August 30, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔ اپکیتحریر۔دعا آن لاین نیوز پر خودمختاری کی قیمت: یوکرین کا سبق، پاکستان کی سلامتی اور شہید بھٹو کی قربانی!

IMG-20250301-WA0320
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سکھر
بیورو چیف
سید نصیر حسین زیدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔
اپکیتحریر۔دعا آن لاین نیوز پر
خودمختاری کی قیمت: یوکرین کا سبق، پاکستان کی سلامتی اور شہید بھٹو کی قربانی!

تحریر؛ اظہر علی اعوان
چیئرمین یوسی 9، TMC-II سکھر

زندگی ہمیشہ اپنے بل بوتے پر گزاری جاتی ہے، اور قومیں بھی اپنی خودمختاری اور وسائل پر انحصار کرتے ہوئے ترقی کرتی ہیں۔ جو ممالک اپنی بقا اور سلامتی کے لیے دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں، تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی دھوکہ ضرور کھاتے ہیں۔ یوکرین کی حالیہ صورت حال اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے۔
جب 1991 میں سوویت یونین کا خاتمہ ہوا تو یوکرین کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ایٹمی ذخیرہ موجود تھا۔ اس کے پاس 1,900 ایٹمی وار ہیڈز، جدید ایٹمی میزائل اور تقریباً 600 فضائی لانچ کیے جانے والے ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے۔ لیکن پھر امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی طاقتوں کے دباؤ پر یوکرین نے 1994 میں بڈاپسٹ میمورنڈم Budapest Memorandum پر دستخط کیے، جس کے تحت اس نے اپنے تمام جوہری ہتھیار روس کے حوالے کر دیے۔ اس کے بدلے میں، امریکہ، برطانیہ، اور روس نے یوکرین کی سالمیت اور خودمختاری کی ضمانت دی۔ لیکن آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ یوکرین ان ہی طاقتوں کے بھروسے پر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور کس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو دھمکی دی کہ اگر امریکہ نے حمایت ختم کر دی تو یوکرین کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہ حالات ہمیں ایک بڑی حقیقت کا احساس دلاتے ہیں کہ دنیا میں طاقتور ہمیشہ طاقتور رہتا ہے اور کمزور ہمیشہ دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اگر یوکرین کے پاس آج بھی چند ایٹمی ہتھیار ہوتے تو شاید نہ روس پر حملہ کرنے کی ہمت کرتا، نہ ہی کوئی مغربی طاقت اسے نظر انداز کر سکتی۔ اس مثال کو دیکھتے ہوئے ہمیں بطور پاکستانی یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ہمارے عظیم قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید پاکستان کو ایٹمی طاقت نہ بناتے، تو آج ہمارا حال بھی یوکرین جیسا ہو سکتا تھا۔
قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے 1974 میں کہ دیا تھا کے “ہم گھاس کھا لیں گے، لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے!” – یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک عظیم عزم تھا، جو پاکستان کو ایک ناقابلِ تسخیر دفاع دینے کا باعث بنا۔ بھٹو صاحب کی قیادت میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک مشکل لیکن تاریخ ساز سفر تھا، جو نہ صرف اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار رہا بلکہ بھٹو صاحب کو اپنی جان کی قربانی بھی دینا پڑی۔
1971 کے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد، پاکستان کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے واضح کر دیا کہ ایک مضبوط دفاع کے بغیر قومی سالمیت ہمیشہ خطرے میں رہے گی۔ اس وقت وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 20 جنوری 1972 کو ملتان میں پاکستان کے مایہ ناز سائنسدانوں اور انجینئرز کا اجلاس بلایا اور اعلان کیا کہ پاکستان ہر صورت ایٹمی قوت بنے گا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے باضابطہ طور پر ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ بھٹو صاحب جانتے تھے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام مغربی دنیا کو کبھی قبول نہیں ہوگا۔ اسی لیے انہوں نے سفارتی محاذ پر بھی بھرپور جدوجہد کی۔ 1976 میں بھٹو صاحب نے چین کا دورہ کیا اور چینی قیادت سے جوہری تعاون حاصل کیا۔ چین نے خفیہ طور پر پاکستان کی مدد کی، جس نے پروگرام کی رفتار کو تیز کیا۔ بھٹو صاحب نے لیبیا، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی اسلامی ممالک سے بھی مالی اور تکنیکی مدد حاصل کی ۔ امریکہ اور مغربی طاقتوں نے بھٹو صاحب پر دباؤ ڈالا کہ وہ ایٹمی پروگرام بند کر دیں۔ 1976 میں، امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے قائد عوام کو دھمکی دی:
“ہم تمہیں عبرتناک مثال بنادےگیں” لیکن اس کے باوجود بھی بھٹو صاحب اپنے عزم پر مضبوط چٹان کی طرح ڈٹے رہے اور پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ حتیٰ کے 1977 میں، ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا اور بھٹو صاحب کو اقتدار سے ہٹا دیا اور 1979 میں، بھٹو صاحب کو مغربی طاقتوں کے کہنے پر ایک متنازعہ مقدمے میں پھانسی دے دی گئی، لیکن تب تک ان کا لگایا ہوا بیج ایک تناور درخت بن چکا تھا۔
آج ان کی بصیرت اور قربانی کی بدولت پاکستان ایک ناقابل تسخیر ملک بن چکا ہے۔ ہماری سیاسی، معاشی اور اندرونی مشکلات کے باوجود بھی دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ طاقت ہے جو ہمارے دفاع کو ناقابل تسخیر بناتی ہے۔
یوکرین کی موجودہ صورت حال ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ قومی سلامتی اور دفاع کسی بھی قوم کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ دوسروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے خود کو مضبوط بنانا ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ آج کا دن اس حقیقت کو تسلیم کرنے اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو سمیت ان تمام عظیم شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔ ہم آج بھی آزاد ہیں اور محفوظ ہیں، کیونکہ ہم نے اپنی طاقت دوسروں کے حوالے نہیں کی۔ پاکستان زندآباد۔ بھٹوازم پائندہ آباد

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0