کر لیا ہے جو ان کے بارے میں لازمی طور پر پوسٹ کرنی چاہیے تھی۔
یہ پہلے وزیر ہیں جنہوں نے آفٹرنون سکولز سٹاف اور کیئر گیورز کے حقوق کو تسلیم کیا۔
آفٹرنون سٹاف کے معاوضہ میں اضافہ کا وعدہ کیا جو پچھلی حکومت نے 4 سال میں ایک روپیہ بھی اضافہ نہ کیا
1۔ نقل مافیا کو میٹرک اور انٹر 2024 کے امتحانات میں وزیر موصوف اور ان کی ٹیم نے “کھُڈے لائن” لگا دیا ہے۔
2. میرے مشاہدے میں آنے والے پہلے وزیر ہیں جو ہر پالیسی میٹر matter میں اساتذہ سے نا صرف مشورہ کرتے ہیں بلکہ ان کی مشاورت کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ اس طرح ایک inclusive and interactive development model کو لے کر چل رہے ہیں
3. وزیر صاحب سے بات کرنے کے لیے “زنجیر سکندری” کو جنبش دینا یا کسی سفارش کو بروۓ کار لانا ضروری نہیں ہے ۔ کوئی بھی استاد آپ سے کہیں بھی مل سکتا ہے آپ ایک عوامی وزیر ثابت ہوۓ ہیں۔(میں خود 8 بار وزیر موصوف سے ملاقات کر چکا ہوں اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں)
5. پنجاب کے دور دراز دیہاتوں اور قصبوں کے محنتی اساتذہ کی ایک فیس بک FACEBOOK پوسٹ پر انعامات کا اعلان کرنا اور ان کی یہ حوصلہ افزائی بظاہر غیر ممکن معلوم ہوتی تھی ۔ لیکن انہوں نے ایسا کر کے دکھایا ہے ۔ (رسول پور تارڑ سکول حافظ آباد اس کی ایک مثال ہے)
6. اساتذہ کو پروموشن ، ٹرانسفر پوسٹنگ کا وعدہ تو کیا ہے اور اس کے لیے پالیسی میں اساتذہ کی ترجیحات کو شامل منصوبہ بندی کیا ہے
7. آئ ٹی سیکٹر کو شعبہ تعلیم میں نا صرف مشمول کیا ہے بلکہ گوگل کے سی ای او سے معاہدہ کر کے شاید لاہور میں گوگل سٹی قائم کیا ہے
8. طلبہ کے درمیان بین الاقوامی مقابلہ مضامین کا انعقاد کروایا۔
9. پنجاب کے تمام سکولز کی rehabilitation کا منصوبہ زیر کار ہے
اور بھی بہت سے کام یہاں بتائے جا سکتے ہیں مگر کچھ گوشےایسے بھی ہیں جن کی طرف آپ جناب کی توجہ سے بہتری لائی جا سکتی ہے
*1آفٹرنون سکولز کے ذریعے حکومت ایلیمنٹری لیول تک طلبہ و طالبات کو کفایت شعاری سے تعلیم جیسا بنیادی حق دینے میں کامیاب ہے اس پروگرام پر خصوصی توجہ اور تنخواہوں کی ادائیگی میں التوا کا مسئلہ حل کر کے مزید بہتر کیا جا* سکتا ہے
2 *آفٹرنون سکولز اچھی تعداد رکھتے ہیں ہیں یہ سکولز کم خرچ میں بہتر تعلیم دینے کے قابل ہیں اس لیے ان سکولز کو* PEF *کو نہ دینے کا وعدہ کر چکے ہیں مگر ابھی تک عملی طور پر اس کے آثار نظر نہیں آ رہے متعلقہ اتھارٹیز کو یہ سکولز* out source *والی لسٹ سے نکالنے کے نہ صرف فورآ احکامات جاری کریں بلکہ اس پر عمل بھی کروائیں*
3.اساتذہ کی ٹریننگ یا اعلی تعلیم کے لیے سکالرشپ پر باہر کی جامعات سے معاہدے کیے جائیں۔ اور مخصوص (بہ مطابق سرکاری وسائل) اساتذہ کو ہر سال صوبے کی patronship پہ اعلیٰ تعلیم دلوائی جائے
4. ساٹھ سال کی عمر میں جب ملازم ریٹائر ہوتا ہے تو ضعیف انسان کی داد رسی کے لیے آسمان پہ اللہ تعالٰی اور زمین پہ سرکار اس موجود ہوتی ہے ۔ آپ سے التماس ہے کہ ایسی پالیسی بنائ جاۓ کہ عمر کے تیس پینتیس قیمتی سال سرکاری نوکری کو دینے والا ریٹائر ملازم اشکبار نا ہو۔
5.اس وقت پنجاب کا نصاب آکسفورڈ کی ٹکر کا نصاب ہے کہ جہاں پہلی اور دوسری کلاس میں انگریزی لسانیات linguistic کے بنیادی concepts موجود ہیں ۔ ضروری امر ہے کہ اساتذہ کی سال میں کم از کم ایک مرتبہ نصاب کے حوالے سے ٹریننگ کروائ جاۓ۔
یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے
ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے
(خلیل الرحمن انجم صاحب کی تحریر تھوڑی تبدیلی کے بعد)
زاہد اکرام ہنجرا
چیئرمین آفٹرنون یونین پنجاب
0301-4782956