September 30, 2026

نیسلے کے ملازم نے انصاف میں تاخیر پر لاہور ہائیکورٹ

20250228_180229

نیسلے کے ملازم نے انصاف میں تاخیر پر لاہور ہائیکورٹ
کے احاطے میں خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی
آصف جاوید کبیر والا (ضلع خانیوال) میں نیسلے کمپنی کا ملازم تھا۔

کمپنی نے اسے 2016 میں نوکری سے نکال دیا۔

وہ کمپنی کے فیصلے کے خلاف لیبر کورٹ میں گیا۔

لیبر کورٹ نے اسے 2019 میں نوکری پر بحال کر دیا۔

کمپنی نے لیبر کورٹ کے فیصلے کو قومی صنعتی تعلقاتی کمیشن ( NIRC) میں چیلنج کر دیا۔

23 نومبر 2020 کو NIRC نے بھی لیبر کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ملازمت پر بحال رکھا۔

دسمبر 2020 میں کمپنی نے NIRC کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

دسمبر 2020 سے کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا تھا۔

گزشتہ روز 25 فروری بروز منگل لاہور ہائیکورٹ نے کیس ایک بار پھر 8 اپریل 2025 تک ملتوی کر دیا۔ جس پر اس نے عدالت کے احاطے میں خود کو آگ لگا لی۔ اسے ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جہاں وہ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔

ظاہر ہے روزے آرہے ہیں۔ پھر عید آئے گی۔ جج صاحبان “ثواب کمانے” میں مصروف ہوں گے۔ انہیں اس سے کیا کہ آصف جاوید کے ہاں تو 2016 سے مسلسل روزے (فاقے) ہی چل رہے ہیں۔ رہی عید تو حبیب جالب بہت پہلے آصف جاوید ایسے محنت کشوں کے بارے میں کہہ گیا ہے:

لٹی ہر گام پر امید اپنی
محرم بن گئی ہر عید اپنی

یوں بھی آصف جاوید “منصفین” کو کیا دے پاتا جبکہ نیسلے ایسی ملٹی نیشنل کمپنیاں تو حج عمرے افطاریاں عیدیں، عیدوں کی گرینڈ شاپنگز اور قربانیاں تک سب کچھ سپانسر کرتی ہیں۔

کیا کہا؟ ملک کے کسی بھی اخبار میں آصف جاوید کے خود کو آگ لگانے کی خبر میں نیسلے کمپنی کا نام تک شائع نہیں ہوا؟ ارے آزادئ صحافت کے چیمپیئن پاگل تھوڑی ہیں اپنی روزی روٹی پر لات ماریں گے؟
اور پھر انہوں نے بھی تو “ثواب” کمانا ہے ناں!

کیا کہا؟ یہ کل کی فرنٹ پیج پر سب سے بڑی خبر تھی؟ “آزادی صحافت کے علمبرداروں” کی نظروں میں ایک مزدور کی کیا اوقات؟؟؟