قصور
موجودہ حکومت صحت سہولیات میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے دس لاکھ کی آبادی والے شہر قصور میں موجود واحدبابا بلھے شاہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ادویات کی شدید قلت کا شکار مریضوں کے لواحقین سمیت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر بھی پریشان،جبکہ ایم ایس ڈاکٹر نیاز صادق نے کہا ہے کہ ہماری طرف سے فری ادیات سمیت تمام سہیولیات مریضوں کو دی جارہی ہیں
بلھے شاہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا نام تبدیل کرنے پر کروڑوں روپے اسٹیشنری پر خرچ کر دیئے گئے ہیں مگر ہسپتال میں بچوں کے لئے صرف ایک سے دو سیرپ کے علاوہ کسی بھی قسم کی دوائی موجود نہیں غریب بچوں کے ورثاء بازار سے ادویات خریدنے پر مجبور ہیں
اسٹچینگ ٹیپ سمیت ایمرجنسی وارڈ میں زندگی بچانے والی ادویات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں بچوں کے ورثاء کے مطابق بچہ وارڈ میں استعمال کئے جانے والے انجیکشن کی وجہ سے کئی بچوں کو ری ایکشن بھی ہو چکا ہے دس لاکھ کی آبادی والے واحد ہسپتال کا آگر یہ حال ہے تو پنجاب حکومت کی صحت پالیسی کہاں پر ہے
شہریوں کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسسز کا بوجھ عوام پر لاد دیا گیا ہے مگر لوگ تعلیم پرائیوٹ سکولوں میں حاصل کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ہسپتال میں میڈیسن نہیں وہ بھی بازار سے خریدیں،پینے کا صاف پانی خود خریدیں،صفائی کا مسئلہ ہو تو سویپر کو منتھلی دو اگر سب جیب سے ہی کرنا ہے تو حکومت اتنے بھاری بھرکم ٹیکس کا بوجھ خوامخواہ میں عوام پر کیوں ڈال رہی ہے؟
شہر کی سیاسی سماجی اور فلاحی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلھے شاہ ڈسٹرکٹ ہسپتال پر خصوصی توجہ دی جائے اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے نیز ہسپتال عملے کو متحرک کیا جائے تاکہ اپنے فرائض کو بخوبی انجام دیں ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور کے ایم ایس ڈاکٹر نیاز صادق کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش رہتی ہے کہ محکمہ ہیلتھ کی جانب سے جتنی ادویات فراہم کی جاتی ہیں وہ مریضو ں کو بروقت دی جائیں اور ہم وزیر اعلیٰ پنجاب سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ جو ادویات ہسپتال میں موجود نہیں وہ بھی فراہم کی جائیں تاکہ مریضوں کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے
*بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈ*
*امریکی حکام کی تحویل سے رہا مزید 22 ایرانی شہری کراچی پہنچ گئے، وطن واپسی کے انتظامات جاری: اسحاق ڈار*
*اب آیا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے*
30 جون 2026: غیر قانونی افغان مہاجرین کے لیے پاکستان چھوڑنے کی آخری مہلت —
*امریکا کے ایران پر فضائی حملے، ڈرون اسٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا*