September 30, 2026

بہاول نگر میں آئس نشے کا بڑھتا ہوا خطرہ، پولیس خاموش تماشائی

20250225_200152

بہاول نگر میں آئس نشے کا بڑھتا ہوا خطرہ، پولیس خاموش تماشائی

بہاول نگر (نمائندہ خصوصی) بہاول نگر کے شہریوں نے شہر میں بڑھتے ہوئے آئس نشے کے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تھانہ سٹی اے ڈویژن اور تھانہ سٹی بی ڈویژن کی حدود میں آئس ڈیلر کھلے عام منشیات فروخت کر رہے ہیں جبکہ پولیس کی خاموشی نے عوام کو مزید پریشان کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے، مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریزاں نظر آتے ہیں۔

شہریوں نے آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیں اور بہاول نگر میں سرگرم آئس فروشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ذرائع کے مطابق درج ذیل افراد اور مقامات پر آئس فروخت کی جارہی ہے:

ماڈل ٹاؤن نئی آبادی: اقبال عرف بالا، عثمان عرف عثمانی، شانی
نظیر خان روڈ: عاکوکا
نظام پورہ نزد حسن بیکری: ببلو
ماڈل ٹاؤن زیڈ بلاک: ساجد عرف بلی
غربی: وقاص نمبر 15
فاروق آباد گلی نمبر 7 شرقی: وسیم بھٹی
حسین آباد: زاہد
ماڈل ٹاؤن وٹو چوک: حسیب عرف صبا
کرسچن کالونی: سونیا
شہزاد گولی پراچہ: جٹو والا نزد وٹو کریانہ
گائیاں والا، جٹو والا: شوکت کھرل، صابر شیخ
چشتیاں چنگی، سید باغ علی شاہ نئی آبادی: باغ علی شاہ
قریشی کالونی: فوزیہ بی بی، روبینہ بی بی، لبنا بی بی
بگڑ والا کھوں: حاجی اختر بودلا
مدینہ ٹاؤن: رانا پیجی
اسلام نگر: الو ماچی، اصف
گلبرگ کالونی: فرحان بگو کا
کرسچن کالونی: چاند، بھٹو، آصف شاہ
مدنی کالونی: فرحان کانا، اعظم لمبا، قسائی حنا، عبداللہ ڈھڈی، ظفر سنارا
خزانہ آفس: بلال (مہاجر)
نظام پورہ نزد حسن محمود بیکری: عدنان بچھو
پولیس اہلکار: کاشف (مدینہ ٹاؤن)

شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آئس جیسے لعنتی نشے کی لت مزید نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سخت ایکشن لیا جائے اور آئس فروشوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔شہریوں کا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشانعلاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کئی بار پولیس کو نشاندہی کے باوجود کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی گئی۔ بعض ذرائع کے مطابق کچھ منشیات فروشوں کو مقامی بااثر شخصیات اور پولیس اہلکاروں کی پشت پناہی حاصل ہے، جس کے باعث وہ کھلے عام اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد کارروائی نہ کی گئی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔