دنیا میں مظلوم پس رہے ہیں، انسانیت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے، اپنی سدابہار سالگرہ پر غریب، یتیم، مسکین بچوں کے ساتھ رسول بخش رحیمدانی کی صحافیوں سے بات چیت
دنیا میں مظلوم پس رہے ہیں، انسانیت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے، اپنی سدابہار سالگرہ پر غریب، یتیم، مسکین بچوں کے ساتھ رسول بخش رحیمدانی کی صحافیوں سے بات چیت
عمرکوٹ ( رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف) دنیا میں مظلوم پس رہے ہیں، انسانیت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے، اپنی سدابہار سالگرہ پر غریب، یتیم، مسکین بچوں کے ساتھ رسول بخش رحیمدانی کی صحافیوں سے بات چیت، تفصیلات کے مطابق رسول بخش رحیمدانی نے اپنی سالگرہ سادگی سے منانے کا اعلان کیا ہے اور ایسا پیغام دیا ہے جو دانا اور سچائی سے محبت کرنے والے افراد سمجھ سکتے ہیں۔ سندھ کے نامور ادیب، محقق، اسپورٹس مین اور پریس کلب عمرکوٹ کے لیے سب کچھ کرنے والے رسول بخش رحیمدانی کی سالگرہ سندھ کے کونے کونے میں دوست اور چاہنے والے کیک کاٹ کر مناتے تھے۔ ان کی سالگرہ کے سادگی کے اعلان کے بعد دوستوں اور چاہنے والوں نے سوشل میڈیا پر سالگرہ کی مبارکباد کے پیغامات کی بھرمار کی اور یہ ایک انسانیت سے محبت کرنے والے درویش صفت انسان رسول بخش رحیمدانی کے کردار کی سچی اور محبت بھری تصویر نظر آئی۔رسول بخش رحیمدانی نے کہا کہ دوستوں صحافیوں اور ہمدردوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری سالگرہ پر مجھے محبت اور پیار دیا اور سالگرہ کی مبارکباد دی۔ ان کا میں دل و جان سے شکر گزار ہوں۔ نامور سماج سدہارک، ادیب، محقق، اسپورٹس مین اور صحافی رسول بخش رحیمدانی نے اپنی سالگرہ کی خوشیاں غریب، یتیم اور مسکین بچوں کے ساتھ گزاریں۔ اس موقع پر اپنے دوست صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں انسانیت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے، جھوٹ عروج پر ہے، دکھ کا شکار غریب انسانوں کے لیے محبت اور پیار کرنے والے بہادر اور غیرت مند سچے انسانوں اور بڑے شخصیات کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ دکھاوے کا غلبہ ہے، لیکن مجھے یہ نظر آ رہا ہے کہ دنیا میں آفات، مصیبتیں اور پریشانیاں بے قابو ہو چکی ہیں جو ممالک اپنی قوموں کو انصاف فراہم نہیں کر سکتے اور خدا کا خوف نہیں کھاتے، جھوٹ کو شاندار تاج پہناتے ہوئے آگے بڑھاتے ہیں، یہ معاشرت کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ میں نے اپنی سالگرہ سادگی سے منائی اور کئی سوالات اٹھائے ہیں جو آگے جا کر معاشرے میں ایک سبق بنیں گے۔ میں غریب خاندانوں کے نوجوانوں سے اپیل کروں گا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں، سچائی، بہادری اور غیرت کے ساتھ آگے بڑھیں، محنت کریں اور اپنے حقوق کی حاصل کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ یہ دور بیٹھ کر کسی کے پیچھے چلنے اور ہاتھ باندھ کر خاموش رہنے کا نہیں، بلکہ ایک حقیقی انقلاب کی طرف بلانے کا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ سندھ کا نوجوان بیدار ہو گا اور غلامی کی زنجیریں توڑ کر حقیقت کی خوبصورتی میں ایک اہم اور انمول قوم کو تحفہ دینے کی کوشش کرے گا۔